Friday, 28 September 2018

ستائیس سال پردیس میں ہو چکے تھے۔


پیارے ابو جان اور امی جان​ مجھے آج ملک سے باہر پانچ سال ہو گئے اور میں اگلے ماہ اپنے وطن واپسی کا ارداہ کر رہا ہوں، میں نے اپنے ویزا کے لیے جو قرض لیا تھا وہ ادا کر چکا ہوں اور کچھ اخراجات پچھلی چھٹی پر ہو گئے تھے۔ تحفے تحائف لینے میں اور کچھ دیگر اخراجات۔ اب میرے پاس کوئی بڑی رقم موجود نہیں لیکن میری صحت ابھی ٹھیک ہے اور میں خود کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ پاکستان جا کر کوئی بھی اچھی نوکری کر سکوں اور گھر کے اخراجات چلا سکوں۔ یہ جگہ مجھے پسند نہیں ہے میں اپنے گھر رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کیا رائے ہے اس بارے میں​ آپکا پیارا – جمال​
پیارے بیٹے جمال​ تمھارا خط ملا اور ہمیں تمھاری چھٹی کے بارے میں پڑھ کر خوشی ہوئی۔باقی تمھاری امی کہہ رہی تھی کہ گھر کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے اور تم جانتے ہو برسات شروع ہونے والی ہے۔ یہ گھر رہنے کے قابل نہیں ہے۔ گھر چونکہ پرانی اینٹوں اورلکڑیوں سے بنا ہے اس لیے اس کی مرمت پر کافی خرچ آئے گا۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ کنکریٹ اور سیمینٹ سے بنا ہوا گھر ہو تو بہت اچھا ہو۔ ایک اچھا اور نیا گھر وقت کی ضرورت ہے۔ تم جانتے ہو یہاں کے کیا حالات ہیں اگر تم یہاں آ کر کام کرو گے تو اپنی محدود سی کمائی سے گھر کیسے بنا پاؤ گے۔ خیر گھر کا ذکر تو ویسے ہی کر دیا آگے جیسے تمھاری مرضی۔​ تمھاری پیاری امی اور ابو۔​
پیارے ابو جان اور امی جان​ میں حساب لگا رہاتھا آج مجھے پردیس میں دس سال ہو چکے ہیں۔ اب میں اکثر تھکا تھکا رہتا ہوں، گھر کی بہت یاد آتی ہے اور اس ریگستان میں کوئی ساتھی نہیں ہے۔ میں سوچ رہا ہوں اگلے ماہ ملازمت چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے گھر آجاؤں۔ دس سال کے عرصے میں الحمدللہ ہمارا پکا گھر بن چکا ہے اور جو ہمارے اوپر جو قرضے تھے وہ بھی میں اتار چکا ہوں۔ اب چاہتا ہوں کہ اپنے وطن آ کر رہنے لگ جاؤں۔ اب پہلے والی ہمت تو نہیں رہی لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ کر کے ، ٹیکسی چلا کے گھر کا خرچ چلا لوں گا۔ اس ریگستان سے میرا جی بھر گیا ہے۔ اب اپنے بچوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کیا رائے ہے۔​ آپکا پیارا – جمال​
پیارے بیٹے جمال​ تمھارا خط ملا اور ہم پچھتا رہے ہیں اس وقت کو جب ہم نے تمھیں باہر جانے دیا، تم ہمارے لیے اپنے لڑکپن سے ہی کام کرنے لگ گئے۔ ایک چھوٹی سے بات کہنی تھی بیٹا۔ تمھاری بہنا زینب اب بڑی ہو گئی ہے ، اس کی عمر ۲۰ سے اوپر ہو گئی۔ اس کی شادی کے لیے کچھ سوچا ، کوئی بچت کر رکھی ہے اس لیے کہ نہیں۔ بیٹا ہماری تو اب یہی خواہش ہے کہ زینب کی شادی ہو جائے اور ہم اطمینان سے مر سکیں۔ بیٹا ناراض مت ہونا ، ہم تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔​ تمھاری پیاری امی اور ابو۔​
پیارے ابو جان اور امی جان​ آج مجھے پردیس میں چودہ سال ہو گئے۔ یہاں کوئی اپنا نہیں ہے۔ دن رات گدھے کی طرح کام کر کے میں بیزار ہو چکا ہوں، کمھار کا گدھا جب دن بھر کام کرتا رہتا ہے تو رات کو گھر لا کر اس کا مالک اس کے آگے پٹھے ڈال دیتا ہے اور اسے پانی بھی پلاتا ہے پر میرے لیے تو وہ بھی کوئی نہیں کرتا، کھانا پینا بھی مجھے خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ بس اب میں ویزا ختم کروا کر واپس آنے کا سوچ رہا ہوں۔ پچھلے کچھ سالوں میں اللہ کی مدد سے ہم زندگی کی بیشتر آزمائشوں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ زینب بہنا کی شادی ہو چکی ہے اور اب وہ اپنے گھر میں سکھی ہے۔ اس کے سسرال والوں کو خوش رکھنے کے لیے میں اکثر تحفے تحائف بھی بھیج دیتا ہوں۔ اللہ کے کرم سے آپ لوگوں کو میں نے حج بھی کروا دیا اور کوئی قرضہ بھی باقی نہیں ہے۔ بس کچھ بیمار رہنے لگا ہوں، بی پی بڑھا ہوا ہے اور شوگر بھی ہو گئی ہے لیکن جب گھرآؤں گا، گھر کے پرسکون ماحول میں رہوں گا اور گھرکا کھانا کھاؤں گا تو انشاء اللہ اچھا ہو جاؤں گا اور ویسے بھی اگر یہاں مزید رہا تو میری تنخواہ تو دوائی دارو میں چلی جائے گی وہاں آ کر کسی حکیم سے سستی دوائی لے کر کام چلا لوں گا۔ اب بھی مجھ میں اتنی سکت ہے کہ کوئی ہلکا کام جیسے پرائیویٹ گاڑی چلانا کر لوں گا۔​ آپکا پیارا – جمال​
پیارے بیٹے جمال​ بیٹا ہم تمھارا خط پڑھ کر کافی دیر روتے رہے۔ اب تم پردیس مت رہنا لیکن تمھاری بیوی زہرہ نے کچھ کہنا تھا تم سے ، اسکی بات بھی سن لو۔​ (بیوی ) پیارے جمال​ میں نے کبھی آپکو کسی کام کے لیے مجبور نہیں کیا اور کسی چیز کے لیے کبھی ضد نہیں کی لیکن اب مجبوری میں کچھ کہنا پڑ رہا ہے مجھے۔ آپکے بھائی جلال کی شادی کے بعد آپ کے والدین تو مکمل طور پر ہمیں بھول چکے ہیں ان کا تمام پیار نئی نویلی دلہن کے لیے ہے ، میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ وہ آبائی گھر جلال کو دینے کا سوچ رہے ہیں۔ ذرا سوچیے اگر آپ یہاں آ گئے اور مستقبل میں کبھی اس بات پر جھگڑا ہو گیا تو ہم اپنے چھوٹے چھوٹے بچے لے کر کہاں جائیں گے۔ اپنا گھر ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ آپ کو پتہ ہے سیمنٹ سریہ کی قیمتیں کتنی ہیں؟ مزدوروں کی دیہاڑی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ یہاں رہ کر ہم کبھی بھی اپنا گھر نہیں بنا سکیں گے۔ لیکن میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی۔ آپ خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔​ آپکی پیاری جان۔ زہرہ​
پیاری شریک حیات زہرہ​ انیسواں سال چل رہا ہےپردیس میں، اور بیسواں بھی جلد ہی ہو جائے گا۔ اللہ کے فضل سے ہمارا نیا علیحدہ گھر مکمل ہو چکا ہے۔ اور گھرمیں آج کے دور کی تمام آسائشیں بھی لگ چکی ہیں۔ اب تمام قرضوں کے بوجھ سے کمر سیدھی ہو چکی ہے میری ، اب میرے پاس ریٹائرمنٹ فنڈ کے سوا کچھ نہیں بچا، میری نوکری کی مدت بھی اب ختم ہو گئی ہے۔ اس ماہ کے اختتام پر کمپنی میرا ریٹائرمنٹ فنڈ جو کہ ۲۵۰۰ ہزار ريال  ہےـ جاری کردے گی۔ اتنے لمبے عرصے اپنے گھر والوں سے دور رہنے کے بعد میں بھول ہی گیا ہوں کہ گھر میں رہنا کیسا ہوتا ہے۔بہت سے عزیز دنیا سے کوچ کر چکے ہیں اور بہت سوں کی شکل تک مجھے بھول گئی۔ لیکن میں مطمئن ہوں ، اللہ کے کرم ہے کہ میں گھر والوں کو اچھی زندگی مہیا کر سکا اور اپنوں کے کام آسکا۔ اب بالوں میں چاندی اتر آئی ہے اور طبیعت بھی کچھ اچھی نہیں رہتی۔ ہر ہفتہ ڈیڑھ بعد ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اب میں واپس آکر اپنوں میں رہوں گا۔ اپنی پیاری شریک حیات اور عزیز از جان بچوں کے سامنے۔​ تمھارا شریک سفر – جمال​
پیارے جمال​ آپ کے آنے کا سن کر میں بہت خوش ہوں۔ چاہے پردیس میں کچھ لمبا قیام ہی ہو گیا لیکن یہ اچھی خبر ہے ۔ مجھے تو آپکے آنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن بڑا بیٹا احمد ہے نا، وہ ضد کر رہا ہے کہ یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لے گا۔ میرٹ تو اس کا بنا نہیں مگر سیلف فنانس سے داخلہ مل ہی جائے گا۔ کہتا ہے کہ جن کے ابو باہر ہوتے ہیں سب یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لیتے ہیں۔ پہلے سال چار لاکھ فیس ہے اور اگلے تین سال میں ہر سال تین تین لاکھ۔ اور ہم نے پتہ کروایا ہے تو یونیورسٹی والے انسٹالمنٹ میں فیس بھرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔ اس ماہ کی ۳۰ تک فیس کی پہلی قسط بھرنی پڑے گی،​ آپکے جواب کی منتطر ، آپکی پیاری جان۔ زہرہ​
اس نے بیٹے کی پڑھائی کے لیے ساری رقم بھیج دی۔ بیٹی کی شادی کے لیے جہیز اور دیگر اخراجات بھیجے۔ مگر اب ستائیس سال ہو چکے تھے۔ وہ خود کو ائر پورٹ کی طرف گھسیٹ رہا تھا۔ شوگر، بلڈ پریشر، السر ،گردے و کمر کا درد اورجھریوں والا سیاہ چہرا اس کی کمائی تھا۔ اسے اچانک اپنی جیب میں کسی چیز کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ ایک ان کھلا خط تھا۔​
یہ وہ پہلا خط تھا جو اس نے اپنی پردیس کی زندگی میں نہیں کھولا ۔

Wednesday, 26 September 2018

نواز شریف کی چار سالہ کارکردگی

نواز شریف کی 4 سالہ کارگردگی ملاحظہ فرمائے
نواز شریف کی چار سالہ
کارکردگی ۔۔۔۔ !

سنا ہے نواز شریف نے چار سالوں میں پاکستان کو کہیں کا کہیں پہنچا دیا۔ آئیے ذرا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
معیشت ۔۔۔۔۔۔۔۔
جون 2013 میں پاکستان پر کل بیرونی قرضہ 48.1 ارب ڈالر تھا۔
جون 2017 میں پاکستان پر کل بیرونی قرضہ 78.1 ارب ڈالر ہے۔
یعنی صرف چار سالوں میں 30 ارب ڈالر کا ریکارڈ قرضہ لیا گیا۔ یہ اتنا زیادہ ہے کہ پاکستان پر عالمی مالیاتی اداروں کا بھروسہ ہی ختم ہوگیا اور تاریخ میں پہلی بار مزید قرضہ حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں کے پاس اپنی موٹرویز ،ہوائی اڈے اور ریڈیو پاکستان کی عمارات گروی رکھوانی پڑیں ۔
مالی سال 2012/13 میں پاکستان کا کل تجارتی خسارہ 15 ارب ڈالر تھا۔
مالی سال 2016/17 میں کل تجارتی خسارہ 24 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔
یہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین تجارتی خسارہ ہے۔
2013 میں اندرونی قرضے 14318 ارب روپے تھے
2017 تک کل اندرونی قرضے 20872 ارب روپے ہوچکے ہیں۔
یہ اندرونی قرضوں کی بلند ترین سطح ہے۔
2013 میں پاکستان کی کل برآمدات 21 ارب ڈالر تھیں۔
2017 میں پاکستان کی کل برآمدات کم ہوکر 17 ارب ڈالر ہوگئ ہیں۔
برامدات کم ہونے کا اعتراف خود اسحاق ڈار نے اپنی بجٹ کی تقریر میں کیا ہے۔
2012/13 میں تین بڑے سرکاری اداروں پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز اور پاکستان ریلوے کا کل خسارہ تقریباً 312 ارب روپے کےلگ بھگ تھا۔
2017 میں تینوں ادارہ کا مجموعی خسارہ 705 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
یہ خسارہ بھی میاں صاحب کا ایک ریکارڈ ہے۔ اس سے قومی اداروں کی تباہی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
2013 گردشی قرضہ 400 ارب روپیہ
2017 گردشی قرضہ 500 ارب روپیہ
اگر آپ کو لگتا ہے کہ گردشی قرضے میں صرف 100 ارب کا اضافہ ہوا ہے تو آپکو غلط فہمی ہوئی ہے !
2013 میں نواز شریف نے قومی خزانے میں سے میاں منشاء کو نہایت خطرناک انداز میں یکمشت 480 ارب روپے کی ادائیگی کر دی تھی جس کے بعد گردشی قرضہ 0 ہو گیا تھا۔ یعنی 500 ارب کا یہ گردشی قرضہ اس کے بعد صرف ان چار سالوں میں چڑھا ہے۔ ۔۔۔۔ یہ ایک اور ریکارڈ ۔۔۔ :)
روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر 92 سے 107 پر پہنچ چکی ہے۔ کچھ ماہرین کے تزدیک یہ 107 پر مصنوعی طور پر روکی گئی ہے درحقیقت یہ 120 تک کم ہوچکی ہے اور اسکا پتہ اچانک چلے گا جب یہ حکومت جائیگی۔
نواز شریف کے موجودہ دور می عالمی منڈی میں تیل کم ترین قیمت پر دستیاب رہا لیکن اسکا ذرا سا فائدہ بھی عوام تک نہیں پہنچنے دیا گیا اور ان چار سالوں میں اشیائے ضرورت کی قیمتیں جس طرح بڑھی ہیں اس پر الگ سے مضمون لکھنے کی ضورت ہے۔
تاریخ میں پہلی بار پاکستان میں زرعی ییدوار میں اضافے کے بجائے کمی ہوئی ہے اور پہلی بار کسانوں نے پارلیمنٹ ھاؤس کے سامنے احتجاج کیا اور منتخب جمہوری حکومت کے ڈنڈے بھی کھائے۔
پرویز مشرف کے شروع کیے گئے پراجیکٹ گوادر اور سی پیک کے روٹس میں من مانی تبدیلیاں کر کے پہلے اس کو متنازع بنایا گیا۔ اب سنا ہے چین کے ساتھ ایسے معاہدات کیے جا رہے ہیں جن سے خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ سی پیک جیسے عظیم منصوبےسے بھی پاکستان کے ہاتھ کچھ نہیں آئیگا۔ ان معاہدات کی تفصیلات حکومت چھپا رہی ہے۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاک فوج کی اس محنت پر بھی پانی پھیرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
توانائی ۔۔۔۔۔۔۔
2013 بجلی کا شارٹ فال 5000 میگاواٹ
2017 بجلی کا شارٹ فال 7000 میگاواٹ
نہ صرف 2000 میگاواٹ کا شارٹ فال بڑھا ہے بلکہ 2013 میں بجلی کا بحران دور کرنے کے لیے 500 ارب روپے کی خطیر لاگت سے جن منصوبوں پر کام جاری تھا وہ بھی ایک ایک کر کے ناکام ہوگئے۔ ان میں نندی پور، قائداعظم سولر پارک اور نیلم جہلم جیسے منصوبے شامل ہیں۔ اور قوم کے مزید 500 ارب ڈوب گئے۔
دیامیربھاشا ڈیم کے لیے ہر سال 30 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن پھر وہ رقم کہیں اور ایڈجسٹ کر لی جاتی ہے۔ نتیجے میں دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر تو دور کی بات اب تک اس کے لیے جگہ بھی متعین نہیں کی جا سکی ہے!
نواز شریف کو یہ اعزاز حاصل رہے گا کہ اس کے دور میٰں پہلی بار گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ اور پانی کی قلت کی وجہ سے صرف کراچی میں 1200 لوگ مر گئے۔ جبکہ تھرپاکر میں غذائی قلت سے سالانہ سینکڑوں بچے الگ مررہے ہیں۔
سفارت کاری ۔۔۔۔۔۔
پاک فوج نے کل بھوشن کی شکل میں جاسوسی کی تاریخ کی سب سے بڑی گرفتاری کی اور نواز حکومت کو موقع دیا کہ وہ انڈیا کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کرے۔ لیکن نواز شریف نے نہ صرف کل بھوشن کے معاملے میں مکمل طور پر چپ رہتے ہوئے اس تاریخی کامیابی کو مٹی میں ملا دیا بلکہ مبینہ طور پر انڈینز کو کل بھوشن کا معاملہ عالمی عدالت میں لے جانے کے لیے بھی معاونت کی.. 
 

 

Saturday, 8 September 2018

Salsabeel : دنیا کی تاریخ میں کس نے سب سے زیادہ قتل کئے ھیں ؟

Salsabeel : دنیا کی تاریخ میں کس نے سب سے زیادہ قتل کئے ھیں ؟: دنیا کی تاریخ میں کس نے سب سے زیادہ قتل کئے ھیں ؟ 1- ھٹلر . آپ جانتے ھیں وہ کون تھا؟ وہ عیسائی تھا ، لیکن میڈیا نی کبھی اسکو عیسائی دھش...

دنیا کی تاریخ میں کس نے سب سے زیادہ قتل کئے ھیں ؟

دنیا کی تاریخ میں کس نے سب سے زیادہ قتل کئے ھیں ؟
1- ھٹلر .
آپ جانتے ھیں وہ کون تھا؟
وہ عیسائی تھا ، لیکن میڈیا نی کبھی اسکو عیسائی دھشت گرد نہیں کہا.
2. جوزف اسٹالن.
اس نے بیس ملین (ایک ملین -دس لاکھ کے برابر) انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا ، جسمیں سے ساڑھے چودہ ملین بھوک سے مرے . کیا وہ مسلم تھا؟
3. ماوزے تنگ.
اس نے چودہ سے بیس ملین انسانوں کو مارا .
کیا وہ مسلم تھا؟
4. مسولینی .
چار لاکھ انسانوں کا قاتل ھے کیا وہ مسلم تھا؟
5. اشوکا .
اس نے کلنگا کی جنگ میں ایک لاکھ انسانوں کو مارا.
کیا وہ مسلم تھا؟
6-جارج بش کی تجارتی پابندیوں کے نتیجے میں صرف عراق میں پانچ لاکھ بچے مرے.
انکو میڈیا کبھی دہشت گرد نھیں کھتا .
چند اور حقائق :
1- پہلی جنگ عظیم میں 17 ملین لوگ مرے اور جنگ کا سبب غیر مسلم تھے .
2-دوسری جنگ عظیم میں 50-55 ملین لوگ مارے گئے اور سبب؟ غیرمسلم .
3-ناگاساکی پر ایٹمی حملے میں 2 لاکھ لوگ مرے اور اسکا سبب؟ غیر مسلم
4. ویتنام کی جنگ میں 500000 اموات کا سبب بھی غیر مسلم .
5-بوسنیا کی جنگ میں بھی پانچ لاکھ موتیں ھوئیں سبب. غیرمسلم .
6-عراقی جنگ میں ابتک ایک کروڑ بیس لاکھ اموات کا سبب بھی غیر مسلم.
7-افغانستان. فلسطین اور برما میں خانہ جنگی کا سبب؟غیرمسلم
8-کمبوڈیا میں تقریبا 300000 موتوں کا سبب بھی غیر مسلم .
خلاصہ یہ کہ :
کوئی بھی دھشت گرد مسلمان نہیں.
اور کوئی مسلمان دھشت گرد نھیں .
اور سب سے اھم بات یہ کہ بڑی تباہی پھیلانے والے کسی بھی ہتھیار کے موجد مسلمان نھیں .
اور آج مبینہ دھشت گردوں کے ھاتھ میں جو ہتھیار ھیں وہ کسی "اسلامی فیکٹری " میں نھیں بنے .
 
 

Sunday, 12 August 2018

دور جدید کا عبد اللہ بن ابی مالانا فضلو


دور جدید کا عبد اللہ بن ابی

مولانا فضل الرحمن نے 2002ء میں انڈیا کا دورہ کیا جس میں اس نے انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے ملاقات میں کشمیر کو " علاقائی تنازع " قرار دے دیا۔ جبکہ پاکستان پہلے دن سے دو قومی نظریہ ( مسلم قومیت ) کی بنیاد پر کشمیر کو انڈیا سے الگ سمجھتا ہے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا تقاضا کرتا ہے۔ کشمیر کو " اسلام " کی بنیاد پر انڈیا سے الگ سمجھتا ہے اور یہ دعوی کرتا ہے کہ فضل الرحمن نے اسکو مذہبی تنازعے کے بجائے " علاقائی تنازع " قرار دے کر پاکستان کے برسوں پرانے موقف کو زبردست دھچکا دیا۔

اسی دورے میں اس نے مسلمان دشمن انڈین تنظیم آر ایس ایس کے لیڈر سے خفیہ ملاقات کی اور اس ملاقات میں انڈیا کو پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانے پر زور دیا۔
یہ عین انڈین موقف ہے۔ وہ ہمیشہ سے اسی پر زور دیتے ہیں کہ کشمیر پر بات کرنے کے بجائے ہمیں باہمی تجارت کو فروغ دینا چاہئے جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ جب تک کشمیر کا تنازع حل نہیں ہوتا باہمی تجارت وغیرہ کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس ملاقات میں مولانا نے آر ایس ایس کی مسلمان دشمن پالیسیوں پر سوال تک نہیں کیا۔

دورے سے واپسی کے دوران اس نے اپنا متنازع ترین بیان دیا کہ کشمیری مجاہدین عوام اور ریاست پر دہشت گردانہ حملے کر رہے ہیں۔ یہ بیان کشمیری مجاہدین کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے جیسا تھا۔ مولانا کا یہ مہلک بیان انڈیا سمیت بین لاقوامی میڈیا پر چھایا رہا۔

جیسے ہی جمہوری دور آیا مولانا فضل الرحمن نے کشمیر کمیٹی کا چیرمین بننے کا مطالبہ کیا جس کو پورا کیا گیا۔ یاد رہے کہ کشمیری کمیٹی پاکستان کی سب سے مہنگی کمیٹی ہے جسکا کام کشمیر ایشو کو پاکستان کےا ندر اور عالمی برادری کے سامنے اجاگر کرنا ہے۔

مولانا نے اس ایشو کے لیے کتنا کام کیا اس کا اندازہ اپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ مولانا کے چیرمین بننے کے کچھ عرصے بعد اقوام متحدہ نے کشمیر کو اپنے متنازعہ ایشوز کی فہرست سے ہی نکال دیا اور مولانا اس پر خاموش رہے۔

پاکستانی میڈیا سے یہ ایشو تقریباً غائب کر دیا گیا اور مولانا اس پر خاموش رہے۔

انڈین علمائے دیوبند نے کشمیر کو انڈیا کا حصہ قرار دیتے ہوئے وہاں جہاد کو حرام قرار دیا اس پر بھی مولانا خاموش رہے حالانکہ مولانا خود بھی دیوبند مسلک کے بہت بڑے حصے کی ترجمانی کرتے ہیں۔

اور سب سے خوفناک بات کہ پچھلے چند سال سے کشمیر میں انڈیا بہت تیزی سے ہندوؤں کی آبادکاری کر رہا ہے جس کے بعد لداخ اور جموں میں کشمیری مسلمان اقلیت کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ مولانا نے بطور چیرمین کشمیر کمیٹی اس پر ابھی تک ایک لفظ نہیں کہا۔ اس کے نیتجے میں اگر آج انڈیا پاکستان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے وہاں انتخاب کروا دے تو غالب ہندو اکثریت کی بدولت جیت جائیگا۔

انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں دھڑا دھڑ ڈیم بنائے مولانا ان پر بھی خاموش رہے جبکہ انڈیا پاکستان کے گلگت بلتستان کے علاقوں میں تعمیرات پر اعتراضات کر رہا ہے۔

پچھلے چند سالوں کے دوران کشمیریوں کو اتنا مارا گیا کہ شکار کرنے والی پیلٹ گنوں سے ان کا شکار کیا گیا مولانا نے اس پر بھی عالمی برادری کے سامنے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔

چند دن پہلے ایک صحافی نے سوال کیا کہ جناب آپ نے کشمیری پر اتنے سالوں کے دوران کمیٹی کے صرف 8 اجلاس طلب کیے ہیں جو ڈھٹائی سے ہنس پڑے اور اس سوال کو قومی یکجہتی پر حملہ قرار دیا۔

2015ء میں ایک سے زائد کشمیری لیڈروں نے مولانا کو کشمیر کمیٹی سے فارغ کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کو نواز شریف نے مسترد کر دیا۔

سچائی یہ ہے کہ مولانا کی سیاسی سرگرمیاں اور تمام تر تگ و دو صرف اور صرف لبرل قوتوں کو بچانے تک ہی محدود ہے مثلاً
ختم نبوت والی ترمیم میں معاؤنت،
اللہ اور رسولﷺ کے اعلانیہ دشمن، پاکستان کو لبرل بنانے کا اعلان کرنے والے اور گستاخان رسول کے پشت پناہ نواز شریف کی معاؤنت،
پاکستان لوٹ کرکھا جانے والے اور سندھ میں قبول اسلام پر پابندی لگانے والے آصف زرداری اور نواز شریف کو متحد کرنے کی تگ و دو۔
پاکستان میں الحاد کے لیے کام کرنے والے اسفند یار ولی کو اپنا قدرتی اتحادی قرار دینا۔

آپ نوٹ کیجیے گا کہ پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف جو لائن مشہور زمانہ گستاخان رسول اور ملحدین کی ہوتی ہے من و عن وہی چند دن بعد مولانا کی زبان پر ہوتی ہے۔

مولانا کی ایک عجیب و غریب صفت یہ بھی ہے کہ آج تک کبھی درست سمت میں کھڑے نظر نہیں آئے،
مثلاﷺ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن، افغانیوں کے انخلاء، فاٹا کے انضمام اور پاک افغان سرحد پر باڑ پر اور کالاباغ ڈیم پر۔
آج تک ان کی زبان سے کسی نے کوئی کلمہ خیر تک نہیں سنا،
بلکہ آج کسی نے ان کی زبان سے "پاکستان زندہ باد" کا نعرہ تک نہیں سنا۔

آج مولانا فضل الرحمن اپنے بیٹے کو سپیکر لگوانا چاہتے ہیں، پندرہ سال سے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں، لیکن جب انتخاب میں عوام سے جوتے پڑے تو پاکستان کو غیر اسلامی اور غلام ریاست قرار دے کر یوم آزادی نہ منانے کا اعلان کیا۔

مولوی فضل الرحمن پاکستانی سیاست کا بدترین کردار کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔





Saturday, 21 July 2018

جسٹس شوکت صدیقی پاک فوج اور عدلیہ کے بارے میں بکواس۔۔۔۔۔ نامنظور

پاک فوج اور عدلیہ کے بارے میں بکواس۔۔۔۔۔ نامنظور نامنظور
جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کے بارے میں کچھ دلچسپ حقائق ۔۔۔۔۔ !
جسٹس شوکت صدیقی نے بطور وکیل لال مسجد مولانا عبدالعزیز کو دہشت گردی کے مختلف مقدمات میں ضمانت دلوائی۔
موصوف پرویز مشرف کے خلاف افتخار چودھری کی تحریک کے سرگرم رکن اور افتخار چودھری کے قریبی ساتھی تھے اور بارہا اسلام آباد میں وکلاء دھرنوں اور لاک ڈاؤنز کا حصہ رہے۔
جج بننے کے بعد انہی کی عدالت میں پرویز مشرف کا کیس پیش کیا گیا۔ موصوف نے فوری طور پر نہ صرف ان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا بلکہ ان کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کرنے کا حکم جاری کیا۔ ( عام طور پر جانبداری کے خدشے کے پیش نظر جج حضرات از خود ایسے کیس سننے سے معذرت کر لیتے ہیں )
لال مسجد والوں ہی کی درخواست پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے معروف اینکر مبشر لقمان پر بین لگایا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کوئی نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔
جسٹس صدیقی صاحب نے 2016ء میں لال مسجد کے خادم منظور حسین کا نام فورتھ شیڈول سے نکالنے کا حکم جاری کیا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ دہشت گردوں کے لیے فنڈنگ کر رہے ہیں اور گھر میں پناہ دیتے ہیں۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف بلٹ پروف گاڑی کا کیس سننے سے معذرت کرلی تھی۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی جنگ گروپ اور جیو کے مالک میر شکیل الرحمن کے قریبی دوست ہیں۔ میر شکیل الرحمن کی درخواست پر جسٹس شوکت صدیقی نے پی ٹی وی کے مینیجنگ ڈائرکٹر یوسف بیگ کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا۔
آپ نے دھرنوں کے لیے مشہور جماعت اسلامی کے رکن کی حیثیت سے ایم ایم اے کے جھنڈے تلے حلقہ این اے 54 سے انتخاب بھی لڑا ہے اور بدترین شکست کھائی۔
کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایک ذمہ دار افسر نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن کا ریفرینس دائر کیا تھا۔
شوکت صدیقی کو نواز شریف کی خاص ہدایت پر اسلام آباد کے سب سے مہنگے سیکٹر ایف 6 میں بنگہ الاٹ کیا گیا، پسند نہ آیا تو دوسرا الاٹ کرایا، وہ پسند نہ آیا تو تیسرا الاٹ کرایا، اسکی ڈیکوریشن پسند نہ آئی تو سی ڈی اے سے زبردستی مرمت کے نام پر 1 کروڑ 20 لاکھ روپے کے ٹینڈر منظور کرائے۔
1 کروڑ 20 لاکھ میں نیا بنگلہ تعمیر ہوجاتا ہے۔
ڈسٹرکٹ بارز ایسوسی ایشنز نے شوکت عزیز صدیقی کے خلاف کئی ریفرینسز فائل کئے کہ یہ بارز کے انتخابات پر اثرانداز ہوتا ہے اور سیاست میں ملوث ہوتا ہے۔
ان ریفرنسسز کا کیا ہوا؟
گستاخان رسول کے خلاف سوموٹو لے کر پوری قوم کی آنکھ کا تارا بن گیا۔ خلاف فیصلہ آتا تو فیصلہ دینے والے بھی ملحد اور گستاخوں کے ساتھی کہلاتے اس لیے ریفرنسز ختم، جس کے فوراً بعد جج موصوف نے گستاخانہ پیجز والا ڈرامہ بند کر کے " شکرانے کے نفل " پڑھنے کا اعلان کر دیا۔۔۔۔ 🙂
ہاں یاد آیا ۔۔ اسلام کے اس "سچےعاشق رسول" کا ایک بھائی اندر ہے کیپٹن ریٹائرڈ زیدی, انٹر سیکورٹیز رسک کا مالک۔ کیونکہ اس پر مشرف دور میں بلیک واٹر سے روابط و اسلحہ سپلائ کیس بنایا گیا تھا۔
نواز شریف کے سب سے قریبی ساتھی عرفان صدیقی جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے فرسٹ کزن ہیں۔ سپریم کورٹ کو گالیوں اور توہین سے لبریز تقریریں نواز شریف کو عرفان صدیقی ہی لکھ کر دیتے ہیں۔
تازہ ترین واقعہ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا گھناؤنا کردار کھل کر سامنے آگیا جب پاک فوج نے آپریشن کے بجائے محض بات چیت سے دہرنا ختم کروادیا تو موصوف آپے سے باہر ہوگئے۔ کئی مبصرین کے مطابق ایک انتہائی خوفناک اور گہری سازش ناکام بنائی گئی جس میں ایک بار پھر پاک فوج کو اپنی ہی لوگوں سے لڑانے کا پلان تھا۔
پاک فوج سے موصوف کی نفرت کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ کچھ عرصہ پہلے اس نے اچانک اسلام آباد انتظامیہ کو حکم دے کر مشہور زمانہ پریڈ گراؤنڈ کا نام تبدیل کروا کر "ڈیموکریسی پارک" رکھ دیا۔ اس گراونڈ پر پاک فوج سالانہ پریڈ کرتی ہے۔

Tuesday, 10 July 2018

۔۔ ن لیگ کےکارنامے ۔۔

۔۔ ن لیگ کےکارنامے ۔۔
ضمیر کی عدالت کا فیصلہ *سابقہ نااہل وزیراعظم کی نااہل حکومت کے سیاہ کرتوت!!!*
*1-جیلوں میں قید سزائے موت پانے والے توہین رسالت کے مجرموں کو بالخصوص آسیہ مسیح ملعونہ کو خصوصی تحفظ ن لیگ نے فراہم کیا
*2-گستاخ بلاگرز کو ملک سے ن لیگ نے فرار کروایا .*
*3-پیر سید مہر علی شاہ صاحب رحمتہﷲ علیہ کی کتاب سیف چشتائی پر پابندی بھی ن لیگ نے لگائی .*
*4-غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہﷲ علیہ کی کتاب غنیة الطالبین پر بھی پابندی ن لیگ نے لگوائی ،*
*5-انگریزی عدالت سے سزائے موت پانے والے توہین رسالت کے مجرم اصغر کذاب کو اگست 2017 کو لاھور پاگل خانے سے خصوصی طیارے کے زریعے راتوں رات لندن نون لیگ نے فرار کروایا ،*
*6-پارلیمینٹ میں عقیدہ ختمِ نبوت کی شقوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ن لیگ نے کی جس کے ردعمل میں مجرموں کو بے نقاب کرنے کے لیے فیض آباد دھرنا دیا گیا بجائے غلطی مان کر مجرموں کو سزا دینے کے الٹا دھرنے کے شرکاء پر آپریشن کے ذریعے بدترین تشدد نون لیگ نے کروایا جس کے نتیجے میں 8 افراد موقع پر شہید اور سینکڑوں زخمی' یہ سیاہ کارنامہ بھی نون لیگ کے ہی کھاتے میں جاتا ہے
*7-علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کا نام ملعون قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب بھی ن لیگ نے کروایا،*
*8-مصور پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہﷲعلیہ کی 9 نومبر کی چھٹی ن لیگ نے ختم کی
*9- اقوام مغرب کو خوش کرنے کے لیے محافظ ناموسِ رسالتﷺ غازی ملک ممتاز حسین قادری شہید رحمتہﷲعلیہ کے کیس کی سپریم کورٹ میں دہشتگردی کی دفعات دوبارا بحال کروانے کے لیے خصوصی پیروی ن لیگ نے کی اور ساڑھے 6 ہزار سزائے موت کی اپیلوں کو چھوڑ کر سب سے پہلے غازی ممتاز قادری کا نمبر لگایا ،*
*10-مساجد سے 3 اطراف سے اسپیکر ن لیگ نے اتروائے ،*
*11- قادیانیوں اور دیگر بدمذھبوں کو خوش کرنے کیلئے درود سلام پر پابندی ن لیگ نے لگائی ،*
*12-لاھور میں کرکٹ میچ کی خاطر مساجد کو تالے ن لیگ نے لگوائے یہاں تک کہ وہاں جمعہ کی نماز تک ادا نہ کرنے دی گئی ،*
*13 ناموسِ رسالتﷺ کا دفاع کرنے پر علمائے کرام کے نام فورتھ شیڈول میں ن لیگ نے ڈلوائے!*
*اس کے علاوہ بھارتی جاسوسوں کو اپنی فیکٹری میں پناہ دینے ،* *ماڈل ٹاؤن میں14 بے گناہ افراد کو قتل کرنے ،* *قومی سلامتی کے راز فاش کرنے ،* *دینی مدارس کو جہالت کی فیکٹریاں قرار دینے ،*
*بمبئی حملوں کا الزام پاکستان پر عائد کرنے ،*
*مودی کی ماں کو ساڑھی کے تحفے بھجوانے*
*مری میں بھارتی جاسوس سے خفیہ ملاقات کرنے ، ملکی خزانے سے اربوں روپے لوٹنے
*دو قومی نظریے اور نظام رسولﷺ کی مخالفت کرنے،* *قصور میں چھوٹے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کروانے اور ننھی زینب کو بھی انصاف فراھم نہ کرنے
*برما،شام،کشمیر اور دیگر ممالک کے مسلمانوں پر ھونے والے بدترین مظالم پر بالکل خاموشی اختیار کرنے،*
*سود کے مسئلے پر صدر کی جانب سے علمائے کرام سے گنجائش پیدا کروانے ،*
*نواز شریف کی جانب سے منکرین ختمِ نبوت قادیانیوں کو اپنا بہن بھائی اور ملک وقوم کا سرمایہ کہنے ،* *ٹی وی چینلزپر فحاشی کو عام کرنے،* *تعلیمی نصاب میں سے اسلامی اسباق کو نکالنے سمیت دیگر ایسے کئی کافرانہ کرتوت شامل ہیں جو یہ سب ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ناہی اسلام کے وفادار ہیں اور نہ ہی اس ملک پاکستان کے!!!*
*اس بار ووٹ دینے سے پہلے ان کے یہ کالےکرتوت یاد رکھیئے گا ورنہ اپنے تھوڑے سے ذاتی فائدے کیلئے ان کی حمایت کرنے پر قبر اور حشر میں بہت سخت حساب کتاب ہوگا*!! اور وھاں بچانے کیلئے ن لیگ کا کوئی MNAاورMPAنہیں ھوگا اللہ کرے دل میں اتر جائے یہ تحریر آمین آمین ثم آمین
 






 

Tuesday, 3 July 2018

اللہ کی پناہ ان بے بصیرت، بے عقل اور باطل پرست علماء سے!

بصیرت سے عاری باطل پرست ملا

قیام پاکستان کے وقت جب ہندو اور مسلمان آمنے سامنے تھے تو مولانا فضل الرحمن کے اکابرین ہندوؤں کے طرف دار تھے۔


ایوب خان کےسنہری دور میں یہ ایوب خان کے بڑے مخالفین میں سے تھے۔

بھٹو جیسے سیکولر فاشسٹ کے خلاف اسلامی تحریک منظم ہوئی تو اس تحریک کا ساتھ دینے کے بجائے انہوں نے نعرہ لگایا کہ ” ایک مودودی سو یہودی ” اور پھر بھٹو کی سوشلزم کو تقویت دینے کے لیے فتوی داغا کہ ” اسلامی سوشلزم جائز ہے ” نعوذ بااللہ

اسی بھٹو کی بیٹی نے جنرل ضیاء جیسے کٹر اسلامی ذہن رکھنے والے جرنیل کے خلاف ایم آر ڈی نامی تحریک منظم کی تو فوراً اس کے جھنڈے تلے کھڑے ہوگئے۔

روس کے خلاف تقرییاً تمام عالم اسلام جہاد کے لیے امڈ آیا تو اس جہاد کو ” ڈالر جہاد” قرار دے کر رد کر دیا۔ آج بھی جے یو آئی کے مولانا شیرانی اس کو "ڈالر جہاد” قرار دیتے ہیں۔

فضل الرحمن کو پڑھانے کے لیے دارلعلوم دیوبند کے بجائے جامعہ الازہر جیسے نیم سیکولر ادارے کا انتخاب کیا گیا اور شائد وہیں پر موصوف نے طاغوت وقت کے ساتھ نبھاہ کرنے کا ہنر مزید پختہ کیا۔

1988 میں جب دائیں اور بائیں بازو کی جماعتیں ایک دوسرے کے مقابل آئیں تو مولانا بے نظیر کی کابینہ میں پائے گئے۔

بے نظیر کی حکومت کو شرعی طور پر ناجائز کہا لیکن جب ایران سے ڈیزل درآمد کرنے اور افغانستان سپلائی کرنے کے پرمٹ ملے تو اسی کے قدموں میں بیٹھ گئے۔

1993 جماعت اسلامی کی بے نظیر کے خلاف مہم کو غیر موثر کردیا۔

2002ء میں انڈیا کے دورے میں مسئلہ کشمیر اٹھانے کے بجائے کشمیر کے جہاد کو دہشت گردی قرار دے دیا اور مسئلہ کشمیر کو ہندو مسلم قومیت کا مسئلہ قرار دینے کے بجائے علاقائی تنازع قرار دے ڈلا۔

کشمیر کمیٹی کے چیرمین بنے تو انڈیا نے کشمیری مسلمانوں پر مظالم کی انتہا کردی، اقوام متحدہ نے اسکو متنازعہ ایشوز کی فہرست سے نکال دیا، پاکستانی میڈیا سے یہ مسئلہ ہی غائب ہوگیا، انڈیا نے کشمیر میں ہندوؤں کی آباد کاری شروع کر دی لیکن مولانا جن کا کام ان سب معاملات پر آواز اٹھانا تھا بلکل خاموش رہے۔

لال مسجد والے واقعے میں کوئی کردار ادا کرنے کے بجائے عین موقعے پر لندن تشریف لے گئے۔

جب ٹی ٹی پی اور پاک فوج آمنے سامنے آئی تو پاک فوج کو خوب نشانے پر رکھا اور ڈٹ کر مخالفت کی البتہ ٹی ٹی پی کے ہلاک شدگان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی اور ان کی شہادت کے فتوے صادر فرماتے رہے۔

جب زرداری جیسا کرپٹ سیکولر پاکستان پر مسلط ہوا تو یہ ملا اسکے خلاف کھڑے ہونے کے بجائے اس کا اتحادی بن گیا۔

جب پوری قوم الطاف حسین کو گالیاں دے رہی تھی تو مولانا فضل الرحمن اس کو حکومتی اتحاد میں شامل کرنے کے لیے منا رہے تھے۔

جب پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اسفند یار ولی جیسی لبرل قوتیں بکھر رہی ہیں تو مولانا ان کو سمیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جب پانامہ والے معاملے میں پوری قوم نواز شریف کے احتساب کا مطالبہ کر رہی تھی تو مولانا ڈٹ کر نواز شریف کے ساتھ کھڑے تھے۔

جب پوری قوم فاٹا کا کے پی کے میں انضمام چاہ رہی تھی تو مولانا اس کے خلاف تھے۔

آج جب پوری قوم افغانیوں کو پاکستان سے نکالنے پر متفق ہے تو فضل الرحمن محمود اچکزئی اور اسفند یارولی کے ہم زبان بن کر ان کو روکنے پر اصرار کر رہے ہیں۔

میرے ایک دوست نے کہا تھا کہ ” باطل کو شناخت کرنا ہو تو دیکھو کہ مولانا فضل الرحمن کہاں کھڑے ہیں۔ جہاں نظر آئیں سمجھو وہ باطل ہے”

اپنے ہی مدارس میں تیار کیے گئے کئی لاکھ علماء انکی اندھا دھند تائید کرتے ہیں اور اسی تائید کو ہی مولانا کے حق ہونے کی دلیل بھی بنا لیتے ہیں کہ ” فضل الرحمن غلط ہوتا تو لاکھوں علماء اسکی پیروی نہ کرتے "

قوم پرستی کے جھنڈے تلے پاکستان بھر کے لبرلز کھڑے ہوچکے ہیں تو علماء ہی ان کے اس عصبیت کے جائز ہونے کے فتوے پیش کر رہے ہیں۔

پورے پاکستان کی ضرورت کالا باغ ڈیم کے خلاف ہیں اور مزے دار بات یہ ہے کہ خود ہی اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ” ہمیں علم نہیں کہ اس کا کیا نقصان ہے۔ ہم نے تو اوروں کو دیکھ دیکھ کر مخالفت شروع کی تھی "

اللہ کی پناہ ان بے بصیرت، بے عقل اور باطل پرست علماء سے!
 











 

Sunday, 1 July 2018

برما میں مسلمانوں کا قتل عام کے پیچھے بوﺩﮪ ﻣﺬهب .


برما میں مسلمانوں کا قتل عام کے پیچھے بوﺩﮪ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎ ﺍٓﺷﻦ ﻭﺭﺍﭨﮭﻮ ﮨﮯﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﭘﺮ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻣﯿﮕﺰﯾﻦ ’’ﭨﺎﺋﻢ‘‘ ﻧﮯCover Story ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺳﮯ ’’ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ﮐﺎ ﻧﯿﺎ ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﭼﮩﺮﮦ ‘‘ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ
ﺍٓﺷﻦ ﻭﺭﺍﭨﮭﻮ ﮐﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭ
ﮦ ﻋﻠﯽ ﺍﻻﻋﻼﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮﮐﺮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ’’:ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﺮﺥ ﭼﺎﺩﺭﯾﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﻣﺴﻠﻢ ﺧﻮﻥ ﭘﯽ ﮐﺮ ﮨﯽ ﭼﻤﮑﺘﯽ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ’’:ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺭﻭﮨﻨﮕﯿﺎﻣﺴﻠﻢ ﮨﻮ؟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺟﻼﻧﺎ، ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻗﯿﻤﮧ ﺑﻨﺎﻧﺎ، ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺍٓﺑﺮﻭﺭﯾﺰﯼ ﮐﺮﻧﺎ،ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﺘﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺫﺑﺢ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﺮﻣﯽ ﻓﻮﺝ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﮪ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺣﻖ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﺩﺭﻧﺪﮦ ﺻفت ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﺮﻣﯽ ﺑﻮﺩﮪ ﻗﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﭘﺮ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺷﺎﺋﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﺑﺮﻣﺎ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ’ﭨﺎﺋﻢ ‘‘ ﻣﯿﮕﺰﯾﻦ ﭘﺮ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻋﺎﺋﺪ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﯼ
ﺍﺱ ﺩﺭﻧﺪﮦ ﺻﻔﺖ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﮐﺜﺮﯾﺘﯽ ﻃﺒﻘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺛﺮ ﻭ ﺭﺳﻮﺥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯﺑﺮﻣﺎ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺟﻤﺎﻋﺘﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﺎﻟﮯ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ۔ﺳﺎﺟﮭﮯ ﺩﺍﺭ ﺑﻦ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﺧﺪﺷﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺍٓﻭﺍﺯ ﺑﮭﯽ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﺨﺖ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ
ﺑﺮﻣﯽ ﻧﻮﺑﻞ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺍٓﻧﮓ ﺳﺎﻧﮓ ﺳﻮﭼﯽ ﺟﻮ90ﮐﯽ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺍٓﻏﺎﺯﺳﮯ2010 ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﺗﮏ ﻇﺎﻟﻢ ﻓﻮﺟﯽ ﺍٓﻣﺮﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺛﺎﺑﺖ ﻗﺪﻣﯽ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﺳﻤﺠﮭﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ،ﻧﮯ ﺑﺮﻣﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﮐﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧﻣﯿﮟ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺩﺍﻥ ﮨﻮﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﺎﺭﮐﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺳﮑﻮﮞ ﮔﯽﺍﯾﺴﺎ ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺭﻭﮨﻨﮕﯿﺎﺋﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻃﺎﻗﺖ ﻭﺭ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩ ﭼﮩﺮﮦ ﺍٓﺷﻦ ﻭﺭﺍﭨﮭﻮﮐﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﻣﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﯽ ہےﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ ﺗﻮ سیاسی حمایت ﮐﺎ ﭘﺎﻧﺴﺎ ﺍُس ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﭘﻠﭧ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ
ﺍﻟﻤﯿﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ۵۷؍ﺍٓﺯﺍﺩ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻤﻠﮑﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻠﻢ ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﺮﻣﺎ ﮐﮯ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺑﮯ ﺣﺎﻝ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮨﻔﺘﻮﮞ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮯ ، ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﻭ ﺟﻮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﻇﺎﻟﻢ ﻟﮩﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺍٓﻏﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺗﮍﭘﺘﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻥ ﻣﯿﮞﺎَﻣﺎﻥ ﭘﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍُﻥ ﺑﯿﭽﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ، ﻭﮨﺎﮞ ﺩﮬﮑﮯ ﻣﻠﮯ۔ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﭘﯿﺎﺳﮯ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺗﮍﭖ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻇﺎﻟﻢ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﻮﮞ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺭﯾﻨﮕﯽ۔ 
ﭘﮍﻭﺳﯽ ﻣﻠﮏ ﺑﻨﮕﻠﮧ ﺩﯾﺶ ﮐﯽ ﺳﺨﺖ ﮔﯿﺮ ﻭﺳﻨﮓ ﺩﻝ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﺷﯿﺦ ﺣﺴﯿﻨﮧ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﮨﯽ ﮈﮬﭩﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻟﺠﺰﯾﺮﮦ ﭨﯽ ﻭﯼ ﮐﻮ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ’’ ﺑﺮﻣﺎ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ،ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺮﻭﮐﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺍُﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﺭﯾﮟ ﯾﺎ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﺎﻡ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﻭﮞ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻠﮏ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﺍٓﺑﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮل ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﻮﮞﻤﯿﮟ ﺑﮯ ﺷﮏ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ ﺭﻭﮨﻨﮕﯿﺎﺋﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻋﻮﺍﻡ ﻧﮯ ﺍﺣﺘﺠﺎﺟﯽ ﮐﯿﺎ، ﻇﻠﻢ ﻭ ﺑﺮﺑﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍٓﻭﺍﺯ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻔﺎﺭﺗﯽ ﺳﻄﺢ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻤﻠﯽ ﺍﻗﺪﺍﻡ ﻧﮧ ﮐﺮﮐﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻌﻨﻮﮞ ﻣﯿﮞﺎﭘﻨﯽ ﺑﮯ ﻏﯿﺮﺗﯽ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﯿﺎ

Monday, 28 May 2018

اداکارہ میرا 9 سال بعد عتیق الرحمان کی بیوی قرار


 پير 28 مئ 2018


اداکارہ میرا کا نکاح نامہ حقائق پر مبنی ہے جسکی تصدیق نکاح خواں حامد خان نےکی ہے، عدالت ؛ فوٹو : فائل
اداکارہ میرا کا نکاح نامہ حقائق پر مبنی ہے جسکی تصدیق نکاح خواں حامد خان نےکی ہے، عدالت 
 
لاہورفیملی کورٹ نے 9 سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اداکارہ میرا اور عتیق الرحمان کے نکاح نامے کی تصدیق ہوچکی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اداکارہ میرا اور ان کے مبینہ شوہر عتیق الرحمان کے درمیان تنسیخ نکاح کے کیس کا معاملہ لاہور کی فیملی عدالت میں طویل عرصے سے زیر سماعت تھا۔ مارچ میں ہونے والی سماعت میں اداکارہ میرا کے نکاح سے متعلق نکاح خواں حامد خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اداکارہ میرا اور ان کے مبینہ شوہرعتیق الرحمان کا نکاح حقیقت ہے جو میں نے خود گواہان کی موجودگی میں اسلامی شریعت کے مطابق پڑھایا۔








لاہورفیملی کورٹ نے 9 سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اداکارہ میرا اور عتیق الرحمان کے نکاح نامے کی تصدیق ہوچکی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اداکارہ میرا اور ان کے مبینہ شوہر عتیق الرحمان کے درمیان تنسیخ نکاح کے کیس کا معاملہ لاہور کی فیملی عدالت میں طویل عرصے سے زیر سماعت تھا۔ مارچ میں ہونے والی سماعت میں اداکارہ میرا کے نکاح سے متعلق نکاح خواں حامد خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اداکارہ میرا اور ان کے مبینہ شوہرعتیق الرحمان کا نکاح حقیقت ہے جو میں نے خود گواہان کی موجودگی میں اسلامی شریعت کے مطابق پڑھایا۔

لاہور کی فیملی کورٹ میں ہونے والی آج کی سماعت میں جج بابر ندیم نے اداکارہ میرا کو عتیق الرحمان کی بیوی قرار دیتے ہوئے 18 صفحات پر مشتمل فیصلہ سنا دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اداکارہ میرا کا نکاح نامہ حقائق پر مبنی ہے اور نکاح خواں حامد خان نے باقاعدہ اس کی تصدیق کی ہے۔  ادکارہ میرا نے اپنی مرضی سے عتیق الرحمان سے نکاح کیا اور نکاح کے وقت تصاویر بھی حقائق پر مبنی ہیں۔ دلہن نے نکاح کے وقت عروسی لباس پہن رکھا ہے اور تصاویر میں جو افراد موجود ہیں وہ بطور گواہ عدالت میں پیش ہوئے جنہوں نے نکاح کی تصدیق کی ہے۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ نکاح کے بعد دونوں میاں بیوی سیاحت کے لیے بیرون ملک بھی گئے تھے جس کے شواہد بھی عدالت میں پیش کیے گئے، بعد میں دونوں میاں بیوی کے مابین ایک گھر پر تنازع پیدا ہوگیا تھا۔
واضح رہے کہ لاہور کی فیملی عدالت میں ادکارہ میرا نے 25 جولائی 2009 کو نکاح نامہ چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ عتیق الرحمان کو جانتی تک نہیں،  عتیق الرحمٰن سستی شہرت کے لیے میرا شوہر ہونے کا دعوی کررہا ہے۔ جس پر عدالت نے وکلاء کی حتمی بحث اور گواہان کی شہادت کے بعد کیس کا فیصلہ سنا دیا اور میرا کی تکذیب نکاح کیس کی درخواست مسترد کردی۔

Sunday, 27 May 2018

Tighten Your Breasts in Week with This Home Remedy



Tighten Your Breasts in Week with This Home Remedy

Today we are going to share already tasted remedy that will help you lift your breasts and make them firm and perkier. Great boobs are the huge part of the every women life; they make them feel sexier and beautiful.
Sagging breasts can make women very insecure. Let`s be real every woman in the world is dreaming about perfect breasts.
Well, unfortunately, that`s not possible. When the ladies are coming close, or they are already at the age of 40, their breasts are starting to droop a bit because of many reasons.
There is a couple of reasons for sagging breasts, like poor nutrition, pregnancy, weight loss in the short amount of time, breastfeeding and much more. Some women have sagging breasts because of wearing the wrong bra for a long time.
Ladies be aware that sagging breasts can happen even in the younger age, not at the age of 40 or older.
This natural mask that we are going to show you is made with ingredients that are available everywhere and you can apply it to the breasts without any hesitation of side effects. Before spending a fortune to lift your breasts with surgeries.



We suggest you, to find the best natural ways for lifting your breasts. It`s healthier, cheaper and you will benefit without spending thousands of dollars for surgery. So this works for you in many ways.

Vitamin E, Honey, and Egg White Breast Tightening Mask

Ingredients:
  • 1 Tablespoon of Vitamin E
  • 1 Teaspoon of honey
  • 1 Egg white
How to prepare it:
  • Mix all of the ingredients in a bowl.
  • Make sure you make a paste from those components.
  • Wear a bra that won`t absorb the mask. Make sure that bra is the perfect for your breasts.
  • After half hour you are ready to remove the bra and clean your boobs with warm water.
  • Do this routine every day, and the results will amaze you.
This natural formula is the best thing that happened to women with this problem, it`s efficient, and there is no risk of any side effects. After using this remedy, you will be in the best possible shape, and you will feel confident and sexy again. The first results are going to be visible after only seven days.
If you can`t find Vitamin E, there is a liquid of Vitamin E available in every store. You can find capsules also.
Notice: We highly suggest you to avoid using this mask if you are allergic to any ingredients that we have listed above.


Natural Ways To Improve Saggimg Breasts

Overview
As a result of aging or pregnancy, the women very often get saggy breasts. Some of the ways which will make the problem disappear are to put implants or breast lift, but, to put implants is very expensive plus the time you are going to spend on a recovery. There are healthier ways to fix the sagging breasts, some of them are aerobic with chest strengthening exercises.

You may also like to see Tighten Your Breasts in Week!
Pushups:

One of the Chest exercises is push-ups many people don`t like them, but, they are beneficial. Ladies pay attention; push-ups can help you if you have sagging breasts. We don`t need to explain to you how to do pushups because everyone has done it at least once in their life. Do it in 3 times with ten reps.
Aerobic Exercise:

Aerobic exercises are perfect for the fat around your breasts. We suggest you try cross country skiing, swimming which is cardio training will also help you. If you don`t like swimming or cross country skiing, there are other ways, like running, walking or jumping rope. The best way to fix the problem is to have at least 30 min cardio training every day or at least four times a week.
Yoga:

Yoga can also fit into your daily exercise routine. By doing yoga, your muscles are improving not only that helps with the muscles it contributes to calm your mind.
Don`t Smoke!

Smoking is the reason for many diseases, like lung cancer or bad blood flow, it`s going to harm your body, and that`s not good. In this case, when we are speaking about saggy breasts, smoking is not good for your skin because it causes skin tissue to fall apart.



جنرل اسد درانی کو باقیوں کے لیے نشان عبرت بنانے کی ضرورت ہے

بابا کوڈا کی اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ شیر کریں۔ جنرل اسد درانی کو باقیوں کے لیے نشان عبرت بنانے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سے ٹھیک تین سال قبل عثمان درانی اپنی جرمن کمپنی کی طرف سے جنوبی بھارت کے شہر کوچی جاتا ہے۔ کام ختم کرنے کے بعد قواعد کی رُو سے اسے واپس کوچی ائیرپورٹ سے فلائی کرکے جرمنی واپس جانا تھا لیکن اس کی فلائیٹ کا روٹ براستہ ممبئی بن گیا۔ پھر اسے ممبئی میں ویزہ کی خلاف ورزی پر گرفتار کر لیا گیا۔ اعلی سطحی رابطے ہوئے، عثمان کا والد بذات خود بھارتی افسران سے رابطہ کرتا ہے اور بالآخر پورا ایک دن حراست میں رہنے کے بعد عثمان کو واپس جرمنی روانہ کردیا جاتا ہے۔
عثمان درانی، پاکستان کے سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کا بیٹا ہے۔ اس واقعے کے ایک سال بعد اسد درانی سے بھارتی صحافی ادیتیا سنہا رابطہ کرتا ہے اور اسے را کے سابق چیف امرجیت سنگھ دلت کے ساتھ مل کر ایک کتاب لکھنے کی آفر کرتا ہے جو قبول کرلی جاتی ہے۔
پھر اسد درانی، امرجیت دلت اور ادیتیا سنہا جرمنی، ترکی اور نیپال کے شہروں میں اکٹھے ہوتے ہیں جہاں پاکستان اور انڈیا کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان انٹرویو کے انداز میں صحافی سنہا کے سوالوں کے جواب دیتے ہیں جسے سپائی کرونکلز کے نام سے کتابی شکل میں ریلیز کردیا گیا۔
کتاب کی اشاعت کے بعد پاکستانی فوج کی طرف سے سخت ردعمل آیا کیونکہ امرجیت کی نسبت اسد درانی نے زیادہ بڑے انکشافات کئے ہیں۔
اسد درانی کی جی ایچ کیو طلبی ہوچکی، مجھے نہیں پتہ کہ اسد درانی اپنی صفائی میں کیا کہتا ہے لیکن پاک فوج کو اس پہلو کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ کہیں عثمان درانی کو کسی لڑکی وغیرہ کے ذریعے پھانس کر اسد درانی کو مجبور تو نہیں کیا گیا تھا؟ عین ممکن ہے کہ برخوردار کی کچھ تصاویر یا ویڈیو کلپس کو استعال کرتے ہوئے اسد درانی کو مجبور کیا گیا ہو کہ وہ کتاب لکھنے میں مدد دے۔
بہرحال یہ کیس اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرنے کا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حساس عہدوں پر کام کرنے والے افسران کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ نہ تو وہ خود بیرون ممالک میں نوکری یا رہائش اختیار کریں گے اور نہ ہی ان کے اہل خانہ۔ اگر پاکستان میں اعلی عہدے پر فائز ہونا ہے تو پھر قربانی بھی اعلی دینا ہوگی۔
جہانگیر کرامت سے لے کر مشرف، پرویز کیانی اور راحیل شریف تک، سب کے سب آرمی چیفس باہر کے ممالک میں رہائش پذیر ہیں اور وہیں ان کے کمرشل مفادات بھی وابستہ ہیں۔
آرمی کے سابق افسران کو واپس بلایا جائے، اور اس کے ساتھ ساتھ سول حکمرانوں اور سیاستدانوں کو بھی اس بات کا پابند بنایا جائے کہ آئینی عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ اور ان کے اہل خانہ کسی بھی صورت بیرون ممالک کاروبار یا رہائش اختیار نہیں رکھیں گے، بصورت دیگر ان پر غداری کے مقدمات درج ہوں گے۔
یہ کڑوا گھونٹ اگر آج نہ بھرا گیا تو آنے والے دنوں میں یہ عام پریکٹس ہوجائے گی کہ پاکستان میں عہدے سے ریٹائرڈ یا حکومت سے علیحدگی کے بعد غیرملکی ایجنسیوں کو پاکستانی راز بیچنے شروع کردیئے جائیں۔
ملک ایسے نہیں چلتے، ہم نے آج تک کسی کو غداری کے جرم میں پھانسی نہیں دی۔ دو چار سر قلم کرنا ہوں گے تاکہ سب کو سبق حاصل ہو اور آئیندہ محتاط رہیں!!! بقلم خود باباکوڈا
------------------------------------------
نوٹ ۔۔۔۔۔۔ اس پوسٹ میں راحیل شریف والی بات سے قطعاً متفق نہیں۔ راحیل شریف کی اسلامی اتحادی کی سربراہی پاکستان کے وسیع تر مفاد میں اور بہت ضروری ہے۔ اس پر کافی کچھ لکھ چکا ہوں۔

کشن گنگا ڈیم کی تعمیر خارجہ امور کا قلمدان وزیر اعظم میاں نواز شریف

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
پاکستانی قوم متوجہ ہوں؟
توقع کے عین مطابق عالمی بینک نے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر پر پاکستان کی شکایات اور شواہد کو ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔۔۔۔یہ پاکستان کی بھارت سے سفارتی محاذ پر ایک بڑی شکست ہے۔۔۔۔۔کشن گنگا ڈیم کی تعمیر 2009 میں شروع ہوئی جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور ن لیگ مضبوط اپوزیشن تھی۔۔۔2011 کے بعد دو سال تک یہ کیس عالمی عدالت میں چلتا رہا لیکن بالآخر عالمی ثالثی عدالت نے نہ صر ف پاکستان کے اعتراضات مسترد کر دیے بلکہ بھارت کو پانی کا رخ موڑنے کی اجازت دے دی۔۔۔۔۔یاد رہے کہ یہ وہ دور تھا جب بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دیا جارہا تھا اور خارجہ امور کا قلمدان بھی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے پاس تھا۔۔۔۔بھارت نوازی کی داستان صرف یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ دریائے سندھ پر بنائے جانے والے متنازعہ پن بجلی کے منصوبے نیموباز گو کے خلاف بھی وزیر اعظم صاحب کے احکامات کے مطابق عالمی عدالت میں جانے سے روک دیا گیا کہ "خوامخواہ اس کیس پر وقت ضائع ہوگا"۔۔۔بھارت نے یہ منصوبہ مکمل کر لیا ، یہی نہیں اس دوران "چٹک" کا منصوبہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچ گیا اور ہم صرف بھارت سے پینگیں بڑھانے کے خواب دیکھتے رہے۔۔۔۔۔۔
میں عموماً سیاسی شخصیات پر تنقید سے اجتناب کرتا ہوں لیکن گزشتہ ایک دہائی میں زراعت اور آبی وسائل کی زبوں حالی کو دیکھ کر خون کھول اٹھتا ہے۔۔۔۔مسلم لیگ ن کی ذمہ داریوں کا یہاں سے اندازہ کر لیں کہ اس دور میں بھارت صرف دریائے سندھ پر چودہ چھوٹے ڈیم اور دو بڑے ڈیم مکمل کر چکا ہے۔۔۔یہی وجہ ہے کہ منگلا ڈیم اکتوبر 2017 سے خالی پڑا ہے جبکہ تربیلا ڈیم بھی اس وقت بارش کا محتاج ہے۔۔۔یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، پانی کے حوالہ سے ہمارا مستقبل بہت دردناک ہے، دو سال قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بیان دیا کہ وہ پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لیے محتاج کر دے گا اور وہ اس پر عمل کر رہا ہے۔۔۔۔ بھارت دریائے چناب پر سلال ڈیم اور بگلیہار ڈیم سمیت چھوٹے بڑے 11ڈیم مکمل کر چکا ہے ۔ دریائے جہلم پر وولر بیراج اور ربڑ ڈیم سمیت 52ڈیم بنا رہا ہےدریائے چناب پر مزید24ڈیموں کی تعمیر جاری ہے اسی طرح آگے چل کر مزید190ڈیم فزیبلٹی رپورٹس ، لوک سبھا اور کابینہ کمیٹی کے پراسس میں ہیں۔۔۔۔۔
یہ سب کچھ ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے، لیکن کسی کو اس سے غرض نہیں، کوئی نیا پاکستان بنانے کے زعم میں ہے، کوئی ووٹرز کو عزت دینے کا مطالبہ کر رہا ہے، کوئی مذہب پر سیاست کر رہا ہے تو کوئی محض کرسی کے لیے اس گیم کا حصہ ہے۔۔۔اگر یہ مسئلہ کسی پارٹی کے منشور میں شامل نہیں ہے تو اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔۔۔عوام کے ووٹ دینے کے معیار نالیاں پکی کرنا، قیمے والا نان یا نام نہاد نمائشی سکیمیں ہیں، دراصل عوام ذہنی غلام بن چکے ہیں جن کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ان کے سیاسی خداؤں کے تابع ہیں۔۔۔اگر مجھ جیسے کم علم کو یہ حقائق ملکی مستقبل کے لیے فکر مند کرسکتے ہیں تو ہمارے نام نہاد دانشور اور میڈیا ہاؤسز کیوں ان موضوعات پر بات نہیں کرتے؟کیوں کہ ہم بطورِ عوام ان موضوعات پر بات کرنا ہی نہیں چاہتے۔۔۔۔مجھے سیاستدانوں سے گلہ نہیں کیوں کہ ان کی جائیدادیں پاکستان سے باہر ہیں، خدانخواستہ پاکستان پر کوئی آنچ آئی تو وہ اسے چھوڑ کر باہر بھاگنے میں دیر نہیں کریں گے۔۔۔مجھے شکوہ عام لوگوں سے ہے جنہوں نے یہاں رہنا ہے، خدا وہ دن نہ دکھائے جب پانی کے گھونٹ کے لیے ایک بھائی دوسرے کا گلا کاٹ رہا ہو۔۔۔۔۔۔!
نوٹ:
تمام پاکستانی اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اپنے تمام گروپس کے اندر اور ممکن ہو سکے تو اپنے فرینڈ لسٹ میں اور واٹس ایپ میں موجود تمام دوستوں عزیز اقارب کو ایک ایک کر کے بھی سینڈ کریں۔
یہ مسلہ بہت سنگین ھے جسکا ہمیں اندازہ نہیں جس کی طرف ہماری توجہ نہیں جاتی 2025 تک پانی کی اس قدر قلت ہو جائے گی کہ آپ کی فصلوں کو پانی نہیں ملے گا اور پینے کا پانی تک آسانی سے دستیاب نہیں ہوگا۔
یہ سیاست دان ہم پر یہ ظلم کرنے چلے ھیں اور یاد رکھیے ظلم کرنے والا اور چپ کر کے ظلم سہنے والا ایک برابر ھیں.
اللہ پاک کا واسطہ ھے خود پر اور اپنی آنے والی نسلوں پر رحم کریں انکا سوچیں۔
آج آواز نہیں اٹھاؤ گے تو پیاسے تو ویسے ہی مر جانا...!
جزاک اللہ خیر۔


Monday, 21 May 2018

ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻓﻀﻞ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ اور ﻓﺎﭨﺎ

ﻓﺎﭨﺎ ﮐﻮ ﮐﮯ ﭘﯽ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺿﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﯽ ﺳﺎﺯﺵ ﮨﮯ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻓﻀﻞ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ..
ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ 2007 ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﻮ ﺧﻂ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺍﺳﮑﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﮐﺮﮮ ﻭﮦ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﻣﻔﺎﺩﺍﺕ ﮐﻮ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮐﺮ ﮮ ﮔﺎ ... wikileaks
مولانا مفتی محمود کو اللہ نے پانچ صاحبزادوں سے نوازا، سب سے پہلے تو ان کے عہدے دیکھ لیں:
مولانا فضل الرحمان، 6 مرتبہ ایم این اے، تیسری مرتبہ کشمیر کمیٹی کا چئیرمین، مراعات وفاقی وزیر کے برابر
ایک بھائی مولانا عطا الرحمان آج کل سینیٹر ہے۔
دوسرا بھائی مولانا لطف الرحمان خیبرپختون خواہ اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر ہے، مراعات وزیراعلی کے برابر۔
تیسرا بھائی مولانا ضیا الرحمان 2007 میں وزیراعلی اکرم درانی کے زریعے غیرقانونی ڈیپوٹیشن کے زریعے افغان مہاجرین کا ایڈیشنل سیکرٹری مقرر ہوا - پچھلے سال پانامہ لیکس میں فضل الرحمان نے نوازشریف کے حق میں بیان دیا تو نوازشریف نے ضیا الرحمان کو کمشنر افغان مہاجرین کے عہدے پر ترقی دے دی - مراعات اور اوپر کی آمدنی کے لحاظ سے یہ گریڈ 20 کے 30 افسروں کی آمدن سے بھی زیادہ پرکشش عہدہ ہے۔
چوتھا بھائی مولانا عبیدالرحمان ضلع کونسل ڈیرہ اسماعیل خان میں اپوزیشن لیڈر ہے۔
لوگوں کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہوں تو وہ خوش نصیب کہلاتے ہیں، مفتی محمود کے یہ پانچوں فرزند پورے کے پورے گھی میں ہیں، ان کی خوش نصیبی کے کیا کہنے۔
اس سے پہلے میڈیا میں خبر آچکی ہے کہ فضل الرحمان کے ایک بھائی کو پی آئی اے میں ایک نیا شعبہ " اسلامی " تخلیق کرکے اہم عہدے پر فائز کردیا گیا۔ مولانا صاحب کو بطور انسٹرکٹر پی آئی اے مسجد کے امام اور مؤذن کی " ٹریننگ " کرنا تھی لیکن موصوف ظہر کی چار فرض رکعات پڑھ کر ہی مسجد سے بھاگ جاتے۔
پھر یہ چھٹیاں لے کر، پی آئی اے کی بزنس کلاس کی مفت کی ٹکٹ پر امریکہ گئے، وہاں خود ہی اپنے آپ کو پی آئی اے کی طرف سے امریکہ میں پورا رمضان تراویح پڑھانے کی ڈیوٹی تفویض کردی اور 6 ہفتے امریکہ گزارنے کے بعد واپس آئے تو لاکھوں روپے ٹی اے ڈی اے کی مد میں چارج کرلئے۔
پھر ایک دن اپنے ہی شعبہ اسلامی میں رکھا قیمتی سامان، فرنیچر، کمپیوٹر، ٹی وی وغیرہ اپنے گھر پہنچا کر کہہ دیا کہ چوری ہوگئی۔
مولانا نے پی آئی اے میں ترقی پا کر اگلے گریڈ میں جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس مقصد کیلئے ان کیلئے علیحدہ سے ایک آسان سا اسلامی امتحان رکھا گیا جس میں مولانا بمشکل 50 نمبر ہی لے پائے اور بعد میں سارا الزام ممتحن پر ڈال دیا کہ اس نے " آؤٹ آف سلیبس " پرچہ لیا۔
پتہ نہیں مفتی محمود مرحوم کو کس کی نظر لگ گئی، اللہ نے پانچ صاحبزادے دیئے، پانچوں کے پانچوں حرامخور، کرپٹ اور حکمرانوں کے دربار کے باہر بیٹھے کنجروں سے بدتر۔
ظلمت کو ضیاء، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا ۔












Sunday, 20 May 2018

قوم کی بیٹی سے متعلق کچھ حقائق ۔۔۔۔۔ !

قوم کی بیٹی سے متعلق کچھ حقائق ۔۔۔۔۔ !
عافیہ صدیقی ایک ماہر نیورالوجسٹ تھیں ۔ اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ امریکہ میں گزارا اور وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں ۔ اس نے دو شادیاں کی ہیں جن میں پہلی شادی پسند کی تھی۔
امریکہ کا دعوی ہے کہ "انہیں القاعدہ سے تعلقات کے شبے میں پکڑا گیا ہے۔ خالد شیخ محمد نے دوران تفتیش انکا نام لیا تھا اور وہ القاعدہ کے لیے رقوم بھی منتقل کرتی تھیں۔ گرفتاری کے بعد قید کے دوران اسنے امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر ان پر فائرنگ کی ۔ جسکی وجہ سے انہیں سزا سنائی گئی۔ "
( یہ امریکی الزامات ہیں آپ نظر انداز کر سکتے ہیں)
آگے بڑھنے سے پہلے ایک سوال ۔۔
مشرف نے کب اور کہاں عافیہ صدیقی کو امریکہ کے ہاتھ بیچنے کا اعتراف کیا ہے؟
اس سوال کا جواب مجھے آج تک نہیں ملا۔
اب آتے ہیں اصل مضمون پر۔۔۔۔
یہ بات قطعاً جھوٹ ہے کہ عافیہ صدیقی ہی بگرام جیل کی قیدی نمبر 650 تھیں۔
معظم بیگ وہ شخص ہے جس کے بیان پر عافیہ کو قیدی نمبر 650 بنا دیا گیا۔
مگر معظم بیگ فروری 2002 میں بگرام جیل لایا گیا، اور پھر اسکے ایک سال بعد ٹھیک 2 فروری 2003 کو وہ بگرام سے گوانتاناموبے کی جیل میں منتقل کر دیا گیا۔
جبکہ عافیہ اسکے دو مہینے بعد تک کراچی میں اپنی فیملی کے ساتھ موجود تھیں اور وہ یکم اپریل 2003 کو روپوش ہوئیں۔ جبکہ معظم بیگ جس قیدی عورت کے چیخنے کی آوازیں سننے کی بات کرتا تھا، وہ تو معظم بیگ سے بھی پہلے جیل میں موجود تھی۔
تو اب کوئی عقلمند یہ بتا سکتا ہے کہ پھر صدیقی فیملی، مس ریڈلی اور قوم کے دانشوران نے سالہا سال کی عافیہ کیس پر تحقیق کے بعد بھی عافیہ کو قیدی نمبر 650 کیوں بنا کر پیش کرتے رہے؟
درحقیقت عافیہ صدیقی کی امریکنز کے ہاتھوں گرفتاری 2008ء کے بعد ہوئی جس وقت مشرف کی حکومت ختم ہو چکی تھی۔ اس دوران یہ اپنے ماموں شمس الدین، مفتی ابولبابہ شاہ منصور اور مفتی رفیع عثمانی سمیت کئی لوگوں سے رابطے میں رہیں اور اسی دوران اس نے القاعدہ کے لیے حیاتیاتی ہتھیار بھی بنانےکی کوشش کی۔
22 مئی 2009 کو امت اخبار میں عافیہ کے سابق شوہر ڈاکٹر امجد کا طویل انٹرویو شائع ہوا ہے جس سے معلوم ہوا کہ عافیہ نے اپنی روپوشی کا ڈرامہ خود رچایا تھا۔ اس انٹرویو کے چیدہ چیدہ اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
1۔ عافیہ جنونی کیس ہے۔
2۔ عافیہ اگر جہادی تنظیموں کی ممبر نہیں تھیں، مگر پھر بھی عافیہ کے جہادی تنظیموں سے رابطے تھے، اور خالد شیخ گروپ سے بھی رابطے تھے، امریکہ میں بھی اور پاکستان میں بھی۔ نیو ہمپشائر میں گروپ کے ساتھ کیمپنگ کیا کرتیں جس کا مقصد جہاد کی تیاری تھا جس میں پانچ چھ بار وہ خود لے کر گئے۔ نیز انہوں نے نائٹ ویژن اسکوپ اور دو بلٹ پروف شکاری جیکٹس، سی فور دھماکہ خیز مواد بنانے کے مینوئل وغیرپ خریدے جس کی وجہ فطری دلچسپی اور شکار بتائی اور ان کی خرید و فروخت ممنوع نہیں تھی ملک سے باہر لے جانا ممنوع تھا۔
3۔ جب پہلی مرتبہ امریکی اداروں نے ان کا انٹرویو لیا تو عافیہ نے جان بوجھ کر ان ادارے والوں سے جھوٹ بولنا شروع کر دیا، حالانکہ تمام چیزں بینک سٹیٹمنٹ وغیرہ کے ذریعے ثابت تھیں اور ناقابل انکار تھیں (یعنی بلٹ پروف جیکٹیں اور نائٹ ویژن اسکوپ وغیرہ۔ جب ڈاکٹر امجد نے اس کی وجہ پوچھی تو عافیہ کہنے لگیں کہ کافروں کو انکے سوالات کے صحیح جوابات دینا جرم ہے اور ان سے جھوٹ بولنا جہاد۔ [پتا نہیں پھر وہ کافروں کے ملک امریکہ گئی ہی کیوں تھیں]
4۔عافیہ کے اس جھوٹ کے بعد ڈاکٹر امجد اور عافیہ امریکہ میں مشتبہ ہو گئے اور انہیں امریکا چھوڑ کر پاکستان شفٹ ہونا پڑا۔
5۔ پاکستان شفٹ ہونے کے بعد عافیہ نے ڈاکٹر امجد کو افغانستان میں جہاد پر جانے کے لیے لڑائی کی اور نہ جانے کی صورت میں طلاق کا مطالبہ کیا۔
6۔ دیوبند مکتبہ فکر کے مشہور عالم مفتی رفیع عثمانی نے عافیہ کو سمجھانے کی کوشش کی مگر بات نہ بنی۔
7۔ بہرحال طلاق ہوئی۔ مگر ڈاکٹر امجد بچوں سے طلاق کے بعد سے لیکر اب تک نہیں مل سکے ہیں۔ وجہ اسکی عافیہ اور اسکی فیملی کا انکار ہے۔ یہ ایک باپ پر بہت بڑا ظلم ہے جو بنت حوا اور اسکے حواریوں کی جانب سے کیا گیا اور ابھی تک کیا جا رہا ہے۔
8۔ 2003 میں عافیہ نے خالد شیخ کے بھانجے عمار بلوچی سے دوسری شادی کر لی تھی، مگر اسکو خفیہ رکھا گیا، ورنہ قانونی طور پر بچے ڈاکٹر امجد کو مل جاتے۔
9۔ 2003 میں ہی خالد شیخ کو پکڑا گیا، اور وہاں سے چھاپے کے دوران ملنے والے کاغذات سے پتا چلا کہ عافیہ کا اس گروپ سے تعلق ہے اور یہ کہ وہ خالد شیخ کے بھانجے سے دوسری شادی کر چکی ہیں اور نکاح نامہ پر انکے دستخط ہیں۔ عمار بلوچی کے خاندان والوں نے بھی اسکی تصدیق کی، مگر صدیقی خاندان مستقل طور پر جھوٹ بولتا رہا کہ عافیہ نے دوسری شادی نہیں کی۔ بعد مین عافیہ نے عدالتی کاروائی کے دوران خود اس دوسری شادی کی تصدیق کی۔
10۔عافیہ خفیہ طور پر 5 دن کے لیے امریکہ گئیں اور وہاں پر خالد شیخ کے ساتھی ماجد خان کے لیے اپنے شوہر ڈاکٹر امجد کے کاغذات استعمال کرتے ہوئے ایک عدد پوسٹ بکس کو کرائے پر لے لیا۔ ڈاکٹر امجد کی تحریر کے مطابق انہیں اس پوسٹ باکس کا علم تھا نہ عافیہ کے اس 5 دن کے خفیہ دورے کا۔
11۔ سن 2003 میں خالد شیخ کے پکڑے جانے کے بعد عافیہ بہت خطرے میں آ گئی اور خالد شیخ کے گروہ اور عافیہ نے بہتر سمجھا کہ وہ روپوش ہو جائیں کیونکہ انکا تعلق خالد شیخ سے ثابت تھا اور پھر خالد شیخ کے بھانجے عمار بلوچ سے شادی کرنے کے بعد اور امریکہ میں غیر قانونی طور پر ماجد خان کے لیے پوسٹ بکس باکس لینے کے بعد یہ یقینی تھا کہ ایف بی آئی انکا پیچھا کرتی۔
12۔ چنانچہ ڈاکٹر عافیہ نے باقاعدہ طور پر اپنی روپوشی کا ڈرامہ کھیلا۔
روپوش تو عافیہ 31 مارچ سے کچھ دن پہلے ہی ہو چکی تھی، مگر پھر عافیہ نے اپنی فیملی کو فون کر کے بتایا کہ وہ باقاعدہ ساز و سامان باندھ کر کراچی سے اسلام آباد اپنے ماموں سمش الدین واجد صاحب کے پاس جا رہی ہیں۔
مگر پھر راستے میں روپوش ہو گئیں۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ انہیں اس روپوشی کا جواز بھی دینا تھا کیونکہ ڈاکٹر امجد بچوں سے ملنے کی خاطر عافیہ کے خلاف قانونی کاروائی کر رہے تھے۔ اس لیے اس روپوشی کا جواز یہ بنایا گیا کہ عافیہ کو ایجنسی کے لوگ ہی بچوں سمیت اغوا کر کے لے گئے ہیں۔
یوں عافیہ نہ صرف ڈاکٹر امجد سے بچ گئیں، بلکہ ان کے خاندان والے بھی ان سوالات سے بچ گئے کیونکہ اس دوران عافیہ کا نام گیارہ ستمبر کے حملوں کے حوالے سے سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہو چکا تھا۔
13۔ مگر ڈاکٹر امجد نے عافیہ کے غائب ہو جانے پر یقین نہیں کیا، اور خاندان کی درزن اور دو اور لوگوں نے اسکے بھی عافیہ کو کراچی میں دیکھا، اور داکٹر امجد لکھتے ہیں کہ انہوں نے ان لوگوں کو بطور گواہ عدالت میں بھی پیش کیا۔
14۔ لیڈی صحافی ریڈلی نے دعوی کیا عافیہ بگرام جیل میں قیدی نمبر 650 ہے۔ مگر مس ریڈلی نے یہاں چیٹنگ کی اور یہ بالکل صاف اور سیدھی سی بات تھی کی عافیہ قیدی نمبر 650 نہیں ہو سکتی کیونکہ معظم بیگ 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانا موبے منتقل ہو چکا تھا جبکہ عافیہ اسکے دو مہینے بعد 31 مارچ 2003 کو روپوش ہوئی۔
15 سب سے بڑا ثبوت: عافیہ کا 2008 میں اپنے ماموں شمس الدین واجد کے گھر نمودار ہونا ھے-
ڈاکٹر امجد لکھتے ہیں دو بڑے انگریزی اخبارات میں انہیں ایک دن شمس الدین واجد [عافیہ کے ماموں] کا بیان پڑھنے کو ملا جس سے انہیں شاک لگا۔ شمس الدین واجد کہتے ہیں کہ سن 2008 میں عافیہ ان کے گھر ایک دن اچانک نمودار ہوئی۔ اور تین دن تک رہی۔
ڈاکٹر امجد نے پھر بذات خود شمس الدین واجد صاحب سے رابطہ کیا اور ان سے تفصیلات طلب کیں۔ شمس الدین واجد صاحب نے جواب میں انہیں باقاعدہ ای میل تحریر کی ہے جو کہ بطور ثبوت ڈاکٹر امجد کے پاس موجود ہے۔ شمس الدین واجد صاحب کے مطابق انہوں نے عافیہ کی ماں کو بھی وہاں پر بلایا اور انکی بھی عافیہ سے ملاقات ہوئی۔
مزید یہ کہ عافیہ نے کھل کر نہیں بتایا کہ وہ کن لوگوں کے ساتھ ہے، مگر اس دوران میں شمس الدین واجد صاحب کو عافیہ کی ناک پر سرجری محسوس ہوئی جو زخم کی وجہ سے تھی یا پھر شکل تبدیل کرنے کی غرض سے، بہرحال عافیہ پورے عرصے نقاب کا سہارا لیتی رہی اور کھل کر سامنے نہیں آئی۔
پھر عافیہ نے اپنے ماموں سے ضد شروع کر دی کہ وہ انہیں طالبان کے پاس افغانستان بھیج دیں کیونکہ طالبان کے پاس وہ محفوظ ہوں گی۔ مگر ماموں نے کہا کہ انکے 1999 کے بعد طالبان سے کوئی رابطے نہیں ہیں اور وہ اس سلسلے میں عافیہ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ اس پر عافیہ تیسرے دن وہاں سے غائب ہو گئی۔
گمان غالب ہے کہ ان کو امریکنز نے افغانستان میں ہی گرفتار کیا تھا جہاں وہ جانے کے لے بےتاب تھیں۔
------------------------------------------------------------------
------------------------------------------------------------------
حقیقت یہ ھے کہ عافیہ نے یہ کھیل امریکی گرفت اور سابقہ خاوند کو بچوں سے دور رکھنے کیلئے کھیلا اور وہ اس پورے عرصے کے دوران خالد شیخ کے گروہ یا کسی اور جہادی گروہ کی مدد سے روپوش رہی، اور اسی گروہ کے لوگ عافیہ کے گھر والوں کو اس عرصے میں فون کر کے عافیہ کی خیریت کی خبر دیتے رہے۔
نیز واجد شمس الدین کی گواہی کے مطابق جس عافیہ سے سن 2008 میں ملے تھے، وہ اپنے پورے ہوش و حواس تھی۔ جبکہ بگرام کی قیدی 650 اپنے ہوش و حواس کھو چکی تھی۔ اس حقیقت کے بعد قیدی نمبر 650 کی حقیقت بالکل واضح ہو چکی تھی مگر افسوس کہ یہ فوج دشمنی ھے کہ جس کی وجہ سے یہ لوگ ابھی تک قیدی نمبر 650 کا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے اپنے ہی ادارے پر تہمتیں لگائے جا رہے ہیں۔
"عافیہ کے بچے تمام عرصے عافیہ کے پاس تھے":-
عافیہ کے ساتھ اسکا بیٹا احمد موجود تھا جس کے متعلق پکڑے جانے پر عافیہ نے جھوٹ بولا تھا کہ احمد اسکا بیٹا نہیں بلکہ احمد مر چکا ہے اور تمام عرصے وہ احمد کو علی حسن بتلاتی رہی۔ مگر ڈی این اے ٹیسٹ سے تصدیق ہو گئی کہ وہ احمد ہی ہے۔ نیز احمد اپنی ماں کو عافیہ کے نام سے نہیں جانتا تھا، بلکہ صالحہ کے نام سے جانتا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ عافیہ اس پورے عرصے کے دوران اپنی آئڈنٹیٹی تبدیل کر کے صالحہ کے نام سے روپوشی کی زندگی گذارتی رہی-!
تو اب سچ کو بے نقاب ہو جانا چاہیے۔ اگر مشرف پر قوم کی بیٹی بیچنے کا الزام ہے تو اس کو سزا ہو جائے، لیکن اگر یہ فقط تہمت ہے تو اس میڈیا پر ایک آدم کے بیٹے پر یہ مسلسل اور نہ ختم ہونے والی تہمت کے دہرانے پر جتنی بھی لعنت کی جائے وہ کم ہو گی۔
کیا یہ کہنا درست نہیں کہ عافیہ کیس میری قوم کی جذبات میں آ کر اندھا ہو جانے کی بدترین مثال ہے کہ جہاں قوم کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور اُسے جذبات میں کچھ نظر نہیں آ رہا ہوتا۔
نوٹ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ تحقیق و تحریر میرے دوست اویس صابر کی جو زیادہ تر مختلف اخبارات میں چھپنے والے مواد پر مشتمل ہے ۔۔۔۔ !