Sunday, 20 May 2018

قوم کی بیٹی سے متعلق کچھ حقائق ۔۔۔۔۔ !

قوم کی بیٹی سے متعلق کچھ حقائق ۔۔۔۔۔ !
عافیہ صدیقی ایک ماہر نیورالوجسٹ تھیں ۔ اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ امریکہ میں گزارا اور وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں ۔ اس نے دو شادیاں کی ہیں جن میں پہلی شادی پسند کی تھی۔
امریکہ کا دعوی ہے کہ "انہیں القاعدہ سے تعلقات کے شبے میں پکڑا گیا ہے۔ خالد شیخ محمد نے دوران تفتیش انکا نام لیا تھا اور وہ القاعدہ کے لیے رقوم بھی منتقل کرتی تھیں۔ گرفتاری کے بعد قید کے دوران اسنے امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر ان پر فائرنگ کی ۔ جسکی وجہ سے انہیں سزا سنائی گئی۔ "
( یہ امریکی الزامات ہیں آپ نظر انداز کر سکتے ہیں)
آگے بڑھنے سے پہلے ایک سوال ۔۔
مشرف نے کب اور کہاں عافیہ صدیقی کو امریکہ کے ہاتھ بیچنے کا اعتراف کیا ہے؟
اس سوال کا جواب مجھے آج تک نہیں ملا۔
اب آتے ہیں اصل مضمون پر۔۔۔۔
یہ بات قطعاً جھوٹ ہے کہ عافیہ صدیقی ہی بگرام جیل کی قیدی نمبر 650 تھیں۔
معظم بیگ وہ شخص ہے جس کے بیان پر عافیہ کو قیدی نمبر 650 بنا دیا گیا۔
مگر معظم بیگ فروری 2002 میں بگرام جیل لایا گیا، اور پھر اسکے ایک سال بعد ٹھیک 2 فروری 2003 کو وہ بگرام سے گوانتاناموبے کی جیل میں منتقل کر دیا گیا۔
جبکہ عافیہ اسکے دو مہینے بعد تک کراچی میں اپنی فیملی کے ساتھ موجود تھیں اور وہ یکم اپریل 2003 کو روپوش ہوئیں۔ جبکہ معظم بیگ جس قیدی عورت کے چیخنے کی آوازیں سننے کی بات کرتا تھا، وہ تو معظم بیگ سے بھی پہلے جیل میں موجود تھی۔
تو اب کوئی عقلمند یہ بتا سکتا ہے کہ پھر صدیقی فیملی، مس ریڈلی اور قوم کے دانشوران نے سالہا سال کی عافیہ کیس پر تحقیق کے بعد بھی عافیہ کو قیدی نمبر 650 کیوں بنا کر پیش کرتے رہے؟
درحقیقت عافیہ صدیقی کی امریکنز کے ہاتھوں گرفتاری 2008ء کے بعد ہوئی جس وقت مشرف کی حکومت ختم ہو چکی تھی۔ اس دوران یہ اپنے ماموں شمس الدین، مفتی ابولبابہ شاہ منصور اور مفتی رفیع عثمانی سمیت کئی لوگوں سے رابطے میں رہیں اور اسی دوران اس نے القاعدہ کے لیے حیاتیاتی ہتھیار بھی بنانےکی کوشش کی۔
22 مئی 2009 کو امت اخبار میں عافیہ کے سابق شوہر ڈاکٹر امجد کا طویل انٹرویو شائع ہوا ہے جس سے معلوم ہوا کہ عافیہ نے اپنی روپوشی کا ڈرامہ خود رچایا تھا۔ اس انٹرویو کے چیدہ چیدہ اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
1۔ عافیہ جنونی کیس ہے۔
2۔ عافیہ اگر جہادی تنظیموں کی ممبر نہیں تھیں، مگر پھر بھی عافیہ کے جہادی تنظیموں سے رابطے تھے، اور خالد شیخ گروپ سے بھی رابطے تھے، امریکہ میں بھی اور پاکستان میں بھی۔ نیو ہمپشائر میں گروپ کے ساتھ کیمپنگ کیا کرتیں جس کا مقصد جہاد کی تیاری تھا جس میں پانچ چھ بار وہ خود لے کر گئے۔ نیز انہوں نے نائٹ ویژن اسکوپ اور دو بلٹ پروف شکاری جیکٹس، سی فور دھماکہ خیز مواد بنانے کے مینوئل وغیرپ خریدے جس کی وجہ فطری دلچسپی اور شکار بتائی اور ان کی خرید و فروخت ممنوع نہیں تھی ملک سے باہر لے جانا ممنوع تھا۔
3۔ جب پہلی مرتبہ امریکی اداروں نے ان کا انٹرویو لیا تو عافیہ نے جان بوجھ کر ان ادارے والوں سے جھوٹ بولنا شروع کر دیا، حالانکہ تمام چیزں بینک سٹیٹمنٹ وغیرہ کے ذریعے ثابت تھیں اور ناقابل انکار تھیں (یعنی بلٹ پروف جیکٹیں اور نائٹ ویژن اسکوپ وغیرہ۔ جب ڈاکٹر امجد نے اس کی وجہ پوچھی تو عافیہ کہنے لگیں کہ کافروں کو انکے سوالات کے صحیح جوابات دینا جرم ہے اور ان سے جھوٹ بولنا جہاد۔ [پتا نہیں پھر وہ کافروں کے ملک امریکہ گئی ہی کیوں تھیں]
4۔عافیہ کے اس جھوٹ کے بعد ڈاکٹر امجد اور عافیہ امریکہ میں مشتبہ ہو گئے اور انہیں امریکا چھوڑ کر پاکستان شفٹ ہونا پڑا۔
5۔ پاکستان شفٹ ہونے کے بعد عافیہ نے ڈاکٹر امجد کو افغانستان میں جہاد پر جانے کے لیے لڑائی کی اور نہ جانے کی صورت میں طلاق کا مطالبہ کیا۔
6۔ دیوبند مکتبہ فکر کے مشہور عالم مفتی رفیع عثمانی نے عافیہ کو سمجھانے کی کوشش کی مگر بات نہ بنی۔
7۔ بہرحال طلاق ہوئی۔ مگر ڈاکٹر امجد بچوں سے طلاق کے بعد سے لیکر اب تک نہیں مل سکے ہیں۔ وجہ اسکی عافیہ اور اسکی فیملی کا انکار ہے۔ یہ ایک باپ پر بہت بڑا ظلم ہے جو بنت حوا اور اسکے حواریوں کی جانب سے کیا گیا اور ابھی تک کیا جا رہا ہے۔
8۔ 2003 میں عافیہ نے خالد شیخ کے بھانجے عمار بلوچی سے دوسری شادی کر لی تھی، مگر اسکو خفیہ رکھا گیا، ورنہ قانونی طور پر بچے ڈاکٹر امجد کو مل جاتے۔
9۔ 2003 میں ہی خالد شیخ کو پکڑا گیا، اور وہاں سے چھاپے کے دوران ملنے والے کاغذات سے پتا چلا کہ عافیہ کا اس گروپ سے تعلق ہے اور یہ کہ وہ خالد شیخ کے بھانجے سے دوسری شادی کر چکی ہیں اور نکاح نامہ پر انکے دستخط ہیں۔ عمار بلوچی کے خاندان والوں نے بھی اسکی تصدیق کی، مگر صدیقی خاندان مستقل طور پر جھوٹ بولتا رہا کہ عافیہ نے دوسری شادی نہیں کی۔ بعد مین عافیہ نے عدالتی کاروائی کے دوران خود اس دوسری شادی کی تصدیق کی۔
10۔عافیہ خفیہ طور پر 5 دن کے لیے امریکہ گئیں اور وہاں پر خالد شیخ کے ساتھی ماجد خان کے لیے اپنے شوہر ڈاکٹر امجد کے کاغذات استعمال کرتے ہوئے ایک عدد پوسٹ بکس کو کرائے پر لے لیا۔ ڈاکٹر امجد کی تحریر کے مطابق انہیں اس پوسٹ باکس کا علم تھا نہ عافیہ کے اس 5 دن کے خفیہ دورے کا۔
11۔ سن 2003 میں خالد شیخ کے پکڑے جانے کے بعد عافیہ بہت خطرے میں آ گئی اور خالد شیخ کے گروہ اور عافیہ نے بہتر سمجھا کہ وہ روپوش ہو جائیں کیونکہ انکا تعلق خالد شیخ سے ثابت تھا اور پھر خالد شیخ کے بھانجے عمار بلوچ سے شادی کرنے کے بعد اور امریکہ میں غیر قانونی طور پر ماجد خان کے لیے پوسٹ بکس باکس لینے کے بعد یہ یقینی تھا کہ ایف بی آئی انکا پیچھا کرتی۔
12۔ چنانچہ ڈاکٹر عافیہ نے باقاعدہ طور پر اپنی روپوشی کا ڈرامہ کھیلا۔
روپوش تو عافیہ 31 مارچ سے کچھ دن پہلے ہی ہو چکی تھی، مگر پھر عافیہ نے اپنی فیملی کو فون کر کے بتایا کہ وہ باقاعدہ ساز و سامان باندھ کر کراچی سے اسلام آباد اپنے ماموں سمش الدین واجد صاحب کے پاس جا رہی ہیں۔
مگر پھر راستے میں روپوش ہو گئیں۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ انہیں اس روپوشی کا جواز بھی دینا تھا کیونکہ ڈاکٹر امجد بچوں سے ملنے کی خاطر عافیہ کے خلاف قانونی کاروائی کر رہے تھے۔ اس لیے اس روپوشی کا جواز یہ بنایا گیا کہ عافیہ کو ایجنسی کے لوگ ہی بچوں سمیت اغوا کر کے لے گئے ہیں۔
یوں عافیہ نہ صرف ڈاکٹر امجد سے بچ گئیں، بلکہ ان کے خاندان والے بھی ان سوالات سے بچ گئے کیونکہ اس دوران عافیہ کا نام گیارہ ستمبر کے حملوں کے حوالے سے سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہو چکا تھا۔
13۔ مگر ڈاکٹر امجد نے عافیہ کے غائب ہو جانے پر یقین نہیں کیا، اور خاندان کی درزن اور دو اور لوگوں نے اسکے بھی عافیہ کو کراچی میں دیکھا، اور داکٹر امجد لکھتے ہیں کہ انہوں نے ان لوگوں کو بطور گواہ عدالت میں بھی پیش کیا۔
14۔ لیڈی صحافی ریڈلی نے دعوی کیا عافیہ بگرام جیل میں قیدی نمبر 650 ہے۔ مگر مس ریڈلی نے یہاں چیٹنگ کی اور یہ بالکل صاف اور سیدھی سی بات تھی کی عافیہ قیدی نمبر 650 نہیں ہو سکتی کیونکہ معظم بیگ 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانا موبے منتقل ہو چکا تھا جبکہ عافیہ اسکے دو مہینے بعد 31 مارچ 2003 کو روپوش ہوئی۔
15 سب سے بڑا ثبوت: عافیہ کا 2008 میں اپنے ماموں شمس الدین واجد کے گھر نمودار ہونا ھے-
ڈاکٹر امجد لکھتے ہیں دو بڑے انگریزی اخبارات میں انہیں ایک دن شمس الدین واجد [عافیہ کے ماموں] کا بیان پڑھنے کو ملا جس سے انہیں شاک لگا۔ شمس الدین واجد کہتے ہیں کہ سن 2008 میں عافیہ ان کے گھر ایک دن اچانک نمودار ہوئی۔ اور تین دن تک رہی۔
ڈاکٹر امجد نے پھر بذات خود شمس الدین واجد صاحب سے رابطہ کیا اور ان سے تفصیلات طلب کیں۔ شمس الدین واجد صاحب نے جواب میں انہیں باقاعدہ ای میل تحریر کی ہے جو کہ بطور ثبوت ڈاکٹر امجد کے پاس موجود ہے۔ شمس الدین واجد صاحب کے مطابق انہوں نے عافیہ کی ماں کو بھی وہاں پر بلایا اور انکی بھی عافیہ سے ملاقات ہوئی۔
مزید یہ کہ عافیہ نے کھل کر نہیں بتایا کہ وہ کن لوگوں کے ساتھ ہے، مگر اس دوران میں شمس الدین واجد صاحب کو عافیہ کی ناک پر سرجری محسوس ہوئی جو زخم کی وجہ سے تھی یا پھر شکل تبدیل کرنے کی غرض سے، بہرحال عافیہ پورے عرصے نقاب کا سہارا لیتی رہی اور کھل کر سامنے نہیں آئی۔
پھر عافیہ نے اپنے ماموں سے ضد شروع کر دی کہ وہ انہیں طالبان کے پاس افغانستان بھیج دیں کیونکہ طالبان کے پاس وہ محفوظ ہوں گی۔ مگر ماموں نے کہا کہ انکے 1999 کے بعد طالبان سے کوئی رابطے نہیں ہیں اور وہ اس سلسلے میں عافیہ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ اس پر عافیہ تیسرے دن وہاں سے غائب ہو گئی۔
گمان غالب ہے کہ ان کو امریکنز نے افغانستان میں ہی گرفتار کیا تھا جہاں وہ جانے کے لے بےتاب تھیں۔
------------------------------------------------------------------
------------------------------------------------------------------
حقیقت یہ ھے کہ عافیہ نے یہ کھیل امریکی گرفت اور سابقہ خاوند کو بچوں سے دور رکھنے کیلئے کھیلا اور وہ اس پورے عرصے کے دوران خالد شیخ کے گروہ یا کسی اور جہادی گروہ کی مدد سے روپوش رہی، اور اسی گروہ کے لوگ عافیہ کے گھر والوں کو اس عرصے میں فون کر کے عافیہ کی خیریت کی خبر دیتے رہے۔
نیز واجد شمس الدین کی گواہی کے مطابق جس عافیہ سے سن 2008 میں ملے تھے، وہ اپنے پورے ہوش و حواس تھی۔ جبکہ بگرام کی قیدی 650 اپنے ہوش و حواس کھو چکی تھی۔ اس حقیقت کے بعد قیدی نمبر 650 کی حقیقت بالکل واضح ہو چکی تھی مگر افسوس کہ یہ فوج دشمنی ھے کہ جس کی وجہ سے یہ لوگ ابھی تک قیدی نمبر 650 کا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے اپنے ہی ادارے پر تہمتیں لگائے جا رہے ہیں۔
"عافیہ کے بچے تمام عرصے عافیہ کے پاس تھے":-
عافیہ کے ساتھ اسکا بیٹا احمد موجود تھا جس کے متعلق پکڑے جانے پر عافیہ نے جھوٹ بولا تھا کہ احمد اسکا بیٹا نہیں بلکہ احمد مر چکا ہے اور تمام عرصے وہ احمد کو علی حسن بتلاتی رہی۔ مگر ڈی این اے ٹیسٹ سے تصدیق ہو گئی کہ وہ احمد ہی ہے۔ نیز احمد اپنی ماں کو عافیہ کے نام سے نہیں جانتا تھا، بلکہ صالحہ کے نام سے جانتا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ عافیہ اس پورے عرصے کے دوران اپنی آئڈنٹیٹی تبدیل کر کے صالحہ کے نام سے روپوشی کی زندگی گذارتی رہی-!
تو اب سچ کو بے نقاب ہو جانا چاہیے۔ اگر مشرف پر قوم کی بیٹی بیچنے کا الزام ہے تو اس کو سزا ہو جائے، لیکن اگر یہ فقط تہمت ہے تو اس میڈیا پر ایک آدم کے بیٹے پر یہ مسلسل اور نہ ختم ہونے والی تہمت کے دہرانے پر جتنی بھی لعنت کی جائے وہ کم ہو گی۔
کیا یہ کہنا درست نہیں کہ عافیہ کیس میری قوم کی جذبات میں آ کر اندھا ہو جانے کی بدترین مثال ہے کہ جہاں قوم کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور اُسے جذبات میں کچھ نظر نہیں آ رہا ہوتا۔
نوٹ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ تحقیق و تحریر میرے دوست اویس صابر کی جو زیادہ تر مختلف اخبارات میں چھپنے والے مواد پر مشتمل ہے ۔۔۔۔ !

Thursday, 17 May 2018

تاریخ اپنے آپ کو دُہراتی ہے

تاریخ اپنے آپ کو دُہراتی ہے
---------------------------------
یہ جُملہ شاید آپ نے سُنا ہوگا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ۔ جی ۔ بالکل اس کا عملی مظاہرہ بھی آپ دیکھ سکتے ہیں اگر دیکھنا چاہیں تو ۔ کچھ جعلی پشتون قوم پرست عرصہ دراز سے یہ دعویٰ کرتے چلے آرہے ہیں کہ ہم نے انگریز کو یہاں (پاکستان) سے بھگایا اور لوگوں نے ان کے کُتے نہلائے ۔ (حالانکہ ان کا اس سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں )
یہ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے انگریز کو اپنے اپنے علاقے میں حفاظت کے نام پربُلایا اور اسے آکرباقاعدہ قبضہ کرنے کی دعوت دی تھی اور انگریز کی اتنی خدمت کی کہ القابات پائے اور اس کے بدلے انگریز سے وظیفے کھائے۔
جن کے باپ دادا نے یہ کام کیا تھا آج اُن کے پوتے پوتیاں آج بھی یہی کام کررہے ہیں لیکن چونکہ زمانہ جدید ہوگیا طریقہ واردات بدل گیا تو لہٰذہ اب ان کے پوتے پوتیاں اب وہی کام جدید طریقوں سے مختلف نظریوں و تنظیموں کی آڑ لیکر کرتے ہیں اور کررہے ہیں ۔
زیر نظر ویڈیو میں جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں یہ برطانیہ کی دارلحکومت لندن میں پشتونخواملی عوامی پارٹی (محمود خان اچکزئی کی پارٹی ) کی جانب سے پاکستان کے خلاف اور پی ٹی ایم کے حق میں ہونے والے مظاہرے میں ایک انگریز کی تقریر ہے۔ جواحباب انگریزی سمجھتے ہیں ۔ وہ اسے غور سے سُنیں ۔ اور جن کو انگریزی نہیں آتی وہ کسی سے اس کا ترجمہ کراوکے سمجھ لیں ۔ کہ کیا یہ پاکستان کو توڑنے کی کھلم کُھلا سازش نہیں ہے ۔ اور کیا برطانیہ ،امریکہ سمیت پوری نیٹو کو پاکستان میں آکر باقاعدہ فوجی کاروائی کی دعوت دینا ہے یا نہیں ہے ۔۔ یہاں میں صرف اس کے چند اہم جملے ترجمہ کردیتا ہوں ۔ باقی آپ خود دیکھ لیں ۔
انگریز کہہ رہا ہے ۔ کہ ۔۔۔ پاکستان انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے ۔ اور اس نے (پاکستان) دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر خود دہشتگردی کی ہے ۔ لیکن اس کے (پاکستان) کےاس ظلم سے ہم تبھی جان چُھڑا سکتے ہیں جب ہم (انگریز و پشتون ) مل کر اس کے خلاف شانہ بشانہ لڑِیں ۔ اور وہ دن دور نہیں جب پشتون آزاد ہونگے (یعنی آزاد پشتونستان کے جھوٹے خواب دکھا رہا ہے گورا) ۔ اس میں سب سے پہلے جو ہماری برطانوی حکومت کرسکتی ہے اور کرنا چاہیئے وہ یہ ہے کہ پاکستان کو کامن ویلتھ سے نکالا جائے ۔ دوسرا یہ کرسکتی ہے کہ پاکستان کے اُن فوجی و سیاسی لیڈروں کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کرے ۔ اور ان پر مقدمہ چلائے ۔ جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں ۔ اس کے علاوہ برطانوی حکومت کو پاکستان پر ہرقسم کی امداد بند کرنی چاہیئے ۔ پاکستان پر ہرقسم کی اسلحے کی فروخت پر پابندی لگانی چاہیئے ۔ آج اس مظاہرے سے ہم اپنی برطانوی وزیراعظم تھرزامے کو یہ بتانا چاہتے ہیں ۔ کہ پشتون آزادی چاہتے ہیں۔ پشتوں حق ارادیت چاہتے ہیں ۔ اور ہم( انگریز) پشتون قوم کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ تب تک کھڑے ہیں جب تک یہ لوگ یہ جنگ جیت نہیں جاتے ہیں ۔۔ (پاکستان سے آزادی کی جنگ)
اب ذرا نہیں بہت زیادہ سوچئِے ۔ یہ وہی لوگ ہیں۔ جنہوں نے لبییا، عراق و شام کے لوگوں کو بھی یہی لالچ دیا تھا اور آج اُن کی کیا حالت ہے خود ہی دیکھ لیں ۔۔
یاد رہے یہ مظاہرہ پشتونخواملی عوامی پارٹی لندن (محمود خان اچکزئی کی پارٹی ) کی جانب سے ارگنائز کیا گیا تھا ۔۔ جبکہ نوازشریف کا بھی یہی موقف ہے اور یہ دونوں پارٹیاں عالمی سطح پر پاکستان کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہیں ۔۔




Wednesday, 9 May 2018

The Modern Science of Mental Health

To day 9 May 1950, Lafayette Ronald Hubbard (1911-1986) publishes Dianetics: The Modern Science of Mental Health. With this book, Hubbard introduced a branch of self-help psychology called Dianetics, which quickly caught fire and, over time, morphed into a belief system boasting millions of subscribers: Scientology.
Hubbard was already a prolific and frequently published writer by the time he penned the book that would change his life. Under several pseudonyms in the 1930s, he published a great amount of pulp fiction, particularly in the science fiction and fantasy genres. In late 1949, having returned from serving in the Navy in World War II, Hubbard began publishing articles in the pages of Astounding Science Fiction, a magazine that published works by the likes of Isaac Asimov and Jack Williamson. Out of these grew the elephantine text known as Dianetics: The Modern Science of Mental Health.
In Dianetics, Hubbard explained that phenomena known as “engrams” (i.e. memories) were the cause of all psychological pain, which in turn harmed mental and physical health. He went on to claim that people could become “clear,” achieving an exquisite state of clarity and mental liberation, by exorcising their engrams to an “auditor,” or a listener acting as therapist.
Though discredited by the medical and scientific establishment, over 100,000 copies of Dianetics were sold in the first two years of publication, and Hubbard soon found himself lecturing across the country. He went on to write six more books in 1951, developing a significant fan base, and establishing the Hubbard Dianetics Research Foundation in Elizabeth, New Jersey.
Despite his fast-growing popularity from books and touring, strife within his organization and Hubbard’s own personal troubles nearly crippled his success. Several of his research foundations had to be abandoned due to financial troubles and he went through a divorce from his second wife.
By 1953, however, Hubbard was able to rebound from the widespread condemnation beginning to be heaped upon him, and introduced Scientology. Scientology expanded on Dianetics by bringing Hubbard’s popular version of psychotherapy into the realm of philosophy, and ultimately, religion. In only a few years, Hubbard found himself at the helm of a movement that captured the popular imagination. As Scientology grew in the 1960s, several national governments became suspicious of Hubbard, accusing him of quackery and brainwashing his followers. Nonetheless, Hubbard built his religion into a multi-million dollar movement that continues to have a considerable presence in the public eye, due in part to its high profile in Hollywood.

Monday, 7 May 2018

غیرت کا جنازہ

چلیں ہم امریکا سے شروع کرتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے موجودہ صدر ہیں۔ انھوں نے صدر منتخب ہونے سے پہلے ایک امریکی ٹی- وی کو انٹرویو دیا اور اپنی بیٹی کے حسن پر تبصرہ کرتے ہوئے بولے " اگر یہ میری بیٹی نہ ہوتی تو میں ضرور اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتا " اور ساری محفل گویا زعفران بن گئی۔
امریکا اس وقت " ریپ زدہ " ممالک میں سر فہرست ہے۔ نیشنل وائلنس کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں ہر چھ میں سے ایک عورت اور ہر تینتیس میں سے ایک مرد جنسی زیادتی کا شکار ہے اور یہ درج ہونے والے مقدموں کا سولہ فیصد ہے۔ جنوبی افریقا کو دنیا میں " ریپ کا دار الحکومت " کہا جاتا ہے۔ صرف 2012 میں 65،000 سے زیادہ جنسی تشدد کی واقعات پیش آئے۔ میڈیکل ریسرچ کونسل کی تحقیقات کے مطابق دنیا میں بچوں کے ساتھ زیادتی کا سب سے زیادہ اوسط جنوبی افریقا میں ہی ہے ۔ آپ جنت نظیر اور دنیا کی ہر عیاشی سے مالا مال سوئیڈن کو لے لیں جہاں ہر چوتھی خاتون یا لڑکی " ریپ شدہ " ہے۔ صرف 2009 میں 15،700 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور یہ تعداد 2008 کے مقابلے میں آٹھ فیصد زیادہ ہے۔ پچھلے دس سالوں میں سوئیڈن میں جنسی تشدد کے واقعات میں 58 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
آپ نام نہاد اور سیکولر ریاست کا راگ الاپنے والے بھارت کی بات کرلیں جہاں ہر بائیس منٹ پر ایک عورت جنسی تشدد کا نشانہ بنائی جاتی ہے اور کبھی اپنے بھائی، باپ یا رشتے داروں کے ہاتھوں ہی یہ کارنامہ سر انجام پاتا ہے۔ نیشنل کرائم رپورٹ بیورو کی رپورٹ کے مطابق صرف 2012 میں 24،923 خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی جن میں سے 24،470 کو ان کے اپنے ہی رشتے داروں یا پڑوسیوں نے نشانہ بنایا۔ یاد رہے بھارت دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں مردوں کو تعداد خواتین سے زیادہ ہے کیونکہ روزانہ سینکڑوں بچیاں دوران حمل یا پیدائش کے فوراً بعد مار دی جاتی ہیں۔ برطانیہ اور جرمنی جنسی زیادتیوں کے حوالے سے سخت پریشان ہیں کیونکہ برطانیہ کی ہی وزارت انصاف کے مطابق 2013 میں 85000 خواتین کی عصمتیں زبردستی پامال کی گئیں۔ برطانیہ میں ہر پانچویں عورت اپنی عزت سے ہاتھ دھو چکی ہے اس معاشرے میں خواتین کی کتنی " عزت " ہے؟ اس کے لیے آپ یو آن ریڈلے کی کتاب " ان دی ہینڈز آف طالبان " پڑھ لیں۔ فرانس میں صرف 10 فیصد شکایتوں کے مطابق ایک سال میں 75000 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ ہم بھی ان ہی تمام اقوام کی ذہنی اور عملی غلامی کا شکار ہیں اس لیے پچھلے سال سات سو سے زیادہ واقعات پاکستان میں بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جانوروں سے زیادہ جنسی خواہشات کی آزادی دیے جانے کے باوجود یہ سب کیوں؟ آپ " نچ پنجابن نچ "، منی کی بدنامی، شیلا کی جوانی، کریکٹر ڈھیلا اور " اچھی باتیں کرلیں بہت اب کروں گا گندی بات تیرے ساتھ " کرتے رہیں، " ساری نائیٹ بے شرمی اپنی ہائیٹ کو چھوتی رہے "۔ صبح سے لے کر شام تک اور شام سے لے کر رات تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہر ٹیوی چینل پر سوائے بے ہودگی اور بد معاشی کے اور کونسا ڈھنگ کا کام وقوع پذیر ہو رہا ہے؟ پہلے آپ معصوم بچیوں کو قندیل بلوچ بنائیں پھر اس کا قتل کروائیں، اس پر ماتم کریں اور پھر ڈرامے بنا کر اس کو " مادر ملّت " بنا دیں۔ تمام کے تمام ٹیوی چینلز سوائے عاشقی معشوقی، اس کی لڑکی اس کے ساتھ اور اس کی بیوی فلاں کے ساتھ بھاگنے کے ڈرامے دکھائیں۔ لباس کو تنگ سے تنگ اور چھوٹے سے چھوٹا کر کے ملک کے نوجوانوں کو ہوس زدہ اور حواس باختہ کردیں۔ اس کے بعد 4 روپے 99 پیسے میں "لگے رہو ساری رات" کے اشتہارات چلائیں۔ ایسے شاندار اور اخلاق یافتہ اشتہارات جس میں فون پر بات کر کر کے لڑکے کے کان تک پر نشان پڑ جائے اور پھر شادی کو مشکل ترین کر کے " گرل فرینڈ" کو آسان بنادیں۔
میرے ایک دوست ترکی گئے اور آکر بتانے لگے ترکی میں سم پاکستانی چار ہزار روپے کی ہے۔ بے حیا بنانے اور اخلاق باختہ کرنے کے لیے آپ کو میرے ملک کے ہی نوجوان ملے تھے؟ آپ ساحر لودھی، شائستہ واحدی اور وینا ملک سے " رمضان ٹرانسمیشن " کروائیں۔ فہد مصطفیٰ سے شرم اور حیا کا جنازہ نکلوائیں۔ خواتین اور بچیوں سے ہر بے شرمی کا کام کروانے والے وقار زکا کو سر پر بٹھائیں، لفظ مولوی کو گالی بنا کر دین، اسلام، مذہب اور قرآن کو اپنے میڈیا، شوبز حتیٰ کے تعلیمی اداروں تک سے نکال کر باہر پھینک دیں اور پھر انتظار کریں کوئی حسن بصری اور امام بخاری پیدا ہوجائے؟ ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، ہم پاگلوں کے دیس کے باسی ہیں؟
ریپ اور بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کو آڑ بنا کر اسلامی ملک میں لبرل ازم کی بنہاد رکھیں اور سیکس ایجوکیشن کا نفاز کروانے کے لیے کوششیں کریں اور سمجھیں کے اسطرح ایسے واقعات کی روک تھام ہو جاۓ گی صریحاً خود کشی ہے اور یہی ایجنڈا ان ممالک کا ہے جن کی آنکھ کو پاکستان کا وجود چبھتا ہے
یاد رکھیں جب تک آپ زنا کی سزا " رجم " اور 100 کوڑے نہیں رکھتے ہیں، شادی کو آسان اور زنا کو مشکل نہیں کرتے ہیں، حلال کو آرام دہ اور حرام کو دشوار نہیں کریں گے یہ واقعات مسلسل ہوتے رہیں گے۔ قرآن کے نظام میں برکت ہے، شریعت میں عزت ہے، آپ ہر چوک اور چوراہے پر بھی کیمرہ لگادیں تب بھی یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ سوائے اسلامی نظام کے نفاذ کے اور کوئی دوسرا راستہ ہمارے پاس نہیں ہے۔
لیبل ایجنڈہ جاری کر کے اس قوم کے اندر سے رہی سہی غیرت اور شرم کا جنازہ نکالا جانا مقصود ہے.
اب یہ طے کرنا قوم کا کام ہے کہ قرآن کی برکتیں درکار ہیں یا پھر کوئی اور زینب
اور ہاں زینب ہمیں تنگ مت کرو !
ہم مردہ قوم ہیں، بے ضمیر اور بے حمیّت معاشرے کے لوگ ہیں اور ہاں! ابھی میرے ملک کے نوجوانوں کو نجانے کتنی لڑکیوں کی فوٹوز کو فیوی کول سے سینے سے چپکانا بھی ہوگا۔ اس لیے خدارا تم ہمیں معاف کردو!

5000 سال تو کیا پچھلے 300 تک افغانستان نام کے کسی ملک کا کوئ وجود نہیں تھا

افغانستان پر بیرونی قبضوں کی تاریخ:
ھم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پاکستان کے حوالے سے جو بھی پوسٹ یا خبر ہوتی ھے افغانی وہاں آکر پاکستان کو گالیاں دینے لگتے ہیں۔ انڈیا کی تعریفیں کرنے لگتے ہیں۔ پنجابیوں کو سکھوں کی اولاد کہنے لگتے ہیں اور پاکستانی پختونوں کو پنجابیوں کا غلام کہنے لگ جاتے ہیں۔ سی دوران وہ اپنی 5000 سالہ تاریخ بھی بتانے لگتے ہیں۔ اکثر پاکستانی بھائ علم نہ ہونے کی وجہ سے ان کا جواب نہیں دے پاتے۔ حالانکہ یہ بہت ہی آسان ھے۔ آج میں آپ کو افغانستان کی تاریخ بتاتا ہوں۔ افغانیوں کا دعوی کہ افغانستان پر کبھی کسی نے قبضہ نہیی کیا بہت بڑا جھوٹ ھے۔ اور یہ جھوٹ صرف اور صرف افغانستان میں افغانیوں کے درمیان ہی بولا جاتا ھے۔ باقی دینا میں کوئ یہ بات نہیں مانتا۔
در حقیقت افغانستان سب سے زیادہ بیرونی قوتوں کے زیر قبضہ رہا۔ اور افغانستان پر قبضوں کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ھے۔ یہں وجہ ھے کہ افغانستان پر جو بھی اقوام قابض رہی ان کی نسل آج بھی موجودہ افغانستان میں موجود ھے۔ منگول حکمران چنگیز خان نے 1220 میں موجودہ افغانستان کے علاقے فتح کیے۔ چنگیز خان کی نسل ہزارہ برادری آج بھی افغانستان میں بڑی تعداد میں موجود ھے جو افغانستان میں چنگیز خان کے قبضے کے دوران پیدا ہوئ یا آباد ہوئ۔ اور آج بھی اپنے نام کے ساتھ چنگیزی لکھتے ہیں۔
محمود غزنوی سلطان سبکتگین کا بیٹا تھا۔ سلطان سبکتگین ترک تھا۔ سبکتگین ترک زبان کا لفظ ھے جس کی معنی "ہر دلعزیز شہزادہ" کے ہیں۔ محمود غزنوی ترک حکمران اور باپ سبکتگین کے افغانستان پر حکومت کے دوران افغانستان کے علاقے غزنی میں پیدا ہوا۔ اور اسی مناسبت سے محمود غزنوی کے نام سے مشہور ہوا۔
330 قبل از مسیح میں سکندر اعظم جو کہ یونانی تھا نے موجودہ افغانستان کے علاقوں کو اہنے زیر تسلط لیا۔ افغان سردار کی بیٹی رخسانہ سے شادی کی۔ افغانستان میں ایک شہر قائم کیا جس کا نام ای خانم ھے اور آج بھی موجود ھے۔ موجودہ افغانستان کے علاقے فتح کرنے کے بعد اپنے اگلے مہم پر ہندوستان روانہ ہو گیا۔ سکندر اعظم کو افغانستان میں کسی قابل ذکر مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
موجودہ افغانستان کے علاقے صدیوں تک اشوک، کوشان اور بدھ سلطنتوں کا حصہ رھے جس کا واضح ثبوت افغان صوبے بامیان میں بدھا کے دو مجسمے جن میں ایک 140 فٹ اونچا اور دوسرا 115 فٹ اونچا تھا 2001 میں طالبان نے ٹینکوں سے تباہ کر دیا تھا۔ موجودہ حکومت نے اقوام متحدہ کے ذریعے ان مجسموں کو دوبارہ تعمیر کر دیا۔ اس کے علاوہ بھی افغانستان کے مختلف علاقوں میں بدھ مت کے آثار موجود ہیں۔ افغانستان کے موجودہ شہر قندھار کا نام بھی بدھ مت کی سلطنت گندھارا کا جدید نام ھے۔ موجودہ قندھار گندھارا تہذیب کا مرکز رہا۔
539 قبل مسیح سے لیکر 331 قبل مسیح موجودہ افغانستان کے علاقے سلطنت فارس کا حصہ تھے۔ فارسی آثار آج بھی افغان علاقوں میں غالب ہیں۔ یہی وجہ ھے کہ کہ فارسی آج بھی افغانستان کی پشتو کے ساتھ مشترکہ قومی زبان ھے۔
1530 سے 1605 تک موجودہ افغانستان کے حصے مغل سلطنت کا حصہ تھے۔
اس لئے 5000 سال تو کیا پچھلے 300 تک افغانستان نام کے کسی ملک کا کوئ وجود نہیں تھا۔ البتہ پختونوں کی تاریخ پرانی ہو سکتی ھے۔ مگر پختون بھی صرف افغانستان میں نہیں تھی بلکہ پختونوں کی اکثریت آج کے پاکستان کے پختون علاقوں میں آباد تھی اور آج تک آباد ھے۔
1979 سے 1989 تک روس افغانستان پر قابض رہا۔ جس کی تفصیل الگ سے لکھوں گا۔
2001 سے تا حال امریکہ سمیت 14 نیٹو ممالک افغانستان پر قابض ہیں۔

ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺒﺮﺕ ﺁﻣﻮﺯ ﻭﺍﻗﻌﮧ

ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮔﻨﺘﯽ ﮬﮯ ' ﺩﺳﺘﺮ ﺧﻮﺍﻥ ﭘﺮ ﭘﮍﮮ ﺍﻧﮉﮮ ،ﺟﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﮭﻦ ﻧﮩﯿﮟ "!!
ﯾﮧ 1973 ﺀ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔ ﻋﺮﺑﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺟﻨﮓ ﭼﮭﮍﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺳﻨﯿﭩﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﺁﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﮐﻤﯿﭩﯽ ﮐﺎ ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺳﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ” ﮔﻮﻟﮉﮦ ﻣﺎﺋﯿﺮ “ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﺟﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﮔﻮﻟﮉﮦ ﻣﺎﺋﯿﺮ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺳﻨﯿﭩﺮ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺳﻨﯿﭩﺮ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﮈﺍﺋﻨﻨﮓ ﭨﯿﺒﻞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﺑﭩﮭﺎ ﮐﺮ ﭼﻮﻟﮩﮯ ﭘﺮ ﭼﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯿﮟ ﺁ ﺑﯿﭩﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻃﯿﺎﺭﻭﮞ، ﻣﯿﺰﺍﺋﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﭘﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮭﺎﺅ ﺗﺎﺅ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﭼﺎﺋﮯ ﭘﮑﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺋﯽ۔ ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺋﮯ ﺩﻭ ﭘﯿﺎﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮉﯾﻠﯽ۔ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﻟﯽ ﺳﻨﯿﭩﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﮔﯿﭧ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﮔﺎﺭﮈ ﮐﻮ ﺗﮭﻤﺎ ﺩﯼ۔ ﭘﮭﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﺁ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺳﻨﯿﭩﺮ ﺳﮯ ﻣﺤﻮ ﮐﻼﻡ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﻔﺖ ﻭ ﺷﻨﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺅ ﺗﺎﺅ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﺮﺍﺋﻂ ﻃﮯ ﭘﺎ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮔﻮﻟﮉﮦ ﻣﺎﺋﯿﺮ ﺍﭨﮭﯽ، ﭘﯿﺎﻟﯿﺎﮞ ﺳﻤﯿﭩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺳﻨﯿﭩﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﻠﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯽ ” ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺩﺍ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮨﮯ۔ ﺁﭖ ﺗﺤﺮﯾﺮﯼ ﻣﻌﺎﮨﺪﮮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﯿﮑﺮﭨﺮﯼ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﯿﮑﺮﭨﺮﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﺠﻮﺍ ﺩﯾﺠﺌﮯ۔ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﻗﺘﺼﺎﺩﯼ ﺑﺤﺮﺍﻥ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺗﮭﺎ، ﻣﮕﺮ ﮔﻮﻟﮉﮦ ﻣﺎﺋﯿﺮ ﻧﮯ ﮐﺘﻨﯽ ” ﺳﺎﺩﮔﯽ “ ﺳﮯ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻠﺤﮯ ﮐﯽ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﺳﻮﺩﺍ ﮐﺮ ﮈﺍﻻ۔ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﮐﺎﺑﯿﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺳﻮﺩﮮ ﮐﻮ ﺭﺩ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻒ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺗﮏ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﮐﺘﻔﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ۔ ﮔﻮﻟﮉﮦ ﻣﺎﺋﯿﺮ ﻧﮯ ﺍﺭﮐﺎﻥ ﮐﺎﺑﯿﻨﮧ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻒ ﺳﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ : ” ﺁﭖ ﮐﺎ ﺧﺪﺷﮧ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﺟﯿﺖ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻋﺮﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺴﭙﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮨﻤﯿﮟ ﻓﺎﺗﺢ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺴﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﻓﺎﺗﺢ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻨﮓ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻓﺎﺗﺢ ﻗﻮﻡ ﻧﮯ ﮐﺘﻨﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮐﺘﻨﯽ ﺑﺎﺭ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺳﮑﮯ ﺩﺳﺘﺮ ﺧﻮﺍﻥ ﭘﺮ ﺷﮩﺪ، ﻣﮑﮭﻦ، ﺟﯿﻢ ﺗﮭﺎ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﻮﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﮯ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﺗﮭﮯ ﯾﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻧﯿﺎﻡ ﭘﮭﭩﮯ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻓﺎﺗﺢ ﺻﺮﻑ ﻓﺎﺗﺢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ “ ﮔﻮﻟﮉﮦ ﻣﺎﺋﯿﺮ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﻭﺯﻥ ﺗﮭﺎ، ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﮐﺎﺑﯿﻨﮧ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺳﻮﺩﮮ ﮐﯽ ﻣﻨﻈﻮﺭﯼ ﺩﯾﻨﺎ ﭘﮍﯼ۔ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮔﻮﻟﮉﮦ ﻣﺎﺋﯿﺮ ﮐﺎ ﺍﻗﺪﺍﻡ ﺩﺭﺳﺖ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺍﺳﯽ ﺍﺳﻠﺤﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﺯﻭﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻋﺮﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﻭﮞ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺟﻨﮓ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺮﺻﮧ ﺑﻌﺪ ﻭﺍﺷﻨﮕﭩﻦ ﭘﻮﺳﭧ ﮐﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮮ ﻧﮯ ﮔﻮﻟﮉﮦ ﻣﺎﺋﯿﺮ ﮐﺎ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ : ” ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺩﻟﯿﻞ ﺗﮭﯽ، ﻭﮦ ﻓﻮﺭﺍً ﺁﭖ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﯾﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺣﮑﻤﺖ ﻋﻤﻠﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ؟ “ ﮔﻮﻟﮉﮦ ﻣﺎﺋﯿﺮ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﭼﻮﻧﮑﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ”: ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﺳﺘﺪﻻﻝ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ‏( ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ‏) ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ‏( ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ‏) ﺳﮯ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﻃﺎﻟﺒﮧ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﮐﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻧﮩﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺳﻮﺍﻧﺢ ﺣﯿﺎﺕ ﭘﮍﮬﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﻨﻒ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﭼﺮﺍﻍ ﺟﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﻞ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺟﺎ ﺳﮑﮯ، ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﮧ ‏( ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺻﺪﯾﻘﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ‏) ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺯﺭﮦ ﺑﮑﺘﺮ ﺭﮨﻦ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺗﯿﻞ ﺧﺮﯾﺪﺍ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺣﺠﺮﮮ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﻧﻮ ﺗﻠﻮﺍﺭﯾﮟ ﻟﭩﮏ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺐ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺍﻗﺘﺼﺎﺩﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺁﺩﮬﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻓﺎﺗﺢ ﮨﯿﮟ، ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﻟﮩٰﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺭﮨﻨﺎ ﭘﮍﮮ، ﭘﺨﺘﮧ ﻣﮑﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺧﯿﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ، ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﺧﺮﯾﺪﯾﮟ ﮔﮯ، ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺗﺢ ﮐﺎ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ “ ﮔﻮﻟﮉﮦ ﻣﺎﺋﯿﺮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﮯ ﺗﻮ ﭘﺮﺩﮦ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ، ﻣﮕﺮ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﻧﮕﺎﺭ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﯽ ﺍﺳﮯ ” ﺁﻑ ﺩﯼ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ “ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﺋﻊ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ، ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﻮﻡ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ، ﻭﮨﺎﮞ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﻗﻒ ﮐﻮ ﺗﻘﻮﯾﺖ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻭﺍﺷﻨﮕﭩﻦ ﭘﻮﺳﭧ ﮐﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮮ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺣﺬﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﻭﻗﺖ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺭﮨﺎ، ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﮔﻮﻟﮉﮦ ﻣﺎﺋﯿﺮ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﻧﮕﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﻋﻤﻠﯽ ﺻﺤﺎﻓﺖ ﺳﮯ ﺍﻟﮓ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻣﮧ ﻧﮕﺎﺭ، ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﮯ ﺑﯿﺲ ﺑﮍﮮ ﻧﺎﻣﮧ ﻧﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﻟﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﺳﯽ ﻧﺎﻣﮧ ﻧﮕﺎﺭ ﮐﺎ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﻟﯿﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻭﺍﺷﻨﮕﭩﻦ ﭘﻮﺳﭧ ﮐﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﮔﻮﻟﮉﮦ ﻣﺎﺋﯿﺮ ﮐﺎ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮔﻮﻟﮉﮦ ﻣﺎﺋﯿﺮ ﮐﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ، ﺟﻮ ﺳﯿﺮﺕ ﻧﺒﻮﯼ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﮔﻮﻟﮉﮦ ﻣﺎﺋﯿﺮ ﮐﺎ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﮩﺎ : ” ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﯿﺎ، ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺏ ﺑﺪﻭﺅﮞ ﮐﯽ ﺟﻨﮕﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﻋﻤﻠﯿﺎﮞ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻃﺎﺭﻕ ﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺟﺒﺮﺍﻟﭩﺮ ‏( ﺟﺒﻞ ﺍﻟﻄﺎﺭﻕ ‏) ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺍﺳﭙﯿﻦ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﮐﮯ ﺁﺩﮬﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺠﺎﮨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﻮﺭﺍ ﻟﺒﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺑﮩﺘﺮّ ﺑﮩﺘﺮّ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﺎﮔﻞ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﮐﮭﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﭨﮑﮍﻭﮞ ﭘﺮ ﮔﺰﺍﺭﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﮧ ﻭﮦ ﻣﻮﻗﻊ ﺗﮭﺎ، ﺟﺐ ﮔﻮﻟﮉﮦ ﻣﺎﺋﯿﺮ ﮐﺎ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﻧﮕﺎﺭ ﻗﺎﺋﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ” ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮔﻨﺘﯽ ﮨﮯ، ﺩﺳﺘﺮ ﺧﻮﺍﻥ ﭘﺮ ﭘﮍﮮ ﺍﻧﮉﮮ، ﺟﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﮭﻦ ﻧﮩﯿﮟ۔ “ ﮔﻮﻟﮉﮦ ﻣﺎﺋﯿﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﻧﮕﺎﺭ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﺟﺐ ﮐﺘﺎﺑﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﺱ ﺳﺎﺭﯼ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮨﻮﺋﯽ ۔ ﯾﮧ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﭽﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﮭﺎﻧﮏ ﺟﮭﺎﻧﮏ ﮐﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﺎﻥ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺟﮭﻨﺠﮭﻮﮌ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺑﯿﺪﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺩﺭﺱ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﮨﻤﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺩﮬﮍﯼ ﻋﺒﺎﺅﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﭩﮯ ﺟﻮﺗﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﮔﻠﮧ ﺑﺎﻥ، ﭼﻮﺩﮦ ﺳﻮ ﺑﺮﺱ ﻗﺒﻞ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﺎﻥ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ؟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻨﮕﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﭼﺎﺭ ﺑﺮﺍﻋﻈﻢ ﻓﺘﺢ ﮐﺮ ﻟﺌﮯ؟ ﺍﮔﺮ ﭘُﺮﺷﮑﻮﮦ ﻣﺤﻼﺕ، ﻋﺎﻟﯽ ﺷﺎﻥ ﺑﺎﻏﺎﺕ، ﺯﺭﻕ ﺑﺮﻕ ﻟﺒﺎﺱ، ﺭﯾﺸﻢ ﻭ ﮐﻤﺨﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﺳﺘﮧ ﻭ ﭘﯿﺮﺍﺳﺘﮧ ﺁﺭﺍﻡ ﮔﺎﮨﯿﮟ، ﺳﻮﻧﮯ، ﭼﺎﻧﺪﯼ، ﮨﯿﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﮨﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﺗﺠﻮﺭﯾﺎﮞ، ﺧﻮﺵ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺒﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﻨﮑﮭﻨﺎﺗﮯ ﺳﮑﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﮭﻨﮑﺎﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﭽﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﻮ ﺗﺎﺗﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﭨﮉﯼ ﺩﻝ ﺍﻓﻮﺍﺝ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﮐﻮ ﺭﻭﻧﺪﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﻌﺘﺼﻢ ﺑﺎﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﺗﮏ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﺘﯽ۔ﺁﮦ ! ﻭﮦ ﺗﺎﺭﯾﺦِ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﮐﺘﻨﺎ ﻋﺒﺮﺕ ﻧﺎﮎ ﻣﻨﻈﺮ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﻣﻌﺘﺼﻢ ﺑﺎﻟﻠﮧ ، ﺁ ﮨﻨﯽ ﺯﻧﺠﯿﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﮍﻭﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮑﮍﺍ ، ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﻮﺗﮯ ﮨﻼﮐﻮ ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ۔ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﮨﻼﮐﻮ ﺧﺎﻥ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺳﺎﺩﮦ ﺑﺮﺗﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎ ﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺸﺘﺮﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﮨﺮﺍﺕ ﺭﮐﮫ ﺩﺋﯿﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﻌﺘﺼﻢ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ۔ : ’’ ﺟﻮ ﺳﻮﻧﺎ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﺗﻢ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍُﺳﮯ ﮐﮭﺎﺅ ‘‘! ۔
ﺑﻐﺪﺍﺩ ﮐﺎ ﺗﺎﺝ ﺩﺍﺭ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﮔﯽ ﻭ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺑﻨﺎ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ، ﺑﻮﻻ : ’’ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﮭﺎﺅﮞ؟ ‘‘ ﮨﻼﮐﻮ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﮐﮩﺎ ’’ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﻧﺎ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﺟﻤﻊ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ؟ ‘‘ ۔ ﻭﮦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺟﺴﮯ ﺍُﺳﮑﺎ ﺩﯾﻦ ﮨﺘﮭﯿﺎﺭ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﭘﺎﻟﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﺮﻏﯿﺐ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﮐﭽﮫ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﺎ۔ ﮨﻼﮐﻮ ﺧﺎﻥ ﻧﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﮔﮭﻤﺎ ﮐﺮ ﻣﺤﻞ ﮐﯽ ﺟﺎﻟﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ : ’’ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍِﻥ ﺟﺎﻟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮕﮭﻼ ﮐﺮ ﺁﮨﻨﯽ ﺗﯿﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﺋﮯ ؟ ﺗﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﮨﺮﺍﺕ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻗﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺩﯼ، ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺒﺎﺯﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﯿﺮﯼ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻓﻮﺍﺝ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﺗﮯ؟ ‘‘ ۔ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻧﮯ ﺗﺎﺳﻒ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ ’’ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﯾﮩﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺗﮭﯽ ‘‘ ۔ ﮨﻼﮐﻮ ﻧﮯ ﮐﮍﮎ ﺩﺍﺭ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ : ’’ ﭘﮭﺮ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﻧﯿﻮﺍﻻ ﮨﮯ ، ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔ ‘‘ ۔ ﭘﮭﺮ ﮨﻼﮐﻮ ﺧﺎﻥ ﻧﮯ ﻣﻌﺘﺼﻢ ﺑﺎﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻟﺒﺎﺩﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﯿﭧ ﮐﺮ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﭨﺎﭘﻮﮞ ﺗﻠﮯ ﺭﻭﻧﺪ ﮈﺍﻻ، ﺑﻐﺪﺍﺩ ﮐﻮ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﮈﺍﻻ۔ ﮨﻼﮐﻮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ’’ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﮐﻮ ﺻﻔﺤﮧ ﮨﺴﺘﯽ ﺳﮯ ﻣﭩﺎ ﮈﺍﻻ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍَﺏ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺍﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎ ﺳﮑﺘﯽ۔ ‘‘ ۔
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺗﻮ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮔﻨﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﺤﻞ، ﻟﺒﺎﺱ، ﮨﯿﺮﮮ، ﺟﻮﺍﮨﺮﺍﺕ ﻟﺬﯾﺰ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺑﮭﯽ ﻋﻘﻞ ﻭ ﺷﻌﻮﺭ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﻮ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻐﻠﯿﮧ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﺎ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﮐﺒﮭﯽ ﻏﺮﻭﺏ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮐﺮﻭ ﺟﺐ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﮯ ﭼﭙﮯ ﭼﭙﮯ ﭘﺮ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮔﺎﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﺤﻘﯿﻘﯽ ﻣﺮﺍﮐﺰ ﻗﺎﺋﻢ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺗﺐ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺷﮩﻨﺸﺎﮦ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺝ ﻣﺤﻞ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﻭﺍ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﻣﻐﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻮﻡ ﻭ ﻓﻨﻮﻥ ﮐﮯ ﺑﻢ ﭘﮭﭧ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺗﺐ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﺎﻥ ﺳﯿﻦ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﻮﯾﮯ ﻧﺌﮯ ﻧﺌﮯ ﺭﺍﮒ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺟﺐ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ، ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﻧﮕﺎﻟﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺤﺮﯼ ﺑﯿﮍﮮ ﺑﺮ ﺻﻐﯿﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﻭﮞ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍَﺭﺑﺎﺏ ﻭ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺷﺮﺍﺏ ﻭ ﮐﺒﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﮓ ﻭ ﺭﺑﺎﺏ ﺳﮯ ﻣﺪﮨﻮﺵ ﭘﮍﮮ ﺗﮭﮯ۔ ﺗﻦ ﺁﺳﺎﻧﯽ، ﻋﯿﺶ ﮐﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺶ ﭘﺴﻨﺪﯼ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺍ۔ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻤﮏ ﺯﺩﮦ ﻧﻈﺎﻡ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﯿﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﻮ ﺍِﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﮐﻮ ﺋﯽ ﻏﺮﺽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺠﻮﺭﯾﺎﮞ ﺑﮭﺮﯼ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺧﺎﻟﯽ؟ ﺷﮩﻨﺸﺎﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺎﺝ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﺮﮮ ﺟﮍﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ؟ ﺩﺭﺑﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﺎﻣﺪﯾﻮﮞ ، ﻣﺮﺍﺛﯿﻮﮞ ، ﻃﺒﻠﮧ ﻧﻮﺍﺯﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﺧﻮﺍﺭ ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺟﮭﺮﻣﭧ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ؟ ﯾﺎ ﺩ ﺭﮐﮭﯿﮯ ! ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻏﺮﺽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻋُﺬﺭ ﻗﺒﻮ ﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ۔
ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺻﺪ ﺍﻓﺴﻮﺱ ! ﺳﯿﺮﺕ ﻧﺒﻮﯼ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺳﺒﻖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ﻣﮕﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍِﺱ ﭘﮩﻠﻮ ﺳﮯ ﻧﺎﺁﺷﻨﺎ ﺭﮨﮯ۔ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﻭ ﭨﯿﮑﻨﺎﻟﻮﺟﯽ، ﻋﻠﻮﻡ ﻭ ﻓﻨﻮﻥ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﺮﺱ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻻﺣﺎﺻﻞ ﺑﺤﺜﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﺿﺮﺭﻭﯼ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﺭﮨﮯ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺯﻭﺍﻝ ﮨﻤﺎﺭﺭ ﻣﻘﺪﺭ ﭨﮭﮩﺮﺍ۔ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺑﮍﯼ ﺑﮯ ﺭﺣﻢ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ..
ﺣﻮﺍﻟﮧ : ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺒﺮﺕ ﺁﻣﻮﺯ ﻭﺍﻗﻌﮧ

Saturday, 5 May 2018

محب الوطن سوشل میڈیا ایکٹی وسٹس اپنی صفیں سیدھی کر لیں

نوٹ یہ تحریر اگست 2017 میں لکھی تھی جس وقت پی ٹی ایم کسی کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھی۔ تحریر پڑھ لیں اور آج کے حالات سے موازنہ کر لیں۔

اپنی صفیں سیدھی کر لیں.
بات جب تک بھارت جیسے کمینے اور مکار دشمن تک محدود تھی پاکستانی ایکٹیو وسٹس اپنے تئیں لڑتے رہے. بات اب بھارت تک محدود نہیں ہے بڑھ کے امریکہ تک جا چکی ہے. ڈونلڈ کا پاکستان کے خلاف بیان، آرمی چیف کا امریکہ کے خلاف بیان، چین کی طرف سے پاکستان کے مؤقف کا دفاع، وزیراعظم کا دورہ سعودیہ، افغان طالب آن کا جارحانہ بیان یہ سب واقعات بہت کچھ بتا رہے ہیں. عالمی تجزیہ کار ڈونلڈ کو کوس رہے ہیں کہ پاکستان جیسے اہم اتحادی کو کھو دینا امریکی نقصان ہو گا. ہمارے پاس چائنہ حلیف تو ہے ہی لیکن روسی کیمپ جوائن کرنے کا آپشن بھی موجود ہے اگر روس بھارت سے ہاتھ اٹھا لے یا بھارت خود امریکی کیمپ میں چلا جائے.
بہرحال خارجہ تعلقات اپنی جگہ، وہ وقت اب دور نہیں کہ جب سوشل میڈیا پہ ہمارا مقابلہ سی آئی اے سے ہوا کرے گا. میں مکمل یقین کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ سوشل میڈیا پہ ہمارا میچ امریکہ کے ساتھ پڑنے والا ہے. (جس کی ہمیں کوئی پروا نہیں اور ہم مکمل اعتماد کے ساتھ تیار ہیں) لیکن امریکہ کے ساتھ یہ میچ اس دفعہ صرف پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹیو وسٹس نہیں کھیلیں گے. یہ میچ پوری قوم کھیلے گی. میں بتاتا ہوں کیسے. دیگر ممالک میں امریکا کے کرتوت ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں تھوڑا بہت باخبر پاکستانی بھی جانتا ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ سی آئی اے سے مل کر کون سی چالیں کب چلتی ہے. لیبیا میں انہوں نے سیاسی انتشار کا کارڈ کھیلا، شام میں فرقہ واریت کا کارڈ کھیلا، عراق میں کیمیائی ہتھیاروں اور نسل پرستی کا کارڈ کھیلا. غرض تبت سے لے کر روس تک افغانستان سے لے کر شمالی کوریا اور ویت نام تک تاریخ امریکہ کی وارداتوں سے بھری پڑی ہے. امریکہ اب بھی وہی وارداتیں دہرائے گا بس طریقہ واردات تبدیل ہو گا. اس جنگ میں امریکہ سوشل میڈیا اور میڈیا کا بھاری استعمال کرے گا. سرد جنگ کے زمانے سے لے کر اب تک سی آئی اے کےجی بی کے مقابل رہ کر نفسیاتی جنگ (سائیکلوجیکل وار فیئر) کا وسیع تجربہ بھی رکھتی ہے. پاکستانی قوم کو اس کے مقابل کچھ بھی نہیں کرنا سوائے اپنا رویہ اور طرزِ عمل محتاط کرنے کے. سائیکلوجیکل اور میڈیا وارفیئر کا مقابلہ کرنے والے کریں گے یا پھر سوشل میڈیا ایکٹی وسٹس.
قوم کو محض ساتھ دینا ہے کیوں کہ کوئی بھی جنگ بنا قوم کی شمولیت سے نہ تو لڑی جا سکتی ہے اور نا ہی جیتی جا سکتی ہے. حربے آپ کے سامنے ہیں لسانیت، صوبائیت، فرقہ پرستی، سیاسی انتشار جس میں ایم کیو ایم اے این پی اور بائیں بازو کی دیگر پرو انڈیا پرو افغانستان جماعتیں استعمال ہو سکتی ہیں. فوج چونکہ دفاع کی پہلی لائن ہے اور دفاع کی پہلی لائن پہ حملہ سب سے شدید ہوتا ہے لہٰذا یہ نکتہ زہن نشین رہے کہ دشمن کی یہ چال کبھی کامیاب نہیں ہونے دینی. نفسیاتی جنگ دماغوں کے اندر لڑی جاتی اور حملہ آپ کی سوچ پہ کیا جاتا ہے. توہین رسالت پہ مبنی خاکے نفسیاتی جنگ کی ایک چھوٹی سی مثال ہیں جنہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو بے چین کر دیا تھا. لہذا فوج سے متعلق نفسیاتی آپریشنز متوقع رکھیں. سیاسی انتشار پہلے ملک میں موجود ہے مگر کبھی بھی اس کو ملک پہ مقدم نہ کریں. ہر حال میں اپنا ملک اہم سمجھیں. فرقہ پرست پہلے ہی ملک دشمنوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں کسی بھی قیمت پہ ان لوگوں کے پاس اپنا دماغ گروی مت رکھیں یہ کسی نہ کسی انداز سے دشمنوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں کبھی انجانے میں کبھی جان بوجھ کر. لسانیت پرستی اور صوبائیت پرستی سے دور رہیں یہ ملک ہے تو ہم ہیں یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں.
باقی رہے ایکٹی وسٹس اور لکھاری حضرات. تو جناب اپنا شمار تو تین میں ہوتا ہے نا تیرہ میں مگر جو جو بندا بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس ملک کا وفادار شہری ہونے کے ناطے اس ملک کا نظریاتی و ارضیاتی دفاع ان پہ فرض ہے وہ قلم کے زریعے یہ جنگ لڑنے کی تیاری کر لیں. محب الوطن سوشل میڈیا ایکٹی وسٹس اپنی صفیں سیدھی کر لیں

یہی ففتھ جنریشن وار ہے

وہ تب تک حاوی نہیں ہوسکتے جب تک آپ کی فوج ہے، فوج کو وہ شکست نہیں دے سکے، اب یہ کام وہ آپ سے لینا چاہتے ہیں۔

بس یہی ففتھ جنریشن وار ہے۔


اگر آپ یہ خود کشی نہیں کرنا چاہتے تو اپنی فوج کو نشانہ بنانا بند کیجئیے۔

اور اگر انکا مقابلہ کرنے کا دل ہے تو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو مورچہ سمجھ لیجئیے۔۔۔۔۔۔۔

بنیادی طور پر آپ کے تین نمایاں دشمن ہیں۔

لبرلز: ایمان کے دشمن
خارجی: جان کے دشمن
جمہوریے: مال کے دشمن

تینوں کے پاس خوبصورت نعرے

لبرلز انسانیت کا نعرہ،
خارجی اسلام کا نعرہ،
اور جمہوریے حقوق کا نعرہ،

لیکن حقیقت میں ایک کافر کرتا ہے، دوسرا مارتا ہے اور تیسرا لوٹتا ہے۔

تینوں کا آپس میں ایک غیراعلانیہ اتحاد ہے۔

آپ غور کیجئیے ۔۔۔۔۔۔۔

پیپلز پارٹی دہشت گردوں کی فنڈنگ اور علاج کرتی رہی،
ن لیگ دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کو ناکام بناتی ہے،
لبرلز بی ایل اے کا کیس مسنگ پرسنز کے نام سے لڑتے ہیں،
عاصمہ جہانگیر ٹی ٹی پی کے خلاف آرمی عدالتوں کے فیصلوں کو کلعدم کرواتی ہیں،
دہشت گرد نواز شریف کے لئے ماڈل ٹاؤن جاکر لڑتے ہیں،
وقاص گوریا سوشل میڈیا پر نواز شریف کا کیس لڑتا ہے،

اور ان تینوں کا مشترکہ دشمن کون؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاک فوج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!!

خارجی پاک فوج کو اسلام دشمن کہہ کر،
لبرلز پاک فوج کو دہشت گرد کہہ کر،
اور سیاست دان پاک فوج کو جمہوریت دشمن کہہ کر اس پر حملہ آور ہیں،

ان کو امریکہ، برطانیہ اور انڈیا کی بھرپور مدد و حمایت حاصل ہے۔

ان سے لڑنا کیسے ہے؟

1 ۔۔۔ سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف پوسٹ کیا گیا مواد ہرگز شئیر مت کیجئیے۔

2 ۔۔۔۔ ایسے مواد پر لائک یا کمنٹ مت کیجئیے۔ مخالفت میں بھی کمنٹ کرینگے تو وہ پوسٹ کی ریچ بڑھا دیگا۔

3۔۔۔۔۔۔ ہوسکے تو فیس بک کو رپورٹ کیجئیے۔

4 ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس اکاؤنٹس سے ایسا مواد شئیر کیا گیا ہے اسکو انفرینڈ یا انبلاک کیجئیے۔

5 ۔۔۔۔۔ ایسے اکاؤنٹس اکثر فیک ہوتے ہیں اس لئے فیس بک کو رپورٹ کیجئیے۔

6 ۔۔۔۔ پاک فوج کو سپورٹ کرنے والا مواد گروپس میں اور وٹس ایپ وغیرہ پر زیادہ سے زیادہ شیر کیجئیے۔

7 ۔۔ پاک فوج کی سپورٹ میں بنائے گئے پیجز اور اکاؤنٹس کو لائیک یا فالو کیجئیے۔

8 ۔۔۔۔ خود بھی لکھنے کی کوشش کیجئیے۔

9 ۔۔۔۔۔ یہ فوج آپ کے لئے جانیں دے رہی ہے اس پر بھروسہ رکھئیے۔ غیر واضح معاملات میں دشمن آپ کو فوج سے بدگمان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی باتوں میں مت آئیے۔

" فوج اچھی ہے اور جرنیل برے ہیں" کہہ کر آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔

ان کے سامنے پاک فوج کی قربانی کی خبر پیش کریں تو بظاہر غم زدہ ہونے کا ڈراما کرتے ہوئے آپ کو بتائنگے کہ " یہ فلاں جرنیل کی غلطی ہے" اور یوں پاک فوج پر ہی تنقید کرینگے۔

اگر دشمن حملہ کرے تو بجائے اس کو ملامت کرنے کے یہ آپ کو پاک فوج کو ہی ملامت کرتے نظر آئے گے کہ " کہاں گئی آپ کی جانباز فوج" ۔۔۔۔

ان کی ٹائم لائن پر سوائے پاک فوج پر تنقید کے آپ کو کچھ نہیں ملے گا لیکن واویلا مچائے گے کہ " وہ کون سی مقدس گائے ہے جس پر تنقید کی اجازت نہیں " ۔۔۔۔۔ :) ۔۔ آپ کو علم ہونا چاہئیے کہ پاکستان میں فوج پر جتنی بے دھڑک تنقید ہوتی ہے دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ہوتی۔

ان کی ان چالوں کو سمجھئیے۔

گستاخانہ پیجز چلانے والے، آپ کو بموں سے اڑانے والے اور آپ کو لوٹنے والے ہرگز ہرگز ہرگز آپ کے خیر خواہ نہیں ہیں۔

اللہ کی قسم پاک فوج نہ رہی تو افغانستان اور انڈیا آپ کو کھا جائے گے۔ ان کو تو چھوڑیں آپ ان خوارج سے ہی نہیں نمٹ سکیں گے جن کو صرف آپ کے لئے تیار کیا گیا ہے۔

اسلام کے خلاف جنگ میں پاکستان اہم ترین قلعہ ہے اور پاکستان تب تک فتح نہیں ہو سکتا جب تک پاک فوج موجود ہے۔ اپنی ہی فوج کو شکست دینے میں دشمن کا ہاتھ مت بٹائیے۔

نوٹ ۔۔ اپنی جنگ کا آغاز اس مضمون کو شئیر کر کے کیجئیے۔

Tuesday, 1 May 2018

اسلام پسند پاکستانی و افغانی


اسلام پسند پاکستانی و افغانی اورکمیونسٹ (مرتد) افغانی و پاکستانی میں زمین و آسمان کا فرق ہے
اسلام پسندپاکستانی افغانی کل بهی پاکستان کا ہمدرد تها آج بھی پاکستان کا ہمدرد ہے اور کیمونسٹ پاکستانی و افغانی کل بهی پاکستان کا دشمن تها آج بھی دشمن ہے
اسلام پسند پاکستانی وآفغانی کو کبھی کوئی شکست نہ دے سکا اور کمیونسٹ پاکستانی و مرتد افغانی ہمیشہ غلام رہا
اسلام پسند پاکستانیوں وافغانیوں میں بڑے بڑے اولیاء
الله اور مجاہد گزرے ہیں جبکہ کیمونسٹ پاکستانی و مرتد افغانی ہمیشہ نیکر میں گھومتا رہا
اسلام پسند پاکستانی و افغانی ہمیشہ اپنے ملک پاکستان و افغانستان میں رہا جو یہود و نصاریٰ اور ملحدین سے لڑتا رہا اور کمیونسٹ پاکستانی و مرتد افغانی ہمیشہ سے یورپ،اورامریکہ میں رہا اور وہاں سے آفغان آفغان کرتا رہا اور ساتھ میں نمک حرامی بهی کرتا رہا
اسلام پسند پاکستانی وافغانی ہمیشہ الله تعالى اور رسول الله کا دین لوگوں تک پینچاتا رہا اور کمیونسٹ پاکستانی و مرتد افغانی ہمیشہ چوری،ڈکیتی،لوٹ مار اور ہجرت پر لوگوں کو قتل کرتا رہا
اسلام پسند پاکستانی وافغانی جدھر رہا وہاں کے لوگوں کے احسانات اور مہمان نوازی کو یاد کرتا رہا جبکہ ملحدپاکستانی و مرتد افغانی نے جس پلیٹ میں کهایا اسی پلیٹ میں تھوکتا رہا
اسلام پسند پاکستانی وافغانی نے سادہ زندگی گزاری مگر کبھی بھی اپنی خود داری،روایات اور ثقافت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جبکہ کمیونسٹ پاکستانی و مرتد افغانی نے پیسوں کیلئے اپنی بیٹیاں،روایات و اقدار،ثقافت اور مزہب تک بھیج دیا  
یاد رہے پاکستان میں زیادہ تر کمیونسٹ سوچ والے افغانی لوگ رہتے ہیں اس لئے نمک حرامی کر رہے ہیں اصل افغانی تو افغانستان میں ہیں جو امریکہ اور نیٹو کے خلاف لڑ رہے ہیں
نوٹ:-کمیونسٹ افغانی کو عام طور پر #گل_مرجان (مرتد)  اورپاکستانی ملحدین کو سیکولر کے نام سے پکارا جاتا ہے جو بے غیرتی کا دوسرا نام ہے ۔۔۔
ترمیم وترتیب کے ساتھ .......

Monday, 30 April 2018

بلاآخر پی ٹی ایم اپنے اصل مطالبات پر آہی گئی۔

بلاآخر پی ٹی ایم اپنے اصل مطالبات پر آہی گئی۔
پی ٹی ایم پاکستان دشمنوں کے سٹریٹیجک مفادات کی نگران تحریک ہے اور یہ بہت جلد فاٹا سے پاک فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کرے گی۔
تاکہ افغانستان میں امریکہ نے داعش کے جو لشکر بیٹھا رکھے ہیں ان کو دوبارہ فاٹا میں داخل کیا جا سکے۔
اب پی ٹی ایم نے فاٹا سے پاک فوج کے مکمل انخلاء کا مطالبہ شروع کر دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہ سوات میں پاک فوج کی چھاؤنی تعمیر نہ کی جائے۔
پی ٹی ایم باڑ کی تعمیر پر بھی اعتراض کر رہی ہے اور افغانیوں کی واپسی پر بھی۔
مسلمان ممالک کو خود اپنی ہی عوام کے ذریعے برباد کرنے کا یہ تجربہ لیبیا، شام اور عراق میں کامیابی سے کیا جا چکا ہے۔
سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو حقوق اور ظلم کے چند نعرے دے کر اٹھاؤ،
اور خود اپنی ہی ریاست سے ٹکرا دو،
پھر ریاست کے خلاف مظلوموں کی مدد کے لیے انسانی ہمدردی کے نام پر پہنچ جاؤ۔
عراق، شام اور لیبیا میں امریکہ اسی اصول کے تحت پہنچا اور کھنڈر بنا کر رکھ دیا۔ حقوق وغیرہ تو ایک طرف رہے لوگ اپنی جان، مال، عزت اور وطن سے بھی محروم ہوگئے۔
پی ٹی ایم کے ذریعے اب یہ تجربہ پاکستان میں کرنے کی کوشش کی زور و شور سے جاری ہے۔ ظلم اور حقوق کے نام پر لوگوں کو پاکستان کے خلاف اکسانا اور ساتھ ہی امریکہ اور اقوام عالم سے پاکستان کے خلاف مدد طلب کرنا۔
وزیرستان پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق پی ٹی ایم کے عناصر نے وزیرستان کا امن دوبارہ خراب کرنا شروع کر دیا ہے اور وہاں اکا دکا کاروئیاں شروع ہوگئی ہیں اور ساتھ ہی چور مچائے شور کے مصداق پی ٹی ایم کا یہ واویلا بھی کہ یہ پاک فوج کر رہی ہے۔
جنگ زدہ علاقوں میں تعئنات پاک فوج کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی گئی ہے۔ کل پاک فوج کی گاڑی کا گھیراؤ کیا گیا، جلد ہی پاک فوج پر کوئی اکا دکا حملہ بھی ہوسکتا ہتھیاروں کے بغیر جس کو احتجاج کا نام دیا جائیگا۔ پاک فوج جواباً کاروائی کرے گی تو بس پھر دیکھنا پوری دنیا میں کیسا واویلا ہوتا ہے کہ جی غیر مسلح سویلینز پر پاک فوج نے حملہ کر دیا وغیرہ۔
اس قسم کے ڈرامے کی ریکارڈنگ وغیرہ کا بھی مکمل بندوبست کیا جاتا ہے تاکہ " ریاستی ظلم " کا نظارہ لوگ اپنی آنکھوں سے کر سکیں۔ یہ نہ ہوسکا تو کسی کو بھی پاک فوج کی وردیاں پہنا کر کچھ بھی کروایا جا سکتا ہے بنگلہ دیش کی طرح۔
یہ بات نوٹ کی جانی چاہئے کہ ن لیگ اور محمود اچکزئی کی حکومت ان بدمعاشوں کی مکمل سپورٹ کا اعلان کر رہی ہے بلکہ ان کے پاکستان مخالف جلسوں کے لیے مریم نواز نے کارکن بھی بھیجے۔ اس جلسے میں پاکستان کی سرزمین پر پاکستان کا جھنڈا لہرانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
لیکن اس غدار ن لیگی حکومت نے لوگوں کو بغاوت پر اکسانے والے اس گروہ سے تاحال بات چیت کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ کیوں ؟؟
پاک فوج نے ان کو اپنے بچے قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ہر قسم کے مزاکرات کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں تو یہ مزید شیر ہوگئے اور دو دن پہلے منظور پشتین نے باقاعدہ جنگ کی دھمکی دے ڈالی۔ البتہ پوسٹ فوراً ہٹا دی۔
( موصوف ملالہ کی طرح امریکہ سے امن کا نوبل انعام بھی لینا چاہتے ہیں شائد اس لیے :) )
اب ان کے پیروکار کھل کر پاکستان کے خلاف امریکہ اور انڈیا سے مدد طلب کرنے پر آگئے ہیں۔ بلکل الطاف حسین کی طرح۔
خدا کے لیے اب تو یہ راگ الاپنا بند کر دو کہ " جی ان کے مطالبات تو جائز ہیں "
پشتونوں کو ورغلا کر برباد کرنے کی اس تحریک کے خلاف خود پشتونوں کو کھڑا ہونا ہوگا ورنہ یہ لوگ ہمارا امن اور ہمارا ملک ہم سے چھین لینگے!
اس تحریر کو ہر پشتون تک پہنچاؤ۔
(سید زید زمان حامد)