Monday, 9 October 2017
صوبائی حکومت کے فیصلہ کیخلاف تمام کالجوں کے طلباکا احتجاج شروع
سوات کے سب سے بڑے جہانزیب کالج میں ایک مرتبہ پھر طلبائ احتجاج پر مجبور
بن گئے ، جہانزیب کالج کے علاوہ مٹہ ، ڈگری کالج مینگورہ ، کبل اورمدین
خوازہ خیلہ میں بھی ہزاروں طلبائ سراپا احتجاج بن گئے ہیں، طلبائ کا کہنا
ہے کہ صوبائی حکومت سرکاری کالجوں کی نجکاری کررہی ہے، جس کیخلاف اساتذہ
کلاسیں نہیں لے رہیں، اور ہمارا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے، طلبا کا کہنا ہے
کہ صوبائی حکومت فوری طور پر نجکاری کا فیصلہ واپس لیں تاکہ اساتذہ کلاسیں
لینا شروع کردیں اور طلبا کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچ سکیں،
Friday, 3 March 2017
گرم پانی خالی پیٹ
گرم پانی خالی پیٹ
بے انتہا فواید کا حامل ہے
آپ سب کے استفادے کے لیے اسکا,خلاصہ بیان کررہا ہوں۔
دل کے مشھور اسپیشلسٹ کا فرمانا ہے جس تک یہ تحریر پہنچ جاے اگر وہ آگے
پہنچاءیگا تو کافی لوگوں کی نجات اور زندگی بچانے کا سبب بنے گا۔
گرم پانی سے علاج آپکو یقین نہیں.آئے گا۔
جاپان میں.ڈاکٹرو ں کی ایک بڑی جماعت نے یہ اتحاد کیا کہ گرم پانی سے علاج کے 100% نتایج حاصل ہوے ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں
شدید سر درد مائیگرین
ہای بلڈ پریشر
خون کی کمی
جوڑوں کا درد
دل کی دھڑکن کا ایک دم تیز یا آہستہ ہوجانا
مرگی کاعلاج
چربی، کولیسٹرول
شدید کھانسی
بے چینی
گلو درد
دمہ
کالی کھانسی
رگوں کی بلاکیج
مثانہ پیشاب اور اس سے مربوط ساری بیماریاں
معدے کا ترش ھوجانا
زخم معدہ
بھوک کم لگنا
اور ہر بیماری جو آنکھ کان گلے سے مربوط ہے
بے چینی
گلو درد
دمہ
کالی کھانسی
رگوں کی بلاکیج
مثانہ پیشاب اور اس سے مربوط ساری بیماریاں
معدے کا ترش ھوجانا
زخم معدہ
بھوک کم لگنا
اور ہر بیماری جو آنکھ کان گلے سے مربوط ہے
طریقہ علاج
ہر روز صبح جلدی اٹھیں اور نہار منہ 160 سی سی کے تقریبا 4 گلاس پئیں۔ پانی گرم ہو لیکن اتنا نہیں کہ زبان جلادے گرم کے نزدیک ہو۔
ہر روز صبح جلدی اٹھیں اور نہار منہ 160 سی سی کے تقریبا 4 گلاس پئیں۔ پانی گرم ہو لیکن اتنا نہیں کہ زبان جلادے گرم کے نزدیک ہو۔
ایک احتیاط پانی پینے کے 45 منٹ تک کچھ بھی کھانا پینا نہیں۔
اور پھر ہر کھانے کے دو گھنٹے بعد تک پانی بلکل نہیں پینا۔
اور پھر ہر کھانے کے دو گھنٹے بعد تک پانی بلکل نہیں پینا۔
بعض لوگ ابتداء میں 4 گلاس نہیں پی سکتے تو وہ آہستہ آہستہ اس کو 4 گلاس تک پہنچادیں۔
پانی سے مختلف بیماریوں کا علاج معین مدت میں ثابت ھوچکا ہے اور وہ کچھ یوں ہیں۔
شوگر 30 دن
بی پی 30 دن
معدے کے تمام مسائل 10 دن
ہر قسم کا کینسر 9 مہینے
بی پی 30 دن
معدے کے تمام مسائل 10 دن
ہر قسم کا کینسر 9 مہینے
رگوں کی بندش 6 مہینے
کم بھوک لگنا 10 دن
مثانہ اور اس سے متعلقہ بیماریاں 10 دن
ناک کان گلا 20 دن
خواتین کی بیماریاں 15 دن
دل اور اس سے متعلق بیماریاں 30 دن
شدید سر درد مائیگرین 3 دن
خون کی کمی 30 دن
چربی. کولیسٹرول 4 مہینے
مرگی اور فالج ، ضمانت کے ساتھ، 9 ماہ لگاتار
سانس دمہ کی مشکلات 4 مہینے۔
کم بھوک لگنا 10 دن
مثانہ اور اس سے متعلقہ بیماریاں 10 دن
ناک کان گلا 20 دن
خواتین کی بیماریاں 15 دن
دل اور اس سے متعلق بیماریاں 30 دن
شدید سر درد مائیگرین 3 دن
خون کی کمی 30 دن
چربی. کولیسٹرول 4 مہینے
مرگی اور فالج ، ضمانت کے ساتھ، 9 ماہ لگاتار
سانس دمہ کی مشکلات 4 مہینے۔
طب قدیم میں بھی گرم پانی ناشتے سے پہلے بہت فوائد کا حامل بتایا گیا ہے اور اسکی بہت تاکید ہوئی ہے۔
تجربہ کر کے دیکھیں۔
*لیکن ٹھنڈ پانی*
بوعلی سینا کا فرمان
ٹھنڈا پانی اگر آپکو جوانی میں بیمار نا کرے جوانی کے بعد آپکو سخت ترین بیمار کردےگا
ٹھنڈا پانی اگر آپکو جوانی میں بیمار نا کرے جوانی کے بعد آپکو سخت ترین بیمار کردےگا
ٹھنڈا پانی دل کی 4 رگوں کو جوڑدیتا ہے
دل کی اصلی رگ کو بھی بند کردیتا ہے ہارٹ اٹیک کا سبب بنتا ہے۔
دل کی اصلی رگ کو بھی بند کردیتا ہے ہارٹ اٹیک کا سبب بنتا ہے۔
اکثر جوانی میں ہارٹ اٹیک ٹھنڈے مشروبات سبب بنتے ہیں
ٹھنڈا پانی جگر کی نابودی کا سبب بنتا ہے چربی اس سے چپک جاتی ہے
معافی چاہتے ہوے وہ لوگ جو جگر ٹرانسپلانٹ کے منتظر ہیں اس کا اصلی سبب یہی ٹھنڈا پانی ہے۔
ٹھنڈا پانی جگر کی نابودی کا سبب بنتا ہے چربی اس سے چپک جاتی ہے
معافی چاہتے ہوے وہ لوگ جو جگر ٹرانسپلانٹ کے منتظر ہیں اس کا اصلی سبب یہی ٹھنڈا پانی ہے۔
در اصل ٹھنڈا پانی معدے کےاندرونی پردوں کو متاثر کرتا ہے اور شوگر کا سبب بنتا ہے۔
ٹھنڈا پانی معدے اور بڑی آنت کو نقصان پہنچا کر کینسر کا سبب بنتا ہے۔
سب کو بتاءیں یہ ایک صدقہ جاریہ بنےگا جو آپ کہ وجہ سے ٹھیک ہوگیا اس کے صحت پانے میں آپ بھی ثواب کے مستحق قرار پائیں گے۔
*یہ ان لوگوں سے بھی شئیر کریں جن کو آپ پسند نہیں کرتے، الله آپ کو جزا دے گا*
Wednesday, 1 March 2017
اپنےضمیر میں جھانک كر سوچ .............
چائے کی پتی میں رنگ ملانے والا چائے فروش ۰۰
500 یونٹ کو 1500 یونٹ لکهنے والا میٹر ریڈر....
خالص گوشت کے پیسے وصول کرکہ ہڈیاں بهی ساتھ تول دینے والا قصائی...
خالص دودھ کا نعرہ لگا کر پانی پاوڈر کی ملاوٹ کرنے والا گوالا۰۰۰
گاڑی کے اوریجنل سپیئر پارٹس نکال کر دو نمبر لگانے والا مستری....
بے گناہ کے ایف آئی آر میں دو مزید ہیروئین کی پوڑیاں لکهنے والا انصاف پسند ایس ایچ او...
گهر بیٹهـ کر حاضری لگوا کرحکومت سےتنخواہ لینے والا مستقبل کی نسل کا معمار استاد..
کم ناپ تول کرکہ دوسروں کا حق کم کرکے پورا پیسہ لینے والا دکاندار..
100 روپے کی رشوت لینے والا عام معمولی سا سپاہی....
معمولی سی رقم کے لیے سچ کو جهوٹ اور جهوٹ کو سچ ثابت کرنےوالا وکیل.....
دس روپے کے سودے میں ایک روپیہ غائب کردینے والا بچہ..
آفیسر کے لیے رشوت لے جانے والا معمولی سا چپڑاسی...
کھیل کے بین الاقوامی مقابلوں میچ فکسنگ کر کےملک کا نام بدنام کرنےوالا کھلاڑی ۰۰۰
دشمن ملک میں شہرت اور دولت کی خاطر ملک کی عزت خاک میں ملانے والا اداکار اور گلوکار۰۰۰
ماں باپ کی عزت نیلام کرکےکئ لڑکوں کے ساتھ تعلقات رکهنے والی بیٹی ...
ساری رات ننگا ناچ اور فحش فلمیں دیکھ کر فجر کو اللہ اکبر سنتے ھی سونے والا نوجوان...
کروڑوں کے بجٹ میں غبن کرکے دس لاکھ کی سڑک بنانے والا ایم پی اے...
لاکهوں غبن کرکہ دس ہزار کے ہینڈ پمپ لگانے والا جابر ٹهیکدار...
ہزاروں کا غبن کرکہ چند سو میں ایک نالی پکی کرنے والا ضمیر فروش ممبر صاحب...
مسجد کے ممبر پر بیٹها ھوا بے عمل مولوی....
پوری رات دلالی کرکہ فاحشہ کو 30 ہزار میں 5 ہزار دینے والا منحوس دلال...
غلہ اگانے کے لیے بهاری بهرکم سود پہ قرض دینے والا ظالم چودهری صاحب..
زمین کے حساب کتاب و پیمائش میں کمی بیشی کرکہ اپنے بیٹے کو حرام مال کا مالک بنانے والا پٹورای.....
اور......
اپنے قلم کو بیچ کر پیسہ کمانے والا صحافی.....
هرایک سمجهتا هے که اس ملک نے همیں کیا دیا هے کبهی هم نے اپنےاپنےضمیر میں جھانک سوچها هے که هم نے ملک کو کیا دیا هے؟؟
Monday, 30 January 2017
Satellite TV Engineering
Satellite TV Engineering
Theoretical concept and real world experience of Broadcast Engineering and Computer Networking
How DSNG system works?
2:43 AM
Earth
DSNG stands for Digital Satellite News
Gathering. DSNG system is used as mobile earth station. To perform live
broadcasting from a remote place where any physical link like optical
fiber, transmission wire, radio link are not available, then the
satellite link is the only way to send the raw footage to the main TV
station. The DSNG system is approximately similar to the earth station
system together with a mini program control system. The signal flow in
the DSNG system as like as below.

Figure: Block diagram of DSNG system workflow
TV station can use the same satellite or
different satellite for main up-link and DSNG system. After
transmitting the raw footage by DSNG, main station receives that signal.
Now it comes to the base band section, processed and then made ready
for final on-air through the main up-link.
Figure: Up-link and down-link procedure of DSNG system
Wednesday, 18 January 2017
آئیے منافقت سے حیرت کی طرف کا سفر طے کریں
ہر شخص تکمیل کی پہلی سیڑھی پر پیدا ہوتا ہے اور وہ ہے فطرت۔ جس طرح گناہوں
کا کوئی پیندہ نہیں ہوتا اور نیکیوں کی کوئی چھت، بالکل اسی طرح تکمیل کے
مراحل میں آپ سیدھا اور اُلٹا دونوں طرف چل سکتے ہیں۔
ادھورگی کا غم بھی بہت عجیب ہے۔ یہ ایک ایسی چبھن ہے جو متواتر
ہوتی ہے اور ہر بار از سر نو تکلیف دیتی ہے۔ ہر شخص کو زندگی میں کبھی نہ
کبھی، کہیں نہ کہیں ا<س کا احساس ضرور ہوتا ہے اور پھر وہ اپنی تکمیل
چاہتا ہے۔
آدھے اور ادھورے میں بڑا فرق ہے۔ آدھا وہ جو مکمل سے ٹوٹ گیا ہو، مثلاً
ایک شاخ کے دو ٹکڑے کردیں، اب دونوں ٹکڑے آدھے آدھے کہلائیں گے اور یہ
دونوں کبھی مکمل رہ چکے ہوتے ہیں۔
ادھورا بہت مختلف ہے۔ یہ وہ ہوتا ہے جس کو کبھی اپنا بقیہ حصہ ملا ہی
نہیں ہوتا ہے، اور جس کو ایک عمر گزارنے کے بعد پتا چلتا ہے کہ اب کچھ کمی
ہے، ابھی تکمیل باقی ہے اور ظلم یہ ہے کہ یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ وہ گمشدہ
حصہ کہاں ملے گا؟ کیسا دکھتا ہے کہ پہچان ہی ہوسکے اور زندگی میں کبھی مل
بھی سکے گا یا نہیں۔
شاعر کہتا ہے؛
اپنی تکمیل کر رہا ہوں میںورنہ تجھ سےتو مجھے پیار نہیں
ہر شخص کی ادھورگی الگ اور تکمیل منفرد۔ کوئی جذبات سے تکمیل چاہتا ہے
تو کوئی جنون سے، کسی کو علم میں تکمیل نظر آتی ہے تو کسی کو اعمال میں،
کوئی سیکھ کے پہنچنا چاہتا ہے تو کوئی سکھا کے۔ کوئی دیکھ کے منزل پر آنا
چاہتا ہے تو کوئی سُن کے۔ کوئی مان کے تو کوئی منوا کے، کوئی مر کے پہنچتا
ہے تو کوئی جی کے۔
قصہ کوئی ہو، تکمیل کے مراحل سب کی زندگی میں یکساں ہی ہوتے ہیں۔ اب کون
کس ترتیب سے طے کرتا ہے، کس رفتار سے کرتا ہے یا گنتی کہاں سے شروع ہوتی
ہے، اِس کا کوئی نصاب نہیں اور جہاں نصاب نہ ہو، وہاں حساب کتاب بھی مشکل
ہی ہے۔ بے نصاب والوں کو بے حساب ملتا ہے۔
ہر شخص تکمیل کی پہلی سیڑھی پر پیدا ہوتا ہے اور وہ ہے فطرت۔ جس طرح
گناہوں کا کوئی پیندہ نہیں ہوتا اور نیکیوں کی کوئی چھت، بالکل اسی طرح
تکمیل کے مراحل میں آپ سیدھا اور اُلٹا دونوں طرف چل سکتے ہیں۔
فطرت کا مطلب ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ پر توجہ دے اور دوسروں کو نہ
دیکھے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ ہر وہ شخص جو دوسروں کی توجہ کا طالب ہو،
اِس قابل نہیں ہوتا کہ کسی پر توجہ کرسکے۔ تو آدمی اپنی فکر کرے اور بس۔
گناہ ہی گننے ہیں تو کیا اپنے تھوڑے ہیں؟
فطرت سے پہلا الٹا قدم پڑتا ہے غفلت میں۔ یہاں نہ آدمی کو اپنا پتہ ہوتا
ہے نہ دوسروں کا۔ ایک قدم اور پیچھے پڑتا ہے تو منافقت پر پہنچتا ہے۔
منافقت ایک ایسا آئینہ ہے جہاں اپنے آپ کے علاوہ سب دِکھتا ہے۔ یہاں آدمی
اپنے سوا سب کو دیکھتا ہے۔ یہ خطرناک گھاٹی ہے۔ ایک قدم اور پیچھے اور آدمی
عبرت کے گڑھے میں جا گرتا ہے اور بڑی مشکل سے نکل پاتا ہے۔
اب سیدھا چلتے ہیں۔ فطرت سے ایک قدم آگے پڑتا ہے تو بندہ قدرت پر پہنچتا
ہے۔ یہاں بندہ ڈرتا ہے کہ اللہ پکڑ لے گا مجھے بھی اور باقی لوگوں کو بھی۔
اِس کا کسی سے لگا نہیں، یاری نہیں۔ جب چاہے، جسے چاہے، جہاں چاہے، جیسے
چاہے پکڑ لے، کون اِس کا ہاتھ روک سکتا ہے۔ یہ بڑی اچھی سیڑھی ہے۔ آدمی کو
مرتے دم تک ڈرتے ہی رہنا چاہئے۔ ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے تو رحمت کی سیڑھی
پر آجاتا ہے۔ یہاں اسے لگتا ہے کہ اللہ سب کو بخش دے گا گنہگار سے گنہگار
کو بھی۔ اِس کی رحمت کسی جواز کی محتاج نہیں۔ وہ بے وجہ بخش دے، اُسے کس نے
روکنا ہے؟
دنیا میں لوگوں کی اکثریت قدرت و رحمت کے درمیان جھولا جھولتے گزر جاتی
ہے اور بڑی اچھی بات ہے بیم و رجا کے درمیان زندگی گزر جائے۔ جوانی میں خوف
تو بڑھاپے میں رحمت غالب رہے تو کیا کہنے۔
کچھ آشفتہ سروں کی پیاس یہاں بھی نہیں بجھتی۔ اب وہ اگلا قدم رکھتے ہیں
محبت کی سیڑھی پر۔ اب ہر عمل کی علّت اور ہر کام کی حجت، محبت ہی ہوتی ہے
اور بڑا فرق ہے وہ نماز جو عقل سے پڑھی جائے اور وہ جو محبت سے ادا ہو اُس
میں۔ وہ سجدہ جو قرب کی نیت سے کیا جائے، اُس کے کیا کہنے۔ وہ قرآن جو حمد
کی نیت سے پڑھا جائے، وہ دعا جو پڑھنے والے کو فطری نظام سے نکال کر بندگی
میں لے جائے اور وہ نظر جو صرف تکتی جاوے اُس آس میں کب در کھلے، کب رسائی
ممکن ہو کب سنوائی ہو، کب وہ مل جائیں، کب وہ راضی ہوجائیں اور ایسے کہ پھر
نہ روٹھیں۔
بس آدمی کو محبت پر ہی رک جانا چاہئے، اُس سے اگلا قدم حقیقت ہے۔ یہاں
پہنچنے کی کوشش اپنے معنی بدل دیتی ہے۔ ہر لذت اپنا وجود کھو دیتی ہے۔ علم،
جہل اور جہل علم بن جاتا ہے۔ جاننا، نہ جاننے اور نہ جاننا، جاننے کے
برابر ہوجاتا ہے۔ آدمی ذات باری تعالی میں سفر کرتا ہے اور ہر گزرا دن، ہر
گزرا لمحہ سوائے پچھتائے جانے کے، کسی قابل نہیں رہتا۔ بندے کو فرق پتہ
لگتا ہے کہ خدا اور بندے میں کوئی موازنہ نہیں۔ وہ وہ ہے اور میں میں ہوں۔
وہ سب کچھ، میں کچھ نہیں۔ آدمیت اور اعمال کا شیرازہ بکھرنے لگتا ہے۔
اور آخری مرحلہ حیرت کا ہوتا ہے۔ یہاں پہنچنے والا کچھ بتانے کے قابل
نہیں رہتا۔ تنہائی عزیز ہوجاتی ہے، اپنی مرضی رب کائنات کی مرضی میں غائب
ہوجاتی ہے۔ عشق، محبت، بندگی سب پیچھے رہ جاتے ہیں۔ آنکھیں و دل خیرہ
ہوجاتے ہیں۔ کبھی ایسی نوازشیں ہوتی ہیں کہ دل پھٹ جاتا ہے اور بندہ مرجاتا
ہے۔
یہاں پہنچ کے سیکھ بانچھ ہوجاتی ہے۔ طلب فنا ہوجاتی ہے، پیاس تسکین
پالیتی ہے، دل ٹھہر جاتا ہے اور سوائے حیرت کے، کچھ باقی نہیں بچتا، خود
بندہ بھی۔
آدمی کی پوری زندگی اُن سیڑھیوں کو چڑھنے اُترنے میں پوری ہوجاتی ہے۔
کوئی قدرت سے عبرت پر گرتا ہے تو کوئی غفلت سے حیرت پر۔ فرق صرف وہاں پڑتا
ہے جہاں خاتمہ ہوجائے۔ جب موت کے فرشتے سرہانے آئیں کہ چلو، ہم تمہیں لینے
آئیں ہیں تب غور کرنا چائیے کہ آنسو کون سے نکلے؟ خوشی کے، حیرت کے؟ صدمے
کے؟ افسوس کے؟ محبت کے؟
غفلت کے؟ عبرت کے؟ یا بندگی کے؟
مصنف
ذیشان الحسن عثمانی
ذیشان الحسن عثمانی فل برائٹ اور آئزن ہاور فیلو اور متعدد کتابوں کے مصنف
ہیں۔ وہ کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور معاشرتی موضوعات پر
باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آج کل برکلے کیلی فورنیا، امریکہ میں ایک فرم میں
چیف ٹیکنالوجی آفیسر ہیں۔ آپ ان سے zusmani78@gmail.com
پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
Monday, 16 January 2017
Salsabeel : معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
Salsabeel : معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احادیث اور کتب فضائل میں آتا ہےکہ ابھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کو ابھی...
Tuesday, 10 January 2017
Salsabeel : درد دل کا مرض
Salsabeel : درد دل کا مرض: وہ ناشتہ کر رھی تھی. مگر اس کی نظر امی پر جمی ھوئی تھی. ادھر امی ذرا سی غافل ھوئی. ادھر اس نے ایک روٹی لپٹ کر اپنی پتلون کی جیب میں ...
درد دل کا مرض
وہ
ناشتہ کر رھی تھی. مگر اس کی نظر امی پر جمی ھوئی تھی. ادھر امی ذرا سی
غافل ھوئی. ادھر اس نے ایک روٹی لپٹ کر اپنی پتلون کی جیب میں ڈال لی. وہ
سمجھتی تھی کہ امی کو خبر نہیں ھوئی. مگر وہ یہ بات نہیں جانتی تھی کہ ماؤں
کو ہر بات کی خبر ھوتی ھے. وہ سکول جانے
کے لئے گھر سے باہر نکلی .اور پھر تعاقب شروع ھو گیا. تعاقب کرنے والا ایک
آدمی تھا. وہ اپنے تعاقب سے بے خبر کندھوں پر سکول بیگ لٹکائے اچھلتی کودتی
چلی جا رھی تھی. جب وہ سکول پہنچی تو,, دعا,,شروع ھو چکی تھی. وہ بھاگ کر
دعا میں شامل ھو گئی. بھاگنے کی وجہ سے روٹی سرک کر اس کی جیب میں سے باہر
جھانکنے لگی. اس کی سہیلیاں یہ منظر دیکھ کر مسکرانے لگیں. مگر وہ اپنا سر
جھکائے، آنکھیں بند کیے پورےانہماک سے جانے کس کے لئے دعا مانگ رھی تھی.
تعاقب کرنے والا اوٹ میں چھپا اس کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ھوئے تھا
.دعا کے بعد وہ اپنی کلاس میں آ گئی .باقی وقت پڑھنے لکھنے میں گزرا .مگر
اس نے روٹی نہیں کھائی. گھنٹی بجنے کے ساتھ ھی سکول سے چھٹی کا اعلان ھوا.
تمام بچے باہر کی طرف لپکے. اب وہ بھی اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئی. مگر اس
بار اس نے اپنا راستہ بدل لیا تھا. تعاقب کرنے والا اب بھی تعاقب جاری رکھے
ھوئے تھا .پھر اس نے دیکھا .وہ بچی ایک جھونپڑی کے سامنے رکی .جھونپڑی کے
باہر ایک بچہ منتظر نگاھوں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا. اس بچی نے اپنی
پتلون کی جیب میں سے روٹی نکال کر اس بچے کے حوالے کر دی. بچے کی آنکھیں
جگمگانے لگیں .اب وہ بے صبری سے نوالے چبا رہا تھا. بچی آگے بڑھ گئی. مگر
تعاقب کرنے والے کے پاؤں پتھر ھو چکے تھے.وہ آوازوں کی باز گشت سن رہا تھا.
,,لگتا ھے کہ اپنی,, منی,,بیمار ھے...,,
,,کیوں...کیا ھوا ...,,
,,اس کے پیٹ میں کیڑے ھیں...ناشتہ کرنے کے باوجود ایک روٹی اپنے ساتھ سکول لے کر جاتی ھے. وہ بھی چوری سے....,, یہ اس کی بیوی تھی.
,,کیا آپ کی بیٹی گھر سے کھانا کھا کر نہیں آتی...,,
,,کیوں...کیا ھوا....,,
,,روزانہ اس کی جیب میں ایک روٹی ھوتی ھے....,, یہ کلاس ٹیچر تھی..... وہ جب اپنے گھر میں داخل ھوا. تو اس کے کندھے جھکے ھوئے تھے.
,,ابو جی... ابو جی...,, کہتے ھوئے منی اس کی گود میں سوار ھو گئی.
,,کچھ پتا چلا...,, اس کی بیوی نے پوچھا.
,,ھاں....پیٹ میں کیڑا نہیں ھے. درد دل کا مرض ھے...,,ابو کا دل بھر آیا .منی کچھ سمجھ نہیں پائی تھی.
how to be happy
Recognize negative thoughts and burn them before they can take control
of your mind. Don’t be controlled by your emotions, instead you try to
control them and surround yourself with things, which make you feel
relaxed and happy.
Sunday, 1 January 2017
معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
احادیث اور کتب فضائل میں آتا ہےکہ ابھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی ولادت کو ابھی چند مہینےرہتےتھےکہ آپ کےوالد ماجد کا انتقال
ہوگیا۔ صحابہ سےمنقول ہےکہ ان کےانتقال کےموقع پر فرشتوں نےاللہ رب العزت
کےحضور عرض کیا کہ باری تعالیٰ تیرےمحبوب کی ولادت سےپہلےان کےوالد کا
انتقال ہوگیا ہےتو کیا تیرا محبوب یتیم ہوگا چونکہ جب نبی اکرمصلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کا نور آپ کےوالد حضرت
عبداللہ کی پشت مبارک سےآپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کےبطن مبارک میں منتقل
ہوا تو وہ رات جمعرات تھی اس رات آسمانوں اور جنت کو نور سےسجادیا گیا۔
غلمانوں، حوروں اور فرشتوں کو مبارک بادیں دی گئیں اور یہ آواز دی گئی کہ
مبار ک ہو آج وہ نور اقدس جس کی خاطر کائنات تخلیق کی گئی تھی وہ نور اپنی
والدہ ماجدہ کےبطن مبارک میں منتقل ہوگیا ہے۔ اب وہاں جسمانی وجود کی تشکیل
ہوگی اور نبی آخرالزماں دنیا میں تشریف لائیں گے۔ تمام ملائکہ حورو غلمان،
آسمانی اور جنتی مخلوق کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےتولد
سےکم و بیش آٹھ نو ماہ قبل اس نور کےمنتقل ہونےکی خبر ہوگئی۔
کچھ
عرصہ کےبعد جب آپ کےوالد ماجد کا انتقال ہوگیا اس وقت پھر ملائکہ نےسوال
کیا کہ باری تعالیٰ یہ محبوب جس کی خاطر تو نےساری کائنات بنائی ہےجس کےنور
منتقل ہونےپر مبارکبادیاں دی گئیں جنتیں سجائی گئیں کیا تیرا محبوب یتیم
ہوکر پیدا ہوگا؟ اللہ پاک نےجواب میں فرمایا میرامحبوب بےسہارا نہیں ہوگا
اس کا سہارا میں خود ہونگا اور میں خود اس کی پرورش کی نگہبانی کرنےوالا
ہونگا۔ حضور علیہ الصلوة والسلام کی ولادت باسعادت ہوئی تو والد کا انتقال
ہوچکا تھا پھر آپ کےبعد حضرت عبدالمطلب نےابتدائی پرورش فرمائی تھوڑی عمر
میں والدہ ماجدہ کا انتقال ہوگیا والدہ کےبعد دادا کا وصال ہوگیا پھر آپ
کےچچا حضرت ابوطالب نےنگہبانی کی ذمہ داری لی اور وہ آپ کی جوانی اور اعلان
نبوت کےبعد تک حیات رہےاس دوران بڑےبڑےمشکل دن، مشکل لمحےاور مشکل واقعات و
حالات آئے۔
جب آپ کی شادی ہوگئی تو گھریلو معاملات میں حضرت
خدیجة الکبری معاون ہوگئیں اور باہر کےمعاملات میں حضرت ابوطالب آپ کےمعاون
ہوگئےحضرت خدیجة الکبری نےاپنا مال و دولت، سرمایہ، کاروبار، تجارت سارا
کچھ آپ پر اور اسلام کےفروغ پر خرچ کردیا۔ حضور علیہ السلام ان سےمشورہ بھی
طلب فرماتےتھے، رائےبھی لیتےتھےجب آپ کی عمر مبارک ٨٤ برس کو پہنچی اور
بعثت جو بھءسات برس ہوئےتھےکہ مخالفت و عداوت شدت اختیار کر گئی اس سال آپ
کو اور آپ کےپورےخاندان کو ایک گھاٹی جو شعب ابی طالب کےنام سےمشہور ہےنظر
بند کردیا گیا۔ ناقہ بندی کردی گئی۔ کھانا پینا اور خوراک سب کچھ ختم
کردیا۔ خاندان نبوت کا سوشل بائیکاٹ کردیا گیا اور تین سال تک آپ کا پورا
خاندان اور آپ خود اس ظاہری انتہائی تکلیف سےدوچار رہا۔ تین سال تک اس قید
کی گھاٹی میں گزاری۔
اس کےبعد جب آپ باہر تشریف لائےتو آپ کی عمر
مبارک پچاس برس کی تھی اسی سال حضرت خدیجة الکبری کا وصال ہوگیا اور اسی
سال حضرت ابوطالب کا بھی وصال ہوگیا۔ تین سال کی قید و بند اور صعوبتیں،
بےپناہ مخالفت، بےپناہ مزاحمت، بےپناہ عداوت، بڑی سازشیں، بڑی رکاوٹیں،
ظاہری رشتوں کےناطےمیں جو لوگ معاون تھےوہ دنیا سےرخصت ہوگئےیہ آپ
کےلئےغموں سےبھرا ہوا سال تھا۔ اس لئےاس سال کو عام الحزن کہتےہیں یعنی غم
والا سال۔ وہ اللہ رب العزت نےفرمایا تھا کہ میرا محبوب بےسہارا نہیں اس کا
سہارا میں ہوں۔ حضور علیہ السلام پر جب یہ غم والا سال آیا تو نہ والدہ
ماجدہ نہ والد گرامی، نہ دادا، نہ چچا اور نہ زوجہ محترمہ تھیں جو صحابہ
کرام ایمان لاچکےتھےوہ بھی مصائب اور آلام کی زد میں تھے۔ جب غم و اندوہ کا
یہ سال آیا اس وقت اللہ رب العزت نےحضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا اور
حکم دیا۔ اےجبرائیل براق لےجاؤ اور دولہےکی طرح سجاکر میرےمحبوب کو لےآؤ
تاکہ میں مقام قاب قوسین پر تخلیہ میں آمنےسامنےبٹھا کر اپنا دیدار عطا
کروں تاکہ وہ مجھےدیکھےتو سارےغم بھول جائے۔
جب غم اندوہ
پریشانیاں انتہا تک پہنچتی ہیں پھر انسان کو ضرورت محسوس ہوتی ہےکہ کوئی
غموں کو بانٹنےوالا ہو کوئی دکھوں کا بوجھ اتارنےوالا ہو کوئی ایسا ہو جس
سےدلوں کےدکھ بیان کئےجائیں کچھ سنےاور کچھ سنائےاور بوجھ اتر جائےکوئی
جتنا ہی پیارا ہو اس قدر اس سےمل کر غم دور ہوتےہیں۔ پہلےتو یہ تھا کہ باہر
کفار پتھر مارتےتھے، تنگ کرتےتھے، برا بھلا کہتے، ظلم کرتے، مصیبتوں
کےپہاڑ ڈھاتےاور حضور علیہ السلام جب اس حالت میں گھر تشریف لاتےتو آگےحضرت
خدیجة الکبری محبت بھرےکلمات عرض کرتیں۔ کبھی چچا کےکلمات کان میںپڑتےکہ
ساری دنیا بھی میری دشمن ہوجائےاس کےباوجود میں آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔
خاص خاص وقتوں میں یہ کلمات کام آتےتھے۔ جب یہ سارےدنیا سےاٹھ گئےنہ حضرت
خدیجة الکبری رہیں جو کہ غموں کو بانٹتی۔ نہ چچا ابوطالب رہےکہ غموں کو
بانٹتےاور معاشرتی مقاطع کی وجہ سےحالات بہت ہی عجیب ہوگئے۔ جبکہ اللہ پاک
نےفرمایا تھا کہ اپنےمحبوب کا سہارا میں خود ہوں۔ غم و اندوہ میں اللہ رب
العزت نےفرمایا اےمحبوب اب کوئی ایسا نہیں جسےتو اپنےغم سنائے۔ اب تمہیں ہم
اپنےپاس بلاتےہیں۔ پھر درمیان سےسارےپردےہٹادیں گےاور قاب قوسین پر
تجھےبٹھائیں گے۔ تو ہمیں دیکھتا ہوگا اور ہم تجھےدیکھتےہونگے۔ تو ہمیں سنتا
ہوگا اورہم تمہیں سنتےہونگے۔ اس طرح وہ سارےغم غلط ہوجائیں گےبلکہ وہ ایسی
ملاقات ہوگی کہ محبوب جب تک تو اس دنیا میں رہےگا اس ملاقات کی یاد کبھی
بھولےگی نہیں اور آئندہ آنےوالےدنوں کےجو غم و دکھ ہونگےوہ یاد انہیں بھی
بھلاتی رہےگی حضور علیہ السلام حضرت ام ہانی یا صحن کعبہ میں یا اور مختلف
مقامات کا ذکر آیا ہےتشریف فرما تھے۔ حضرت جبرائیل امین سفید رنگ کا براق
لیکر حاضر ہوئےوہ نورانی جانور حضور علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا گیا۔
جبرائیل علیہ السلام نےحضور علیہ السلام کو قدموں مبارکوں کی طرف سےبلایا
آقا دو جہاںصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھ مبارک کھلی تو پوچھا جبرائیل
کیسےآئےہو عرض کیا اللہ نےیاد فرمایا ہےاور آپ کو لیجانےکےلئےسواری بھیجی
ہے۔ آپ دوستوں کو ملنےجاتےہیں دعوت بھی دیتےہیں اللہ پاک اس بات پر قادر
تھا اور قادر ہےکہ اپنی قدرت سےحضور علیہ السلام کو اپنےپاس بلالیتا۔ مگر
چونکہ غم دور کرنےتھے۔ اس دنیا سےبلانا تھا تو دنیا کی ایک روش ہےکہ بڑی
عزت اور اکرام کےلئےسواری بھیج کر بلایا جاتا ہے۔ اللہ پاک نےعالم نور کی
سب سےبلند ترین سواری بھیجی تاکہ پتہ چلےکہ محبوب کو بلایا ہے۔ یوں بھی
فرماسکتےتھےمحبوب آجا آج کی رات چند لمحوں کیلئےہمیں مل جا فرماسکتےتھے۔
محبوب کو سواری پر لیجانےپر قادر ہےوہ بغیر سواری کےبھی لیجانےپر قادر
ہےاور بغیر جبرائیل کےبھی قادر ہےجیسےسواری بھیجنےمیں مہمان کی ایک عزت
ہوتی ہےاسی طرح سواری کےساتھ ایک شخص بھیجنےمیں بھی عزت ہوتی ہے۔ جبرائیل
امین سےبہتر اللہ کی آسمانی مخلوق میں کوئی نہ تھا۔ بہترین فرد کو منتخب
کرکےحضور کی بارگاہ میں بھیجا۔
حضور علیہ السلام تیار ہوکر سواری
پر بیٹھےاور سب سےپہلےبیت المقدس گئےیہاں ایک جگہ تھی جہاں انبیاءعلیھم
السلام اپنی سواریوں کو باندھا کرتےتھےحضور علیہ الصلوة والسلام کی سواری
یہاں باندھی گئی اور وہاں حضور علیہ الصلوة والسلام نےدو رکعت نفل ادا
فرمائی۔ جب بیت المقدس میں سب انبیاءکی ارواح کو حکم ہوا کہ تم سب صف بہ صف
میرےمحبوب کا استقبال کرو حضور علیہ السلام نےجماعت کرائی انبیاءعلیھم
السلام نےحضور کےپیچھےنماز ادا فرمائی۔ بیت المقدس سےجب سفر شروع ہونےلگا
تو دنیا کی خوراک اور غذائیں بند ہوگئیں جنت کی نورانی غذائیں شروع ہوگئیں۔
اس دنیا میں جنتی خوراک کا کھانا اس امر پر دلالت کرتا ہےکہ حضور علیہ
الصلوة والسلام کا پیکر بشریت اس دنیا میں رہتےہوئےبھی جنتی اور نورانی
احوال کا مالک تھا۔ چاہتےتو دنیا کی خوراک کھاتےاس سےنورانیت کو کوئی فرق
نہیں پڑتا تھا اور چاہتےتو اسی دنیا میں عالم نورانیت کی خوراک کھاتےبشریت
مانع نہیں ہوتی تھی۔ بشریت نور سےاعلیٰ تھی اور نورانیت نور سےبھی اعلیٰ
تھی۔ آپ نےاس میں سےدودھ کو منتخب فرمایا اور پی لیا۔ حضور علیہ الصلوة
والسلام کا سفر شروع ہوگیا
پہلےآسمان دنیا پر پہنچےجبرائیل علیہ
السلام نےدروازہ کھٹکھٹایا۔ اسی لئےتو ساتھ بھیجا تھا کہ کسی جگہ بھی حضور
علیہ الصلوة والسلام کو دروازےکھٹکھٹانےکی ضرورت پیش نہ آئی۔ میرےمحبوب کو
آو از نہ دینی پڑے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نےدروازہ کھٹکھٹایا اندر
سےآواز آئی کون؟ حضرت جبرائیل نےفرمایا حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
تشریف لائےہیں۔
پہلےآسمان پر سیدنا حضرت آدم علیہ السلام
سےملاقات ہوئی انہوں نےحضور علیہ السلام کا استقبال کیا، دعائیں دیں،
پہلےآسمان کی سیر کرکےآگےپہنچی۔ دوسرےآسمان پر تشریف لےگئےوہاں پر حضرت
عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ بن زکریا علیھا السلام استقبال
کرنےکےلئےموجود تھےدوسرےآسمان کی سیر کےبعد حضور علیہ الصلوة والسلام کو
تیسرےآسمان پر پہنچایا گیا تیسرےآسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام سےملاقات
ہوئی پھر حضور علیہ السلام آگےتشریف لےگئےچوتھا آسمان کا دروازہ کھلا یہاں
حضرت ادریس علیہ السلام استقبال کےلئےموجود تھےپھر پانچویں آسمان پر سیدنا
حضرت ہارون علیہ السلام استقبال کےلئےموجود تھےپھر چھٹےآسمان پر حضرت سیدنا
موسیٰ علیہ السلام استقبال کیلئےموجود تھےساتویں آسمان پر حضرت سیدنا
ابراہیم علیہ السلام استقبال کیلئےموجود تھےپہلےآسمان پر آسمانی دنیا میں
داخل ہورہےتھےاس لئےوہاں حضرت آدم علیہ السلام تشریف فرما ہیں ساتواں آسمان
آسمانِ دنیا سےخروج تھا وہاں حضور علیہ السلام کےجد حضرت سیدنا ابراہیم
علیہ السلام موجود تھے۔ ساتویں آسمان سےبھی آگےگزرےاور سدرة المنتہیٰ اور
عرش معلی پر پہنچے۔ سارےآسمانی اور بالائی آسمان کےفرشتےجمع ہوگئےفرشتوں
نےعرض کیا مولا تیرا محبوب آرہا ہےکوئی ایسی سبیل کر کہ ہم سارےتیرےمحبوب
کا جلوہ کرلیں اللہ پاک نےفرمایا سدرة المنتہیٰ پر آجائو تو ملائکہ جمع
ہوگئےحضور علیہ السلام گزرےحکم ہوا سارےملائکہ کو کہ میرےمحبوب کا جلوہ
کرلو سدرة المنتہیٰ سےگزرتےہوئےحضور علیہ الصلوة والسلام کی زیارت ہوئی عرش
معلی پر پہنچےاس طرح جنتوں کی سیر کروائی گئی۔ عرش معلی پر جب پہنچےسدرة
المنتہیٰ تک حضرت جبرائیل امین نےساتھ دیا اس کےبعد عرض کیا حضور آگےمیں
نہیں جاسکتا آگےجو عالم ہےوہاں اللہ کی ذات کےخاص جلوےہیں اور میرےنور میں
اتنی طاقت نہیں کہ اس کےنور کےپرتو کو برداشت کرسکوں اب حضور تنہا اس کےبعد
آگےتشریف لےگئے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکان و لامکان پر
پہنچےتو خود اللہ رب العزت نےاستقبال کیا۔
ثم دنی فتدلی و کان قاب قوسین او ادنی۔
پھر فرمایا
قف یامحمد ان ربک یصلی۔
اب محبوب رک جا تیرا رب تجھ پر صلواة پڑھ کر تیرا استقبال کرتا ہےاپنی شان
کےلائق پھر اللہ پاک نےحضور کا استقبال کیا۔ اپنی بارگاہ میں بٹھایا قاب
قوسین پر حضور کو فائز کیا قاب قوسین پر فائز کےبعد دو کمانوں کا فاصلہ رہ
گیا۔ او ادنی پھر اس سےبھی قریب تر کرلیا اتنا قریب کردیا کہ فاصلوں کا
کوئی تصور نہ رہا اور نہ قربتوں کا کوئی تصور رہا اس طرح
سارےپردےاٹھالئےحضور علیہ السلام کی آنکھوں میں مازاغ البصر کا کجلا ڈالا
گیا اور بینائی دی گئی ماطغی اور قاب قوسین کےمقام پر بٹھادیا گیا پھر
پردےاٹھادیئےگئےفرمایا انہ ھو السمیع البصیر اب تیرےکانوں کو وہ سماعت دےدی
جس سماعت کا تصور دنیا والےتو کیا ملائکہ بھی نہیں کرسکتے۔ تیری آنکھوں کو
وہ نور بصارت دےدی گئی کہ دنیا والوں کی آنکھیں تو درکنار جبرائیل کی
بصارت بھی جس کا تصور نہیں کرسکتی۔ آج محبوب تیرےکان خاص کان ہیں تیری
آنکھیں خاص آنکھیں ہیں اپنےخاص کانوں سےاو ادنی کی منزل پر بیٹھ کر میری
باتیں سن اور اپنی خاص آنکھوں سےمیرےحسن کا جلوہ کر مجھےدیکھ اور مجھےسن
میں تجھےدیکھتا ہوں اور تمہیں سنتا ہوں نہ ہم دو کےسوا ہمیں کوئی سنےاور نہ
کوئی دیکھےاور پھر بتا کیا اب بھی کوئی غم رہ گئے۔ اس مقام پر اللہ رب
العزت نےارشاد فرمایا
”فاوحی الی عبدہ مآ اوحی“ پھر اس نےوحی کی
القاءکیا اپنےمحبوب کےدل میں جو چاہی۔ اب وہاں جو باتیں ہوئیں وہ نہ اس وقت
بتائی گئیں اور نہ بعد میں بتائی گئیں اور نہ آج تک کسی کو معلوم ہےہر
کوئی اندازےلگاتا پھرتا ہے۔ اس میں تھوڑی تھوڑی باتیں ہماری سکت کےمطابق
ہماری طاقت اور ہمت کےمطابق جو افشاءکردیں وہ دنیا والوں کو معلوم ہوگئیں
جو افشاءنہیں کیں اس کی کوئی خبر نہیں پھر حضور علیہ السلام کو اللہ
نےلامکاں سےگزارا اپنی صفات کےمختلف پردوں میں سےگزارا جس جس پر اس کی
روشنی آئی اس کا رنگ چڑھتا گیا حتی کہ اس مقام سےپلٹےتو اللہ کی صفات میں
رنگےجاچکےتھےاللہ کےرنگ میں رنگےجاچکےتھے۔ اللہ کےرنگ میں ظاہر بھی رنگا
جاچکا تھا اور باطن بھی رنگا جاچکا تھا۔ پورےرنگےگئےتھےواپسی پر نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےعرض کیا مولا اب میں واپس جارہا ہوں مگر یہ جو
لذت اور مزہ اس دیدار کا دیا ہے۔ وہاں ہر دن اس ملاقات کی یاد ستائےگی۔
اللہ رب العزت نےارشاد فرمایا: اےمحبوب! یہ معراج تو ہم نےدی ہےاب اس معراج
کا تحفہ تجھےدیتےہیں اور وہ تحفہ نماز ہےاسےلیجا جب ہماری اس ملاقات کی
یاد ستائےاللہ اکبر کہہ کر نماز میں داخل ہونا محبوب ہر نماز تیری شب معراج
بن جائےگی۔ الصلوة معراج المومنین لوگ صرف تیری ذات کےلئےنہیں بلکہ اس
سےتیری امت کو بھی کچھ حصہ عطا کرتےہیں عرض کیا مولا میں تو اپنی ہر دعا
میں امت کو بھی شریک کیا کرتا ہوں جب امت اس معراج کا تذکرہ سنےگی تو انہیں
بھی کچھ لذت آئےگی وہ بھی اپنا حصہ مانگیں گے۔ فرمایا اس نماز کو تیری امت
کےلئےبھی معراج بنادیتےہیں۔ پچاس نمازیں دےکر روانہ کردیا جب چھٹےآسمان پر
پہنچےسیدنا موسیٰ علیہ السلام نےپوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم اللہ نےکیا تحفہ دیا آپ نےفرمایا پچاس نمازیں اللہ نےمیری امت کو عطا
کی ہیں انہوں نےعرض کیا حضور آپ کی امت پچاس نمازیں نہیں پڑھ سکےگی۔ میری
درخواست یہ ہےآپ جو عرض کریں گےمانا جائےگا کچھ تخفیف کراکےجائیں۔ حضور
علیہ السلام کا دھیان اس نعمت پر تھا موسیٰ علیہ السلام کا دھیان ہماری
حالت پر تھا۔ حضور علیہ السلام اللہ کی درگاہ میں حاضر ہوئےاور عرض کیا
باری تعالیٰ امت شاید یہ بوجھ اٹھا نہ سکےکچھ تخفیف فرمادیں اللہ نےپانچ کم
کردیں پھر واپس آئےپھر عرض کیا حضور اور تخفیف کروائیں بار بار جاتےرہےحتی
کہ 45 نماز معاف ہوگئیں پانچ رہ گئیں حضور علیہ السلام واپس تشریف لائےتو
اللہ پاک نےآواز دی یہ پانچ نماز فرض بناکےبھیجتا ہوں مگر ثواب پچاس نمازوں
کا ہی دیتا رہوں گا۔ دوسرا محبوب یہ تحفہ بھی امت کےلئےلیجا کہ آپ کی امت
کےلوگ نیکی کا ارادہ کریں گےاس ارادےپر بھی ثواب لکھ دوں گا اور جب نیکی
کرلیں گےتو ایک کےبدلےمیں دس لکھوں گا جب کوئی برائی اور گناہ کا ارادہ
کریں گےتو کوئی گناہ نہیں لکھوں گا گناہ کرلیں گےتو صرف ایک لکھوں گا توبہ
کرلیں گےتو وہ بھی مٹادوں گا حضور تشریف لےآئےتو موسیٰ علیہ السلام نےکہا
یہ بھی کچھ زیادہ ہی لگتی ہیں ایک چکر اور لگا لیں فرمایا اب مجھےحیا آتی
ہے، مولا تو اب بھی انکار نہیں فرمائےگا مگر مجھےحیا آتی ہےحضور علیہ
السلام واپس تشریف لائےتحفہ لاکر ہمیں عطا کردیا جب رخصت ہوئےتھےتو اس وقت
غسل فرمایا تھا وہاں خدا جانےکتنی صدیاں بیت گئی ہیں کتنےسال ہمارےحساب
سےبیت گئےہونگے۔ یہاں اور وہاں کا حساب تو بڑا مختلف ہےخدا جانےکتنی مدتیں
بیت گئیں ہونگیں مگر واپس آئےجس پانی سےغسل کرکےتشریف لےگئےتھےاس کا پانی
ابھی بہہ رہا ہےبستر کی تپش موجود تھی اتنا جلد تشریف لےآئےحضرت عائشہ
صدیقہ فرماتی ہیں کہ حضور علیہ السلام تو خدا جانےوہاں کتنی مدتیں گزار
کےآئےمگر اس دنیا میں پلٹنےمیں اتنی جلدی محسوس ہوئی یوں لگا جیسےحضور علیہ
السلام تشریف ہی نہیں لےگئے۔ نماز کو ہمارےلئےمعراج بنادیا حدیث پاک میں
آتا ہےجب کبھی اس ملاقات کی یاد آتی جب بےچین اور روح اضطراب ہوتی اور اس
ملاقات کی تو حضرت بلال کو فرماتے۔ بلال آج ہماری روح میں تھوڑی بےچینی
ہےذرا ہمارےدل کو سکون دےدےتو وہ اذان کہتےحضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں
حضرت بلال اذان کہتےحضور علیہ السلام ہم سےگفتگو کررہےہوتےمگر اللہ اکبر کی
آواز بلند ہوتی اذان کےالفاظ آقا کےکان میں پڑتےتو او ادنی کےلمحےیاد
آجاتے۔ اذان کی آواز سنتےہی شب معراج کی تنہائیاں یاد آتیں اس طرح حالت
ہوجاتی کہ حضور ہمیں پہچاننا بھی چھوڑ دیتے۔
دو عالم سےکرتی ہےبیگانہ دل کو
عجب چیز ہےلذت آشنائی
ارےدوست کو دوست یاد آجائےساری دنیا کی شناسائی بھول جاتی ہےاور انسان
محبوب کو تکتا رہ جاتا ہےاورجب خلوت شب معراج مقام او ادنی کےبےنقاب جلوؤں
کی یاد آتی ہوگی پھر اللہ اکبر کی مٹھاس آقا کےکانوں میں پڑتی ہوگی اس وقت
تو دل دہل جاتےہونگےاور حسن الہٰی آگےسےبےنقاب ہوتا ہوگا پھر حضور کی
نگاہیں کسی کو کیوں پہچانتیں پھر نماز پڑھتےہر ایک کو بھول جاتےضرورت اس
امر کی ہےکہ معراج کےتذکرےسےحضور علیہ الصلوة والسلام کےلائےہوئےاس تحفہ کی
قدر دانی کریں اور آپ اگر مکہ مکرمہ جائیں تو آب زم زم لاتےہیں کھجوریں
لاتےہیں تحائف لاتےہیں کوئی لاکر آپ کو دےتو کیا آپ اس کو پھینک دیں گے۔ ہر
گز نہیں جس طرح ہمیں مدینہ بہت محترم ہےاسی طرح حضور کا مدینہ او ادنی
ہےحضور کا مدینہ قاب قوسین ہےآقا جب وہاں گئےتو ہمارےلئےبھی تحفہ لائےاور
وہ تحفہ نماز کا تھا اور تحفہ بھی ایسا دیا کہ اگر ہم پڑھیں تو تھوڑی تھوڑی
لذت اسی لمحےمل جائےمگر ہم نےقدر نہیں کی کتنی بےپرواہی کی کتنی بےادبی کی
تو آج کی رات یہ عہد کرنا چاہئےکہ حضور کا لایا ہوا تحفہ نماز ہےہم اس کی
قدر دانی کریں اس کو سینےسےلگائیں اور ہر نماز میں وہی کیفیت وہی لذت حاصل
کریں۔ اللہ پاک ہم پر کرم فرمائےرحم فرمائےاپنا خصوصی لطف وکرم فرمائے۔
آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
Sunday, 11 December 2016
میلاد النبی اور ھمارا عشق....
میلاد النبی اور ھمارا عشق....
ھمارے
اپنے نبی سے عشق کی مثال ان دودھ خوروں کی سی ھے جو نقلی مجنوں بن کر اصلی
مجنوں سے سارا دودھ پی جاتے تھے. قصه مختصر یوں ھے که مجنوں کو اس کے
علاقے والوں نے عشق کی وجه سے نکال دیا. لیلی کو پتا چلا که مجنوں جنگل میں
میرے عشق کی وجه سے اکیلا ره رھا ھے تو
اس نے خادمه کو ایک پیاله دودھ کا دے کر مجنوں کی طرف بھیجا. جب روز کا
معمول بن گیا اور علاقے والوں کو پتا چلا تو کئی لوگ مجنوں کے ساتھ جنگل
میں عین دودھ ملنے کے وقت بیٹھ جاتے اور لیلیٰ ليلىٰ کا ورد کرتے. ایک دفعه
نئی خادمه آئی تو اسے کئی مجنوں دیکھ کر حیرت بھی ھوئی اور پریشانی بھی که
اصلی مجنوں کون ھے؟؟ چنانچه اس نے ھر لیلیٰ کو پکارنے والے کو دودھ دے
دیا. چونکه دودھ کم تھا اور نقلی مجنوں زیاده تھے جو بڑھ بڑھ کر دودھ پینے
لپکتے تھے اسلئے اصلی مجنوں محروم ره جاتا. جب کئی دنوں تک یه معمول رھا تو
خادمه نے لیلیٰ کو سارا قصه سنا دیا. لیلیٰ نے کها که آج تم پیاله خالی لے
کر جانا اور کهنا که لیلیٰ زندگی اور موت کی کشمکش میں ھے. طبیب نے کها ھے
که ران کا ایک پیاله خون اس کی زندگی بچا سکتا ھے. جو خون دیگا وھی اصلی
مجنوں ھوگا. چنانچه جب خادمه آئی اور اس نے خون مانگا تو سارے دودھ والے
مجنوں پیچھے ھٹ گئے. کسی نے اس کو بتایا که وه دور درخت کے نیچے ایک مجنوں
بیٹھا ھے اس کے پاس چلی جاو. خادمه جب مجنوں کے پاس پهنچی اور لیلیٰ کے لئے
خون مانگا تو مجنوں نے سارے جسم کو چھری سے چھیلنا شروع کردیا. خادمه نے
کھا که صرف ران کا ایک پیاله چاھئے. مجنوں نے کها کیا پتا جسم کے کس حصه کے
خون کی ضرورت پڑ جائے؟؟
آج ھم وھی دودھ خور عاشق
ھیں. ھمارا عشق میلاد کا کیک کھانا , چوری کی بجلی سے چراغاں کرنا , گانوں
کی طرز پر بنی نعتوں پر جھومنا , میلاد کی خوشی میں "رام لیلا" کے چار چار
شوز کرنے تک محدود ھے. اس دین کو خون دینے والے عاشق صحابه کرام رضوان الله
علیهم اجمعین تھے جنھوں نے عشق کے دعوے نھیں کئے بلکه عملا خون دے کر
دکھایا. دعوے کی ضرورت تبھی پڑتی ھے جب عمل سے محبت کا پتا نه چلے. ابھی
اگر ان دودھ خور عاشقوں سے پوچھ لیا جائے که آج فجر کی نماز کس کس نے پڑھی
ھے تو عشق سامنے آجائے گا.
الله ھمیں
دودھ خور عاشقی سے بچائے اور صحیح معنوں میں اپنے حبیب صلی الله علیه وسلم
سے عملاً محبت کرنے والا بنائے. آمین.
Saturday, 10 December 2016
Wednesday, 30 November 2016
عورت اور پرده
مرد کے اندر عورت کی ترغیب فطری طور پر موجود ہے جب یہ ترغیب نیام سے نکل
کر تلوار بنتی ہے تو زندگی کی وادی میں ہزاروں عورتیں بے دریغ کچل دی جاتی
ہیں اسی لئے چوری ، چھپی کی آشنائی کا حکم نہیں ہے- یہ صرف عورت کا تحفظ ہے
کہ وہ اس ترغیب کے ہاتھوں روندی نہ جائے ، نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم ہے ،
عورت کی حفاظت کے لیے.......... حیا سے , پردے سے خدا کو تو کوئی فائدہ
نہیں پہنچتا .......... مرد بھی بیزار ہوتا ہے حیا دار عورت سے لیکن عورت
محفوظ رہتی ہے
اشفاق احمد من چلے کا سودا
آج یے تصویر میری آنکھون سے گزری تو مجبورن لکھنا پڑا
ﺟﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻣﺮﺩ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﯾﮧ ﮨﯽ ﻣﺮﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺐ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﯽ ﻣﺮﺩ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ آذﺍﻥ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﻔﻆ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺖ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﮩﺖ ہوﺱ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮦ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮑﯽ ہوﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺣﺎﺟﺮﮦ ﮐﯽ ﺳﻨﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺻﻔﺎ ﻭ ﻣﺮﻭﮦ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺳﻌﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺍﻧﺪﻟﺲ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﻘﺘﻮﻟﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 80 ﻓﯿﺼﺪ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺼﻤﺖ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺳﭻ ﮐﮩﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ہوس ﮐﮯ ﭘﺠﺎﺭﯼ ﮨﯿﮟ ۔ ﻭﮦ ﭼﺎﺭ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﮞ، ﺑﮩﻦ ، ﺑﯿﭩﯽ ، ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺤﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﺮﺩ ﻣﺮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ہوﺱ ﮐﺎ ﭘﺠﺎﺭﯼ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﻮ ﮐﮭﻼ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮈﮬﺎﻧﭗ ﮐﺮ ﻧﺎ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺘﮯ ﺑﻠﮯ ﺗﻮ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮨﯽ، ﺍﺏ ﻗﺼﻮﺭ ﺗﻮ ﮐﺘﮯ ﺑﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮯ ﻭﮦ ﮔﻮﺷﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮔﮭﺎﺱ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻗﺼﻮﺭ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﮨﯽ۔ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﮩﻦ، ﺑﯿﭩﯽ، ﺑﮩﻮ، ﺑﯿﻮﯼ ﺑﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻏﯿﺮﺕ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﻭﮐﻨﺎ ﭼﺎﺋﯿﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻣﺮﺩ ﺭﻭﮐﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﻨﮓ ﻧﻈﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻃﻌﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﮐﯽ ﺁﺯﺍﺩ ﺧﯿﺎﻝ ﻋﻮﺭﺕ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﺗﻮ ﮐﮭﻼ ﺭﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮯ ﮐﺘﻮﮞ ﺑﻠﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﯽ ﺩﺋﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ..
یہ پیغام میرا ان سب کے لئے ہے جو
کسی کی ماں بہن ہے........
آج یے تصویر میری آنکھون سے گزری تو مجبورن لکھنا پڑا
ﺟﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻣﺮﺩ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﯾﮧ ﮨﯽ ﻣﺮﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺐ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﯽ ﻣﺮﺩ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ آذﺍﻥ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﻔﻆ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺖ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﮩﺖ ہوﺱ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮦ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮑﯽ ہوﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺣﺎﺟﺮﮦ ﮐﯽ ﺳﻨﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺻﻔﺎ ﻭ ﻣﺮﻭﮦ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺳﻌﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺍﻧﺪﻟﺲ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﻘﺘﻮﻟﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 80 ﻓﯿﺼﺪ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺼﻤﺖ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺳﭻ ﮐﮩﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ہوس ﮐﮯ ﭘﺠﺎﺭﯼ ﮨﯿﮟ ۔ ﻭﮦ ﭼﺎﺭ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﮞ، ﺑﮩﻦ ، ﺑﯿﭩﯽ ، ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺤﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﺮﺩ ﻣﺮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ہوﺱ ﮐﺎ ﭘﺠﺎﺭﯼ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﻮ ﮐﮭﻼ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮈﮬﺎﻧﭗ ﮐﺮ ﻧﺎ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺘﮯ ﺑﻠﮯ ﺗﻮ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮨﯽ، ﺍﺏ ﻗﺼﻮﺭ ﺗﻮ ﮐﺘﮯ ﺑﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮯ ﻭﮦ ﮔﻮﺷﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮔﮭﺎﺱ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻗﺼﻮﺭ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﮨﯽ۔ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﮩﻦ، ﺑﯿﭩﯽ، ﺑﮩﻮ، ﺑﯿﻮﯼ ﺑﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻏﯿﺮﺕ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﻭﮐﻨﺎ ﭼﺎﺋﯿﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻣﺮﺩ ﺭﻭﮐﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﻨﮓ ﻧﻈﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻃﻌﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﮐﯽ ﺁﺯﺍﺩ ﺧﯿﺎﻝ ﻋﻮﺭﺕ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﺗﻮ ﮐﮭﻼ ﺭﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮯ ﮐﺘﻮﮞ ﺑﻠﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﯽ ﺩﺋﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ..
یہ پیغام میرا ان سب کے لئے ہے جو
کسی کی ماں بہن ہے........
Saturday, 19 November 2016
پانامہ لیکس اور سپرم کورٹ
پانامہ
لیکس میں انکشاف کیا گیا کہ کیسے حکمرانوں نے اپنی اپنی قوم کی عزت لوٹی۔
جو غیرتمند قومیں تھیں وہ فوراً سڑکوں پر آئیں اور آئس لینڈ کے وزیراعظم سے
لے فرانس میں ایک عام بزنس مین تک، جس نے ٹیکس چوری کی، اسے جواب دینا
پڑا۔
پاکستان میں لیکن حساب الٹا ھے۔
یہاں ہماری قوم کی عزت تو لٹی لیکن یہ تسلی بخش بے غیرت بن کر بیٹھی رہی۔
عمران خان کی غیرت نے گوارا نہ کیا تو وہ اپنے حامی لے کر سڑکوں پر نکل آیا
تاکہ تاریخ اس قوم کو مکمل بے غیرت کے طور پر یاد نہ کرے۔ 7 مہینے کی
لگاتار جدوجہد اور احتجاج کے بعد خان صاحب نے سپرم کورٹ کو معاملات اپنے
ہاتھ میں لینے پر مجبور کردیا۔
اب سپیرم کورٹ میں
عمران خان کے علاوہ تمام لوگ بشمول جج، ن لیگ سمیت دوسری پارٹیاں اور ان کی
حامی عوام بڑی تسلی سے یہ جاننے کی کوشش کررھے ہیں کہ
نوازشریف نے قوم کی عزت لوٹنے سے پہلے کیا اس کے کپڑے پھاڑے؟ اگر پھاڑے تو ان کی ٹاکیاں کہاں گئیں؟
نوازشریف
جب اس قوم کی عزت لوٹ رہا تھا تو کیا قوم کو درد ہوئی؟ اگر ہوئی تو اس نے
چیخیں ماریں یا سسکیاں بھریں؟ اگر درد نہیں ہوئی تو کیا قوم کو مزہ آرہا
تھا؟
نوازشریف نے اس قوم کی عزت فرش پر لوٹی یا بستر پر؟
معزز
جج صاحبان سے دست بستہ گزارش ھے کہ آپ سمیت اس پوری قوم کی عزت شریف فیملی
لوٹ چکی ھے۔ بجائے اس کے کہ آپ عزت لوٹنے کی فلم ریوائنڈ کرکے دیکھیں اور
مزے لیں، آپ وہ ایکشن کیون نہیں لیتے جو دوسری غیرتمند اقوام نے پانامہ
لیکس آنے پر لیا؟
کیا ایسا تو نہیں کہ یہ پوری قوم عزت
لٹوانے کی عادی ہوچکی ھے اور اب ایک طوائف کی طرح معمولی رقم پر بھی اپنے
آپ کو پیسے والوں کے بستر کی زینت بنا لیتی ھے؟
قصور
حامد خان کا نہیں، قصور ججوں کا ھے جو نیب اور ایف آئی اے سے ثبوت نکلوانے
میں ناکام نظر آرھے ہیں۔ ویسے تو پانامہ رپورٹ بذات خود بھی ایک ثبوت ھی
ھے، لیکن طوائفوں کو یہ ثبوت نظر نہیں آسکتے!
Wednesday, 26 October 2016
ہمارا میڈیا بےغیرت
ٹاﺋﭩﯿﻨﮏ ﭘﺮ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ 2230 ﻟﻮﮒ ﺳﻮﺍﺭ ﺗﮭﮯ،ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 706 ﺑﭽﺎ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ 1500 ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔۔۔ !!
ﻓﻠﻢ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺳﺎﺭﮮ ﮈﻭﺏ ﮐﺮ ﻣﺮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﮨﯿﺮﻭ ﭼﻨﺪ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺮﺩﯼ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﺳﮯ ﻣﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮈﻭﺏ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔ !! ﯾﮧ ﻓﻠﻢ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮨﯿﮟ۔
ﺟﺲ
ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﻓﻠﻢ ﺩﯾﮑﮭﯽ، ﮈﻭﺑﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺑﭽﻮﮞ ﺍﻭﺭﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ
ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ . ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﺑﮍﯼ
ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﺳﮯ ﮈﻭﺑﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺮﮮ . ﯾﮧ ﻓﻠﻢ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺗﻤﻨﺎ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺑﺲ
ﮨﯿﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﮨﯿﺮﻭﺋﻦ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﭻ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔
ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭼﻮﺭ، ﺷﺮﺍﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﺑﺎﺯ ﮨﯿﺮﻭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﻠﻢ
ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺏ ﮐﺮ ﻣﺮﻧﮯ
ﻭﺍﻟﮯ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺑﭽﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﻠﻢ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﺨﺺ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ
ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ . ﺑﻠﮑﮧ ﺩﻝ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ ﮨﯿﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﮨﯿﺮﻭﺋﻦ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﯽ ﻓﻮﮐﺲ
ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟؟
.ﺟﻮﺍﺏ :
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ
ﭘﺮﻭﮈﯾﻮ ﺳﺮ ﮐﺎ ﻓﻮﮐﺲ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﺟﮧ ﺍﺱ ﮨﯿﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﮨﯿﺮﻭﺋﻦ ﭘﺮ ﮨﮯ . ﮐﯿﻤﺮﮦ ﮔﮭﻮﻣﺎ ﭘﮭﺮﺍ
ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯽ ﮐﻮ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ . ﮈﺍﺋﯿﻼﮒ ﺍﻧﮩﯽ ﮐﮯ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ . ﮔﻮﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺸﺘﯽ
ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺩﻭ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﯿﮟ . ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻓﻠﻢ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺑﮭﺮ
ﭘﻮﺭ ﺗﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ،ﺍﻥ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺑﭽﻮﮞ، ﺑﻮﮌﮬﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ
ﺧﺎﻃﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻻﺗﺎ۔
ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﮉﯾﺎ
ﺷﺎﻡ، ﻋﺮﺍﻕ، ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ، ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ، ﮐﺸﻤﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﻣﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺭﮮ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺟﺒﮑﮧ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﺷﺘﮯ، ﺳﯿﺎﮦ ﮐﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ
ﻣﺬﺍﮐﺮﺍﺕ، ﺑﺪﮐﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺍﺟﻼﺱ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﮐﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﺷﮯ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﻣﺮﮐﻮﺯ ﮨﮯ
Saturday, 15 October 2016
Can Garlic Keep You Cold-Free?
Can Garlic Keep You Cold-Free?
During the chilly fall and winter months, many people turn to garlic to prevent colds. A culinary herb available in supplement form, garlic is rich in allicin, a compound found to stimulate the immune system in lab research. Although few studies have examined garlic's effects on the human immune system, some research suggests that garlic may help protect against colds when taken regularly.
Research on Garlic for Colds
For a research review published in 2009, scientists sought out clinical trials testing garlic's potential role in cold prevention and treatment.Only one study met the review's criteria for inclusion -- a 2001 trial involving 146 volunteers who took either a garlic supplement or a placebo for 12 weeks.The trial's results revealed that participants given garlic supplements had significantly fewer colds and recovered faster when infected (compared to members of the placebo group). Analyzing the trial's findings, the review's authors concluded that garlic "may prevent occurrences of the common cold, but more studies are needed to validate this finding."
Safety Concerns
Garlic may cause certain side effects (such as bad breath, body odor, and indigestion).
Since
garlic may produce blood-thinning effects, it's important to avoid
garlic supplements if you're taking blood-thinning medications or using
supplements thought to affect blood-clotting (such as ginkgo biloba and vitamin E). Garlic supplements should also be avoided prior to undergoing surgery.
It's important to keep in mind that supplements haven't
been tested for safety and dietary supplements are largely unregulated.
In some cases, the product may deliver doses that differ from the
specified amount for each herb. In other cases, the product may be
contaminated with other substances such as metals.
Also, the safety of supplements
in pregnant women, nursing mothers, children, and those with medical
conditions or who are taking medications has not been established. You
can get further tips on using supplements here.Using Garlic for Colds
Given the lack of scientific support for garlic's cold-fighting benefits, garlic supplements cannot currently be recommended for cold prevention or treatment. If you're looking to ward off the common cold, wash your hands frequently and avoid close contact with people who have colds. Following a balanced diet, exercising regularly, getting sufficient sleep, and managing your stress may also help boost your immune system and cut your cold risk.If you're considering the use of garlic supplements for colds (or any other health condition), make sure to consult your physician before starting your supplement regimen. Self-treating and avoiding or delaying standard care can have serious consequences.
Tuesday, 11 October 2016
امرود کا پودا جس کے پتے دیکھتے ہی دیکھتے گنجے پن کا علاج کرکے آپ کے بالوں کو پھر سے گھنا بناسکتے ہیں
Saturday, 1 October 2016
Why top fashion models never smile
PARIS – They wear the world’s most beautiful and expensive
clothes yet their faces are the picture of blank boredom. Why do fashion
models always look so miserable? “You don’t smile. It is just not
done,” said model Ty Ogunkoya as catwalk stars criss-crossed Paris for
fashion week.
In his decade as a top model, the 26-year-old Nigerian-born Londoner has never once permitted himself a grin. “I have modelled for everyone, and no one has ever asked me to smile,” he told AFP. “To be honest, it would feel weird if I did.” “When I walk I think about something sad, like when my cat died,” added Klara, a 18-year-old Slovakian model. “It was run over by a bus.”
But do models really need to be so glum? “Never forget it is the clothes they are looking at and not you,” Victoire Macon Dauxerre, a former model for Celine and Alexander McQueen, said she was told. In her book, “Never Thin Enough”, she tells how she was warned to “never, ever smile”. – ‘It’s so not done’
Her modelling agency’s catwalk coach taught her how to get the perfect “haughty killer look” by slightly dropping her chin and lifting her eyes at the same time. Rising young star Matthieu Villot told AFP the reason for the unspoken ban on smiling was clear.
“They want to show the clothes and not our faces. If we smile we focus attention on our faces and not the clothes,” said the 22-year-old medical student. Ogunkoya said he had been never told not to smile but “my whole preconception of modelling was moody guys and girls going down the runway… It is so not done they don’t have to say.”
Fashion historian Lydia Kamitsis said it was not always so. The vogue for expressionless models is actually very recent, she said, dating from the rise of the Japanese designers Yohji Yamamoto and Commes des Garcon in the early 1980s.
“This was also the period of the supermodels (Cindy Crawford, Imam and Elle Macpherson) who very much had their own personalties, and it was a reaction against this,” she said. “In the 1960s, when collections were first presented as shows, models often smiled, laughed and even danced to music. – Walking clothes hangers.
“Now they are seen as walking clothes hangers. It’s all about effacing their personality… the clothes are it.” Anthropologist Leyla Neri, the director of fashion at the New School Parsons Paris, agreed. She dates the first appearance of moody, often scowling models to Brigitte Bardot and Jane Birkin in the 1960s.
It then sped up with the rise feminism and “women’s need to be taken seriously in their professional lives, so you see women striking strong, unsmiling poses in Armani suits. “Men have never smiled on the catwalk because they never have had to smile to please,” Neri insisted.
“In the 1950s models smiled all the time, in fact they were kind of living dolls,” she added. “With emancipation and designers like Yves Saint Laurent you get more a androgynous look, and women became more masculine and powerful.” Contemporary designers have an “even more minimalist vision”, Neri argued.
“They want the most neutral faces and bodies possible to show their work. “They do not see their models as an ideal of beauty any longer. That is something that the public has not quite understood.” Every few years, however, iconoclasts like French designer Jean Paul Gaultier send models out smiling.
Indian creator Manish Arora also cheers things up by casting his bohemian friends. And several models ended up beaming through British designer Paul Smith’s last Paris menswear show. “I didn’t tell them to smile,” he told AFP afterwards. “I have nothing against smiling. If the clothes make them happy, go for it,” he said.
Villot, who took part in that show but didn’t dare a smile, said models are often afraid to look too happy in case they end up looking ridiculous. “The serious face you can do every time, but if you smile you don’t know how you are going to look.”
Ogunkoya agreed. “It’s easier to just walk and zone out. Smiling is definitely more of a challenge.” But would he smile if asked? “Why not? You get asked to do the most random things in this job.
In his decade as a top model, the 26-year-old Nigerian-born Londoner has never once permitted himself a grin. “I have modelled for everyone, and no one has ever asked me to smile,” he told AFP. “To be honest, it would feel weird if I did.” “When I walk I think about something sad, like when my cat died,” added Klara, a 18-year-old Slovakian model. “It was run over by a bus.”
But do models really need to be so glum? “Never forget it is the clothes they are looking at and not you,” Victoire Macon Dauxerre, a former model for Celine and Alexander McQueen, said she was told. In her book, “Never Thin Enough”, she tells how she was warned to “never, ever smile”. – ‘It’s so not done’
Her modelling agency’s catwalk coach taught her how to get the perfect “haughty killer look” by slightly dropping her chin and lifting her eyes at the same time. Rising young star Matthieu Villot told AFP the reason for the unspoken ban on smiling was clear.
“They want to show the clothes and not our faces. If we smile we focus attention on our faces and not the clothes,” said the 22-year-old medical student. Ogunkoya said he had been never told not to smile but “my whole preconception of modelling was moody guys and girls going down the runway… It is so not done they don’t have to say.”
Fashion historian Lydia Kamitsis said it was not always so. The vogue for expressionless models is actually very recent, she said, dating from the rise of the Japanese designers Yohji Yamamoto and Commes des Garcon in the early 1980s.
“This was also the period of the supermodels (Cindy Crawford, Imam and Elle Macpherson) who very much had their own personalties, and it was a reaction against this,” she said. “In the 1960s, when collections were first presented as shows, models often smiled, laughed and even danced to music. – Walking clothes hangers.
“Now they are seen as walking clothes hangers. It’s all about effacing their personality… the clothes are it.” Anthropologist Leyla Neri, the director of fashion at the New School Parsons Paris, agreed. She dates the first appearance of moody, often scowling models to Brigitte Bardot and Jane Birkin in the 1960s.
It then sped up with the rise feminism and “women’s need to be taken seriously in their professional lives, so you see women striking strong, unsmiling poses in Armani suits. “Men have never smiled on the catwalk because they never have had to smile to please,” Neri insisted.
“In the 1950s models smiled all the time, in fact they were kind of living dolls,” she added. “With emancipation and designers like Yves Saint Laurent you get more a androgynous look, and women became more masculine and powerful.” Contemporary designers have an “even more minimalist vision”, Neri argued.
“They want the most neutral faces and bodies possible to show their work. “They do not see their models as an ideal of beauty any longer. That is something that the public has not quite understood.” Every few years, however, iconoclasts like French designer Jean Paul Gaultier send models out smiling.
Indian creator Manish Arora also cheers things up by casting his bohemian friends. And several models ended up beaming through British designer Paul Smith’s last Paris menswear show. “I didn’t tell them to smile,” he told AFP afterwards. “I have nothing against smiling. If the clothes make them happy, go for it,” he said.
Villot, who took part in that show but didn’t dare a smile, said models are often afraid to look too happy in case they end up looking ridiculous. “The serious face you can do every time, but if you smile you don’t know how you are going to look.”
Ogunkoya agreed. “It’s easier to just walk and zone out. Smiling is definitely more of a challenge.” But would he smile if asked? “Why not? You get asked to do the most random things in this job.
Subscribe to:
Posts (Atom)





