Thursday, 25 February 2016

**پرده، عورت اور جنت**

**پرده، عورت اور جنت**
رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم نے فرمایا:
"عورتیں لباس پھننے کے باوجود بھی لباس کی باریکی اور تنگی کی وجه سے ننگی ھوں گی، ایسی عورتیں نا تو جنت کو دیکھ سکیں گی اور نا ھی جنت کی خوشبو کو محسوس کر سکیں گی"
[صحیح مسلم]
بعض روایات کے مطابق جنت کی خوشبو 500 سال کی مسافت سے آۓ گی- آپ خود اندازه لگا سکتے ھیں که انسان پانچ سو سال تک چلے تو کتنی دور پھنچ سکتا ھے-
عورت کے اس فساد کی وجه سے تین آدمی بھی جھنم میں جا سکتے ھیں
اس کا بھائی، اس کا باپ اور اس کا شوھر
کیوں که عورت پر یهی تین لوگ نگران ھیں ، اگر یه لوگ عورت کو سمجھائیں تو اس کی کیا مجال کے وه گھر سے سج سنور کے نکلے- عورت کی زینت صرف اس کے مرد کے لیے جائز ھے، تو کیا جب وه فیشن کے نام پر اپنا جسم ظاھر کرتی ھے تو وه لوگوں کو دعوت گناه کا کام نھی؟
ایک اور حدیث پاک ملاحظه فرمائیں:
حضرت ابو موسی اشعری رضی الله تعالی عنه سے روایت ھے که
نبی کریم صلی الله علیه وآله وسلم نے فرمایا:
"جو بھی عورت خوشبو لگا کر نا محرم مردوں کے پاس سے گذرے که وه اس کی خوشبو سونگھ لیں تو ایسی عورت زانیه ھے"
[سنن نسائی، 5126]
اس حدیث کا مھفوم میں نے اپنی بھن کو سنایا تھا جس نے خوشبو لگانا ھی چھوڑ دی جبکه پرده تو وه پھلے سے ھی کرتی ھے- الحمدالله
عورت اسلامی معاشرے کی اساس ھے جس کی عزت اور احترام پرده میں چھپی ھے- آج کل جتنے کپڑے جسم پر کم ھوں گے فیشن کو اتنا ھی زیاده سمجھا جاۓ گا اور عورت بھی اتنی ھی "آزاد" ھو گی- میں یه نھی کھتا که عورت کو بالکل ھی پنجرے میں بند کر دو، حضرت خدیجه رضی الله تعالی عنھما تجارت کیا کرتی تھیں اور بھت مالدار خاتون تھیں- اور وه پیغمبر پاک صلی الله علیه وآله وسلم کی ایسی محبوب بیوی تھیں که آقا دو جھان نے ان کے ھوتے ھوۓ دوسری شادی نا کی- تو کیا آج کی عورت بھی اتنی ھی حیا دار ھے؟
اس کا اندازه لگانا بھت آسان ھے، بنک، پرائیویٹ کمپنیز، اور دیگر جگھوں میں کام کرنے والی عورت کو دیکھ کر آپ شرم سے پانی پانی ھو جاتے ھیں-
عورت شیطان کا بھت کارآمد ھتھیار ھے، جس سے وه معاشرے میں انتھائی آسانی سے فساد پھیلا دیتا ھے-
میری محترم بھنوں، آپ سے انتھائی ادب سے درخواست ھے که الله کے لیے اپنے لباس کی حفاظت کریں ، اپنی حیاء کی حفاظت کریں ، دنیا چند روز کی ھے، اگر توبه نا کی تو جنت کی خوشبو بھی محسوس نھی ھو گی- آپ کا بھائی گڑ گڑا کے آپ کے آگے ھاتھ جوڑ کر آپ سے التجا کرتا ھے که اپنے آپ کو بدل دیں-کیوں که میں جانتا ھوں که اکثر بھنوں کو جب پرده کی دعوت دی جاتی ھے تو ان کا جواب یوں ھوتا ھے
"دل کا پرده ھونا چاھیے"
میرا ان جیسی بھنوں سے سوال ھے
"کیا آپ کے دل امھات المومنین سے زیاده پاکیزه ھیں؟
کیا آپ کے دل نبی محترم صلی الله علیه وآله وسلم کی پاک بیٹیوں سے زیاده پاکیزه ھیں ؟
صحابه کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین کی عورتوں سے زیاده پاکیزه ھیں ؟
یه سب وه نیک بیبیاں ھیں جن سے الله راضی تھے، تو کیا آپ الله کی ناراضگی لینا چاھتی ھیں ؟ کیا آپ کو مرنے کے بعد جنت نھی چاھیے؟ کتنی عبرتناک سزا ھے که ایسی عورتیں جنت کی خوشبو کو بھی محسوس نا کر پائیں گی- لباس کے ساتھ ایسا دھوکه نا کریں که سر پر اسکارف ھو اور نیچے چست لباس اور پینٹ وغیره پھنی ھو- نامحرم مردوں کے لیے سجنے سنورنے والی عورت بھکاری کے کشکول کی طرح ھوتی ھے جو دوسروں کی نظروں کو اپنی طرف کروانا چاھتی ھے-
براۓ مھربانی... الله سے سچی توبه کر کے اپنے آپ کو بدلیں تاکه آخرت کی ھمیشه رھنے والی زندگی کامیابی سے گذر سکے-
باپرده عورت غیرت مند بھائی، غیرت مند باپ اور غیرت مند شوھر کی نشانی ھے-
جس سے سر کا آنچل بھی نھی سنبھالا جاتا
اس سے کیا خاک تیرے گھر کی حفاظت ھو گی
****************************

ھر عمل، الله کی رضا کے لیے
پیارے اور آخری نبی پر بے شمار درود و سلام

علم کی روشنی، ھدایت کی روشنی

Tuesday, 23 February 2016

زائد کی کرپشن کا انکشاف


سستی روٹی سکیم ۔۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔70 ارب سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
یوتھ لیپ ٹاپ سکیم ۔۔۔۔۔فلاپ۔۔۔۔۔ بازاروں میں لیپ ٹاپ 10 سے 15 ہزار میں دستیاب ۔۔۔۔ ہوشربا کرپشن کا انکشاف
پیلی ٹیکسی سکیم۔۔۔۔۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔۔سکیم نااہلی اور کرپشن کی نذر

لاہور میٹروبس پراجیکٹ۔۔۔۔ خسارے میں۔۔۔۔۔۔ 5 ارب روپے سالانہ خسارہ
راولپنڈی میٹرو پراجیکٹ۔۔۔۔۔ دنیا کا مہنگا ترین ماس ٹرانزٹ منصوبہ۔۔۔۔ اربوں کی کرپشن کا شاہکار
یوتھ لون سکیم۔۔۔۔۔۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔
اپنا روزگار سکیم۔۔۔۔۔ فلاپ
یوتھ ہیلمٹ سکیم۔۔۔۔۔۔۔ فلاپ ۔۔۔۔ تین ماہ بعدبند
یوتھ اجالا سکیم۔۔۔۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔۔۔ تین ماہ بعد بند
سکوٹی سکیم۔۔۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔ چلنے سے پہلے ہی بند
نندی پور پراجیکٹ۔۔۔فلاپ۔۔۔۔ صرف تین دن چل سکا ۔23 ارب سے شرو ع ہوا اور 120 ارب تک جاپہنچا۔۔۔۔ کرپشن ہی کرپشن
قادرپور کول پراجیکٹ۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔ ہرانرجی کے ماہر کا کہنا ہے کہ یہ پراجیکٹ چل ہی نہیں سکتا
چیچوں کی ملیاں پاور پلانٹ۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔ تین ارب روپے لگنے کے بعد پراجیکٹ بند
گڈانی پاور پراجیکٹ۔۔۔۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔۔ فزیبلٹی رپورٹ اور افتتاح پر کروڑوں روپے لگانے کے بعد بند کردیا گیا
قائداعظم سولر پارک۔۔۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔100 میگاواٹ کا پراجیکٹ صرف 30 میگاواٹ بجلی دیتا ہے او ر وہ بھی 27 روپے فی یونٹ
ایل این جی منصوبہ۔۔۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔۔ نواز اینڈ کمپنی نے اربوں روپے کا چونا لگایا اور ابھی تک ایل این جی نہیں مل سکی
نیلم جہلم ہائیڈروپراجیکٹ۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔ 40 ارب کا پراجیکٹ 450 ارب تک جاپہنچا اور پھر بند

Wednesday, 17 February 2016

What are normal blood creatinine levels?

Normal levels of creatinine in the blood are approximately 0.6 to 1.2 milligrams (mg) per deciliter (dL) in adult males and 0.5 to 1.1 milligrams per deciliter in adult females. (In the metric system, a milligram is a unit of weight equal to one-thousandth of a gram, and a deciliter is a unit of volume equal to one-tenth of a liter.)
Muscular young or middle-aged adults may have more creatinine in their blood than the norm for the general population. Elderly persons, on the other hand, may have less creatinine in their blood than the norm. Infants have normal levels of about 0.2 or more, depending on their muscle development. In people with malnutrition, severe weight loss, and long standing illnesses, the muscle mass tends to diminish over time and, therefore, their creatinine level may be lower than expected for their age.
A person with only one kidney may have a normal level of about 1.8 or 1.9. Creatinine levels that reach 2.0 or more in babies and 10.0 or more in adults may indicate severe kidney impairment and the need for a dialysis machine to remove wastes from the blood.
The symptoms of kidney dysfunction (renal insufficiency) vary widely.
  • Some people may have an incidental finding of severe kidney disease and elevated creatinine on routine blood work without having any symptoms.
  • In others, depending on the cause of the problem, different symptoms of kidney failure may be present including:

Friday, 12 February 2016

Green tea

Green tea


green tea for good healthGreen tea is known as one of the most useful products because it contains many substances that play an important role in the human body.
Zinc present in large quantity, Zinc plays an important role in the normal course of pregnancy.
Green tea have lots of benefits for our health as well it protect us form many diseases and active our immune system to fight against diseases and infections.
  • If we drink 3 to 4 cups green tea daily then we don’t need to go to doctor.

Green tea benefits

1. It protects us from several diseases like Cancer, high blood sugar and inflammation.
  • It contain essential antibiotic’s that don’t let to dry our cells and give maximum protection against Cancer and HIV and AIDS.
2. Contain nutrients and ingredients that burns our body fats and protect us from obesity.
It also helpful in weight loss, heart, liver and kidney diseases.
3. If you drink green tea regularly, it strengthen your mind, improve your mood, enhance memory and brain activity.
  • Also regularly intake slows down and stops the aging of cells and contributes to rejuvenation and long service life.
4. Improves the flexibility of the body and the nervous system. Also it is strong remedy for obesity.
  • Green tea is a beauty tool that expands the skin and opens the pores.
5. It helps to balance cholesterol levels in the blood and other pollutants, and deposits on the walls of blood vessels.
  • Because of its diuretic effect, it stimulates the excretory system, the kidneys and the bladder as well as high blood pressure and heart disease.
6. During the summer heat, it is best to drink because it cools the body. So the body temperature adapted to the external conditions.
When we drink green tea after 10 minutes our skin pores open, body temperature drops by 2 degrees and we feel comfortable during the great overheating.

Wednesday, 3 February 2016

ﮐﻤﯿﻨﮯ ﺟﺐ ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ news ﮐﻮ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﮔﮭﻤﺎ ﭘﮭﺮﺍ ﮐﮯ ﺩﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮ


ﺍﯾﮏ ﭨﯽ ﻭﯼ ﺻﺤﺎﻓﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﻟﮯ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ...
ﺻﺤﺎﻓﯽ : ﺁﭖ ﺑﮑﺮﮮ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﮭﻼﺗﮯ ﮨﯿﮟ ... ؟؟
ﮐﺴﺎﻥ : ﺳﯿﺎﮦ ﯾﺎ ﺳﻔﯿﺪ ﮐﻮ ... ؟؟

ﺻﺤﺎﻓﯽ : ﺳﻔﯿﺪ ﮐﻮ ..
ﮐﺴﺎﻥ : ﮔﮭﺎﺱ ..
ﺻﺤﺎﻓﯽ : ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﻮ ... ؟؟
ﮐﺴﺎﻥ : ﺍﺱ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺎﺱ ..
ﺻﺤﺎﻓﯽ : ﺁﭖ ﺍﻥ ﺑﮑﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﺎﻧﺪﮬﺘﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮ ... ؟؟
ﮐﺴﺎﻥ : ﺳﯿﺎﮦ ﯾﺎ ﺳﻔﯿﺪ ﮐﻮ ... ؟؟
ﺻﺤﺎﻓﯽ : ﺳﻔﯿﺪ ﮐﻮ ..
ﮐﺴﺎﻥ : ﺑﺎﮨﺮ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ..
ﺻﺤﺎﻓﯽ : ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﻮ ... ؟؟
ﮐﺴﺎﻥ : ﺍﺱ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ...
ﺻﺤﺎﻓﯽ : ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻧﻬﻼﺗﮯ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﮨﻮ ... ؟؟
ﮐﺴﺎﻥ : ﮐﺴﮯ ﺳﯿﺎﮦ ﯾﺎ ﺳﻔﯿﺪ ﮐﻮ ... ؟؟
ﺻﺤﺎﻓﯽ : ﺳﯿﺎﮦ ﮐﻮ ..
ﮐﺴﺎﻥ : ﺟﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ..
ﺻﺤﺎﻓﯽ : ﺍﻭﺭ ﺳﻔﯿﺪ ﮐﻮ ... ؟؟
ﮐﺴﺎﻥ : ﺟﯽ ﺍﺱ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ..
ﺻﺤﺎﻓﯽ ﮐﺎ ﻏﺼﮧ ﺳﺎﺗﻮﯾﮟ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ، ﺑﻮﻻ : ﮐﻤﯿﻨﮯ ! ﺟﺐ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﮏ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ ﮨﮯ .. ﺳﯿﺎﮦ ﯾﺎ ﺳﻔﯿﺪ ... ؟؟؟؟
ﮐﺴﺎﻥ : ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺳﯿﺎﮦ ﺑﮑﺮﺍ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﮯ ...
ﺻﺤﺎﻓﯽ : ﺍﻭﺭ ﺳﻔﯿﺪ ﺑﮑﺮﺍ ... ؟؟
ﮐﺴﺎﻥ : ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﮯ ...
ﺻﺤﺎﻓﯽ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ...
ﮨﻮﺵ ﺁﻧﮯ ﭘﮧ ﮐﺴﺎﻥ ﺑﻮﻻ ﺍﺏ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﻤﯿﻨﮯ ﺟﺐ ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ news ﮐﻮ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﮔﮭﻤﺎ ﭘﮭﺮﺍ ﮐﮯ ﺩﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺩﮐﮭﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ

Tuesday, 26 January 2016

بریکنگ نیوز: مرغی نے انڈہ دیا ہے۔


بریکنگ نیوز: مرغی نے انڈہ دیا ہے۔
ناظرین ابھی ابھی خبر موصول ہوئی ہے کہ لاھور کے نواحی گاؤں میں ایک مرغی نے انڈہ دیا ہےـ اطلاع کے مطابق اب سے کچھ دیر پہلے لاھور کے نواحی گاؤں میں ایک مرغی نے انڈہ دیا ہےـ بونگا نیوز کے نمائندے موقع پر موجود ہیں ان سے پو
چھتے ہیں ـ جی عارف آپ کو کیا نظر آ رہا ہے؟ مرغی نے انڈہ دیا ہے؟
جی شازیہ ہم یہاں موجود ہیں، اب سے کچھ دیر پہلے مرغی نے انڈہ دیا ہےـ
بونگا نیوز نے علاقہ کے ایس ایچ او سے رابطہ کیا ہے اور انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مرغی نے انڈہ دیا ہےـ
جی ناظرین ہم کوشش کر رہے ہیں کہ مرغی سے رابطہ ہو، عارف یہ بتائیے اس معاملے میں آپ کا مرغی کے اہل خانہ سے کوئی رابطہ ہوا ہے کیا کہتے ہیں وہ مرغی نے انڈہ دیا ہے؟
جی شازیہ اس وقت ہم مرغی کے چچا کے پاس کھڑے ہیں اور ان کا بھی یہی کہنا ہے مرغی نے انڈہ دیا ہےـ
عارف یہ بتائیے اس وقت کیا صورت حال ہے؟ مرغی اور انڈہ دونوں کیسے ہیں؟
جی شازیہ اس وقت تمام کاروبار معمول کے مطابق چل رہے ہیں مرغی سے ہمارا رابطہ ممکن نہیں ہو سکا مگر اطلاعات یہی ہیں کہ دونوں ٹھیک ہیں ـ
ہم اپنے ناظرین کو بتاتے چلییں کہ لاھور کے نواحی گاؤں میں ایک مرغی نے انڈہ دیا ہےـ
———–
یہ خبر سب سے پہلے ہم نے آپ تک پہنچائی ہے

Wednesday, 20 January 2016


حملہ آور کہاں سے آئے اور کس نے بھیجا ،معلوم کر چکے ہیں ، گندے دہشت گرد نہتے لوگوں کو آسان ہدف سمجھ کر نشانہ بنا رہے ہیں :ڈی جی آئی ایس پی آر
20 جنوری 2016 (21:42)

قومیپشاور (مانیٹرنگ ڈیسک )ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاظم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ چارسدہ یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے کہاں سے آئے اورکس نے بھیجے ،اس حوالے سے معلومات حاصل کی جا چکی ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے حوالے سے بہت سی معلومات حاصل ہو چکی ہیں جنہیں چیک کیا جا رہا ہے ۔حساس ادارے حاصل ہونے والی معلومات کی بنا پر گرفتاریاں کر رہے ہیں۔چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعدآرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت کور ہیڈ کوارٹر پشاور میں اجلاس ہوا جس میں جنرل راحیل شریف کو حملے سے متعلق بریفنگ دی گئی ۔بعد ازاں سانحہ چارسدہ پر پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آ ر لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ قوم نے دہشت گردوں اور ان کی سوچ کو رد کردیا اس لیے گندے دہشت گردوں نے نہتے اور معصوم لوگوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا یا ۔انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کو پسپا کردیا ہے ،اس لیے دہشت گرد شکست خوردہ سوچ لے کر آسان ہدف کو نشانہ بنا تے ہیں ۔جس طرح آج قوم نے حوصلے کا مظاہر ہ کیا اس سے دہشت گردی کی سوچ کو شکست ہو گئی ۔عاصم باجوہ نے کہا کہ اگرکوئی دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے یا ان کے بارے میں معلومات متعلقہ اداروں کو فراہم نہیں کرتا تو دہشت گردوں کے ایسے سہولت کاروں کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات پیش آتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حساس اداروں اور سیکیورٹی فورسز نے دن رات جاگ کر آپریشن ضرب عضب کے تحت جتنی کامیابیاں حاصل کیں انہیں واپس نہیں ہونے دیں گے ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری مراحل میں ہے ،اس لیے دہشت گرد آسان ہدف کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن پاک فوج ،وفاقی و صوبائی حکومتیں ،حساس ادارے ،سول سیکیورٹی فورسز ،دوست ممالک اور قوم مل کر دہشت گردوں کو شکست دیں گے ۔
دہشت گرد کہاں سے آئے تھے ،اس حوالے سے کچھ معلومات ہیں جن کی تحقیقات کر رہے ہیں ،ابھی معلومات کو شیئر کرنا قبل از وقت ہے،آنے والے دنوں میں تمام معلومات قوم کے سامنے آجائے گی ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے دو ٹیلی فون بھی برآمد ہوئے ہیں جن پر وہ مسلسل رابطے میں تھے ۔دہشت گرد کے فون پر مرنے کے بعد بھی افغانستان سے کالیں آرہی تھی ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے اور دہشت گرد قومی عزم اور حوصلے کو ختم کرنے کے لیے آسان ہدف کو نشانہ بنا تے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کیو نکہ تعلیم کو ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور تعلیم ہی ہمار مستقبل بھی ہے اس لیے دہشت گرد تعلیمی اداروں کو اس لیے نشانہ بنا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی چہرہ نہیں اس لیے ان سے جان چھڑانے کے لیے پوری قوم کو ذمہ داری لینا ہو گی ۔عاصم باجوہ نے بتا یا کہ یونیورسٹی میں حملہ آوروں کو سیڑھیوں اور چھت پر مارا گیا اور انہیں مقررہ ہدف تک پہنچنے نہیں دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو پکڑنے کے لیے حساس اداروں کا آپریشن جاری ہے ،جلد ہی سہولت کاروں کی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی ۔عاصم باجوہ نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا متاثر ہے،جب تک دہشت گردوں کے سہولت کار ،فنانسر اور ہمدرد موجودہیں ایسے حملے کہیں بھی ہو سکتے ہیں ،اسی وجہ سے پوری دنیا میں دہشتگردی پھیل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ باچا خان یونیورسٹی حملے میں دو اساتذہ اور18طلبا ءشہید ہوئے جبکہ 20افراد زخمی ہوئے ۔

Sunday, 3 January 2016

زلزلے قدرتی ہیں یا دراصل کچھ اور چل رہا ہے؟ تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا، سائنسدانوں نے امریکہ کی طرف انگلی اٹھادی

زلزلے قدرتی ہیں یا دراصل کچھ اور چل رہا ہے؟ تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا، سائنسدانوں نے امریکہ کی طرف انگلی اٹھادی



واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلسل تیسرے روز پاکستان  کے وسیع و عریض علاقے کو زلزلے نے ہلا کر رکھ دیا۔ اس سے پہلے بھی پاکستان میں ایسے زلزلے آچکے ہیں کہ جن کے مراکز شمال مغرب کے پہاڑی سلسلوں میں بتائے گئے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ علاقے زلزلوں کے لحاظ سے نسبتاً خاموش اور پرسکون سمجھے جاتے ہیں، اور یہاں زلزلوں کا ظاہر ہونا خاصا تعجب خیز ہے۔ ان زلزلوں کے متعلق یہ سوال پہلے بھی سامنے آچکا ہے کہ ان کی وجہ زیر زمین قدرتی تبدیلیاں نہیں بلکہ امریکا کے جیو فزیکل ہتھیاروں کے ٹیسٹ ہیں، اور اب ایک دفعہ پھر یہی سوال اٹھ کھڑاہوا ہے۔
ویب سائٹ beforeitisnews.comکے مطابق 26 اکتوبر 2015ءکو شمالی افغانستان میں 7.5 طاقت کا زلزلہ آیا۔ اس موقع پر جیالوجی کے عالمی شہرت یافتہ ماہر ابراہیم بشپ کا کہنا تھا کہ اس زلزلے کی مزید تحقیقات کی ضرورت تھی کیونکہ یہ ایک ایسی علاقے میں آیا تھا کہ جہاں زیر زمین ارضیاتی تبدیلیاں بہت محدود تھیں اور اس علاقے میں زلزلہ آنے کا امکان انتہائی کم تھا۔ ان کا کہنا تھا ”دراصل یہاں پر ایسی تباہی آنے کی کوئی بھی قدرتی وجہ موجود نہیں تھی۔“ اسی طرح دیگر کئی ارضیاتی سائنسدانوں نے بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور اس ضمن میںامریکا کے دفاعی تحقیق کے ادارے ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹ ایجنسی کا بار بار ذکر ہوا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ادارہ 1980ءکی دہائی سے جیوفزیکل ہتھیار بنارہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار اس قدر طاقتور ہیں کہ سینکڑوں کلومیٹر پر محیط علاقے میں خوفناک زلزلہ پیدا کرسکتے ہیں۔ ماہرین 2010ءمیں افریقی ملک ہیٹی میں آنے والے تباہ کن زلزلے کو بھی انہی ہتھیاروں کا نتیجہ قرار دے چکے ہیں۔ ارضیاتی ماہرین افغانستان اور پاکستان میں حالیہ زلزلے کے بعد پھر یہی سوال اٹھارہے ہیں کہ ارضیاتی تبدیلویں کے لحاظ سے خاموش اور پرسکون علاقے میں مشکوک نوعیت کے زلزلے کیسے آرہے ہیں۔
کئی ماہرین نے اس معاملے کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ شاید سچ ہمارے سامنے کبھی نہیں آسکے گا، کیونکہ مبینہ جیو فزیکل ہتھیاروں کی موجودگی کو کبھی واضح الفاظ میں تسلیم نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس طرح کے سوالات اٹھانے والوں کو بھی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اس حوالے سے ڈاکٹر نک بیجک کی مثال بھی دی جاتی ہے، جو امریکی کانگرس کے رکن نک بیجک سینئر کے بیٹے تھے اور امریکا کے جیوفزیکل ہتھیاروں کی خفیہ لیبارٹریوں کے متعلق اکثر سوال اٹھاتے رہے تھے۔ پھر ایک دن وہ پراسرار طور پر غائب ہوگئے اور بعد ازاں کبھی بھی اس معاملے کے اصل حقائق سامنے نہیں آسکے۔ ایسے میں یہ سوال اور بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا کبھی سچ سامنے آئے گا؟

مشہور شیعہ عالم دین



الجزیرہ عربی کے پروگرام" اتجاہ معاکس" کے اینکر پرسن "ڈاکٹر فیصل قاسم" نے کہا ہے کہ :" عراق کے مشہور شیعہ عالم دین اور راہنما مقتدی الصدر کے معاون نے ایک مضمون لکھا ہے جس کا نام ہے " ہم بے حیا قوم ہیں" مضمون میں مندرجہ ذیل حقائق پر روشنی ڈالی ہے:
شام،عراق اور فارس کو فتح کرنے والا عمر بن الخطاب (سنی ) تھے۔
سند ،ہند اور ماوراء النہر کو فتح کرنے والا محمد بن قاسم (سنی) تھے۔
شمالی افریقہ کو فتح کرنے والا قتیبہ بن مسلم(سنی) تھے۔
اندلس کو فتح کرنے والا طارق بن زیاد اور موسی بن نصیر دونوں(سنی ) تھے۔
قسطنطینیہ کو فتح کرنے والا محمد الفاتح( سنی) تھے۔
صقلیہ کو فتح کرنے والا اسد بن الفرات(سنی) تھے۔
اندلس کو مینارہ نور اور تہذیبوں کا مرکز بنانے والی خلافت بنو امیہ کے حکمران (سنی)تھے۔
تاتاریوں کو عین جالوت میں شکست دینے والا سیف الدین قطز اور رکن الدین بیبرس دونوں(سنی) تھے۔
صلیبیوں کو حطین میں شکست دینے والے صلاح الدین ایوبی(سنی) تھے۔
مراکش میں ہسپانویوں کا غرور خاک میں ملانے والا عبد الکریم الخطابی (سنی) تھے۔
اٹلی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والے عمر المختار (سنی) تھے۔
چیچنیا میں روسی ریچھ کو زخمی کرنے اور گرزنی شہر کو فتح والے خطاب (سنی) تھے۔
افغانستان میں نیٹو کا ناگ زمین سے رگڑنے والے (سنی )تھے۔
عراق سے امریکہ کو بھاگنے پر مجبور کرنے والے ( سنی تھے)۔
فلسطین میں یہودکی نیندیں حرام کرنے والے (سنی) ہیں۔
ہم اپنے بچوں کو کیا بتائیں گے؟؟!!
حسین کو عراق بھلا کر کربلاء میں بے یارومدد گار چھوڑنے والے مختار ثقفی (شیعہ) تھے۔
عباسی خلیفہ کے خلاف سازش کر کے تاتاریوں سے ملنے والے ابن علقمی (شیعہ )تھے ۔
ہلاکوخان کا میک اپ کرنے والے نصیر الدین طوسی (شیعہ) تھے۔
تاتاریوں کو بغداد میں خوش آمدید کہنے والے(شیعہ) تھے۔
شام پر تاتاریوں کے حملوں میں مدد کرنے والے(شیعہ) تھے۔
مسلمانوں کے خلاف فرنگیوں کے اتحادی بننے والے فاطمیین( شیعہ) تھے۔
سلجوقی سلطان طغرل بیگ بساسیری سے عہد شکنی کرکے دشمنوں سے ملنے والے(شیعہ) تھے۔
فلسطین پر صلیبیوں کے حملے میں ان کی مدد کرنے والا احمد بن عطاء(شیعہ) تھے۔
صلاح الدین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانے والے کنز الدولۃ (شیعہ)تھے۔
شام میں ہلاکوں خان کا استقبال کرنے والا کمال الدین بن بدر التفلیسی (شیعہ) تھے۔
حاجیوں کو قتل کر کے حجر اسود کو چرانے والا ابو طاہر قرمطی (شیعہ) تھے۔
شام پر محمد علی کے حملے میں مدد کرنے والے ( شیعہ) تھے۔
یمن میں اسلامی مراکز پر حملے کرنے والے حوثی (شیعہ ) ہیں۔
عراق پر امریکی حملے کو خوش آمدید کر کے ان کی مدد کرنے والے سیستانی اور حکیم (شیعہ) ہیں۔
افغانستان پر نیٹو کے حملے کو خوش آئند کہہ کر ان کی مدد کرنے والے ایرانی حکمران (شیعہ) ہیں۔
شام میں امریکہ کی مدد اور بشار سے مل کر لاکھوں مسلمانوں کو قتل کر نے والے اور خلافت کی تحریک کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کرنے والے عراقی حکمران،ایرانی حکمران اور لبنان کی حزب اللہ (شیعہ) ہیں۔
خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر کے لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے والا اسماعیل صفوی (شیعہ) تھے۔
برما کے مسلمانوں کے قتل پر بت پرستوں کی حمایت کا اعلان کرنے والا احمد نجاد( شیعہ ) ہے۔
شام کے لوگوں پر بشاری کی بمباری کی حمایت کرنے والا اور اس کو سرخ لکیر قرار دینے والا خامنئی (شیعہ) ہے۔
صحابہ کو گالیا دینے والے اور خلفائے راشدین اور اور امہات المومنین کے بارے میں شرمناک باتیں لکھنے والے قلم (شیعہ) ہیں۔
سلطان ٹیپو کے خلاف انگریز سے ملنے والے میر جعفر اور میر صادق (شیعہ) تھے۔
اگر سارے واقعات لکھے جائیں تو کئی جلدوں کی کتابیں تیار ہو سکتی ہیں، ہم اپنی نسلوں کو کیا جواب دیں گے ؟؟!!
یہ سب خو دایک شیعہ عالم دین اور حق گو آدمی کہہ رہا ہے !



ایران کی منافقانہ پالیسی دیکھیں کہ خود تو سنیوں کو پھانسیاں دیتا پھرتا ہے لیکن ان کا کوئی دہشت گرد کسی ملک میں بغاوت کی وجہ سے سزا پاتا ہے تو پھر دھمکیاں دیتا پھرتا ہے۔ ہر جگہ اپنے دہشت گرد چھوڑتا ہے پھر جب وہ انجام کو پہنچتا ہے تو پھر روتا پھرتا ہے۔
سعودی عرب کے شہر قطیف میں ان کا ایک ایجینٹ شیخ نمر بغاوت کی وجہ سے 46 دہشت گردوں (جو کہ تقریبا سارے غیر شیعہ تھے) انجام کو پہنچا تو پھر ایران کو تکلیف شروع ہوگئی اور دھمکیوں پر اتر آیا۔ پھانسی سعودی شہری کو ملی اور فکر ایران کو پڑی ہے کیوں کہ ایران ہر جگہ فسادات پھیلانے کا ماسٹر مائنڈ ہے۔
یہ ایران ہی ہے جہاں سنیوں کو پھانسی دی جاتی ہیں لیکن ہزاروں کی تعداد میں یہودی مزے کی زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ ایران ہی ہے جس نے خانہ کعبہ میں بھی فسادات پھیلانے کیلئے 54 کیلو بارود حج فلائٹ میں لے جانے کی ناکام کوشش کی۔
یہ ایران ہی ہے جو بحرین میں شیعوں کو فسادات پر ابھارتا رہا۔
یہ ایران ہی ہے جو شام میں قتل عام کیلئے بشار اور روس کو مدد دے رہا ہے۔
یہ ایران ہی ہے جو یمن میں حوثی باغیوں کو اسلحہ دے کر بغاوت کیلئے مدد کرتا رہا۔
یہ ایران ہی ہے جس نے عراق میں اپنی فوجیں اتاری اور سنیوں کا قتل عام کررہا ہے۔
یہ ایران ہی ہے جو لبنان میں حزب اللہ نام کی دہشت گرد تنظیم کو بنا کر ہر جگہ سنیوں کے خلاف محاذ کھول رہا ہے۔
یہ ایران ہی ہے جو پاکستان اور افغانستان کے شیعوں کو بھرتی کرکے شام میں مروا رہا ہے۔
پھر بھی ہمارا میڈیا ایران کی حمایت جاری رکھے گا کیوں کہ پاکستان میں امین شہیدی اور رضا عابدی جیسے نمک حرام لوگ موجود ہیں۔

Saturday, 2 January 2016

The Court Complex Where Father Sells Tea, Daughter Is Now A Judge

Meet Shruti, a girl from the small town of Nakodar in Punjab who has cleared the Organize Exam for the judicial post of Punjab Civil Services. After passing matric from State public school, she studied Law from GNDU Jalandhar and completed the degree of L.L.M. from Punjab University, Patiala.
Shruti’s father, Surender Kumar who has tea shop outside the Jalandhar court is proud of her daughter. He said that he already knew that her daughter will achieve something big in her life, but he never imagined that she would be a Judge. Shruti’s Uncle Teerth Ram has always motivated her from the beginning to study hard.
Shruti cracked the Punjab Civil Services (Judicial) examination in her first attempt and after a year of training at the Judicial academy, she will soon adorn the coveted post. Kumar says there cannot be anything more rewarding in life.
By clearing such a tough exam and for such a respected and huge post of Judgeship, She already has become a symbol of motivation and hope for all those people who are stuck in poverty. Her success proves that even poverty cannot stop you from achieving the toughest goals in Life.
The Logical Indian community congratulates Shruti for achieving this feat and also hope that she inspires others to work hard in their lives to achieve their goals.

Saturday, 26 December 2015

بِسْـــــــــــــــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

بِسْـــــــــــــــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الـلَّـهُـمَّ صَـلِّ عَـلَـى مُـــحَـــمَّـــدٍﷺ وَ عَـلَـى آلِ مُـــحَـــمَّـــدٍﷺ كَـمَـا صَـلَّـيْـتَ عَـلَـى إِبْـرَاهِـيـمَ وَ عَـلَـى آلِ إِبْـــرَاهِـــيـــمَ إِنَّـكَ حَـمِـيـدٌ مَـــجِــيــد..

ٌ الـلَّـهُـمَّ بَـارِكْ عَـلَـى مُـــحَـــمَّـــدٍﷺ وَ عَـلَـى آلِ مُـــحَـــمَّـــدٍﷺ كَـمَـا بَـارَكْـتَ عَـلَـى إِبْــرَاهِــيــمَ وَ عَـلَـى آلِ إِبْــرَاهِــيــمَ إِنَّـكَ حَـمِـيـدٌ مَـــجِــيــد

Saturday, 7 June 2014

الطاف حسین کے جوتے چاٹنے والی سیاست پہ لعنت .... الطاف حسین کے سامنے سر بسجدہ صحافت پہ لعنت ...



کیا وہ غازی علم دین ھے جو ناموس رسالت کی خاطر سولی پر چڑھنے جا رھا ھے؟
کیا وہ ڈاکٹر عافیہ ھے جو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے امریکی عقوبت خانے میں ٹارچر کیا جائے گا؟
کیا وہ نیلسن مینڈیلا ھے جو عوام کے حقوق کی خاطر درجنوں سال جیل میں قید ہونے جارھا ھے؟
کیا وہ بھگت سنگھ ھے جو انگریزوں سے آزادی کی جنگ لڑنے جارھا ھے؟
یا پھر وہ بھٹو ھے جو ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی پاداش میں پھانسی چڑھنے جارھا ھے؟
کیا ھے وہ؟ اپنی ہی پارٹی کارکن کے قتل میں نامزد ملزم اور لاکھوں پاؤنڈ کی منی لانڈرنگ میں ملوث قاتل اور لٹیرا۔
پھر کیوں وہ کہتا ھے کہ میرا حوصلہ چٹان کی طرح مضبوط ھے؟
پھر کیوں کراچی کی سڑکوں پر آگ و خون کا کھیل جاری ھے؟
کیا کراچی کے لوگ اتنے نکمے، نااہل ہوچکے ہیں جو چند درجن غنڈوں کے آگے کچھ نہیں کرسکتے؟
یا پھر ہماری ایجنسیاں نامردوں اور ہیجڑوں پر مشتمل ہیں؟
آخر کچھ تو ھے ورنہ یہ سب نہ ہوتا!!!