Sunday, 15 April 2018

پردہ عورت کے جسم کا محافظ اور داڑھی والا ٹیکسی ڈرائیور

آفس بوائے فائلز کا کارٹن باہر لا کر رکھ کے نکل گیا - اور وہ سخت دھوپ میں اکیلی کھڑی ہوگئ ٹیکسی کے انتظار میں۔
پاس سے گزرتی ٹیکسی کو اس نے روکا ۔
جی میڈم ۔ اندر سے ایک داڑھی والا ڈرائیور بولا
اس نے سوچا کہ ٹیکسی والا تو ایک مولوی ہے اسے کہ دیتی ہوں کہ جائیے صاحب لیکن آفس ایک سائیڈ پہ ہونے کی وجہ سے کم ہی ٹیکسی والے ادھر سے گزرتے ۔
اور اوپر سے گرمی نے برا حال کیا ہوا تھا اور کوئی راستہ نہ تھا ۔اس نے ڈرائیور سے بولا G9 جانا ہے
ڈائیور.. جی بیٹھیے
کتنے پیسے؟؟ 200 دے دیجئے
دل میں خیال آیا اس دن تو 3 سو دے کر گئی تھی.
مولوی ہے.. سر تو کہتے ہیں مولوی بہت لالچی ہوتے ہیں ارے سر یہ بھی تو کہتے ہیں ہوس کے مارے ہوتے ہیں بھروسے کے قابل نہیں یہ مولوی۔۔
ایک بار تو وہ ڈر گئی لیکن تیز دھوپ اسے زیادہ سوچنے نہیں دے رہی تھی
ڈرائیور... میڈم چلیں بیٹھیں 180 دے دیجئے گا
جی صحیح لیکن سامنے میری فائلز کا کارٹن ہے وزنی ہے اٹھایا نہیں جارہا آپ۔
جی میں رکھ دیتا ہوں آپ بیٹھیے۔
گاڑی چلتے ہی ڈرائیور نے اجازت چاہی دراصل میں بیان سن رہا تھا
آپ کو برا نہ لگے تو چلا دوں؟؟؟
جی آپ سن لیں
ڈرائیور نے پلئیر آن کیا
عنوان تھا
پردہ
نہ چاہتے ہوئے بھی اسے سننا پڑ رہا تھا
لبرلز اور ملحدوں کی محفل اور دوستی میں رہ کر اسے صرف اسلام سے نفرت ہی دلائی گئی تھی
مولوی ایک خونخوار بھیڑیا کا سا روپ دکھایا گیا تھا
جس کا مقصد، مال ہوس، لالچ، عورت کا جسم کے سوا کچھ نہ تھا
مذہب کے نام پہ مال کھانا اس کا پیشہ تھا۔
آڈیو پلیئر میں
مولوی صاحب زور دار آواز میں گرجے.. پردہ اللہ کا حکم ہے ایک عورت کے جسم کا محافظ ہے
اس کے چہرے سے لے کر جسم کے اعضاء ہاتھ پیر تک کو ڈھانپ کر وہ اسے ہزاروں کے مجمع میں بھی محفوظ ہونے کا یقین دلاتا ہے
پردہ عورت کو شیطانی نظروں سے بچاتا ہے
دیکھنے والے آنکھیں موڑ لیتے ہیں کہ کوئی شریف زادی ہے
رب کا قرآن کہتا ہے
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا
اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں ۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے
پردہ عورت کی عفت ہے سلامتی کا ضامن ہے اس کی پاکدامنی کی ظاہری علامت ہے پردے میں ہی اس کی عزت ہے
لیکن بے پردہ کی مثال اس کھلے گوشت کی سی ہے جس پہ ہر ایک مکھی بیٹھ کر اپنا گند نکالتی ہے
ہر ایک اسے کھانے کی نگاہ سے گھورتا ہے
ہر آنکھ اسے کھانے لوٹنے کی نظر سے دیکھتی ہے
آہ اسے لگ رہا تھا کہ جیسے سب الفاظ اسی پہ ہوں
اس کا آفس سے آنے جانے پہ راستے میں کھڑے ہر لفنگے کی نظر اس پہ ہوتی تھی
اسے ایسا لگ رہا تھا اس کی اس مشکل کا واحد حل یہی ہے لیکن پردہ اور وہ کرے جس کے نزدیک پردہ ظلم تھا دقیانوسی تھی
انہی سوچوں میں اس کی بتائی گلی میں ٹیکسی پہنچ چکی تھی
ٹیکسی سے اترتے ہوئے وہ کہ رہی تھی سامان پلیز باہر رکھ دیں
اور کال کی مما سنی کو بھیجیں کچھ فائلز ہیں ویٹ زیادہ ہے اوپر لے کر جانی ہیں۔
کیا سنی گھر پہ نہیں!!
اوہ گاڈ
ڈرائیور... میڈم چلئے میں چھوڑ دیتا ہوں
اس کے ذہن میں پہلی ہی سوچ آئی ممکن ہے پیسوں کے لالچ میں ایسا کہ رہا ہو
چلو کچھ مانگا تو دے دونگی
جی بہتر
ڈرائیور ایک فلور چڑھ کر اس کے کہنے پہ ایک فلیٹ کے سامنے رکا بس یہاں رکھ دیجئے
اور ساتھ ہی تین سو روپے نکال کر دیئے۔۔۔
ڈرائیور۔۔ یہ تین سو کس لئے
دراصل کچھ پہلے میں ائی تھی تو 300 ہی لیتے ہیں
اور آپ نے سامان بھی تو لایا اگر اس کے آپ الگ سے لینا چاہیں تو بتائیں۔
ڈرائیور نہیں بہن آپ اپنے یہ پیسے رکھیے جو بات ہوئی تھی میں اس سے زیادہ نہیں لے سکتا باقی سامان کی بات تو ہمارا دین ہمیں دوسرے مسلمانوں سے ہمدردی کا درس دیتا ہے اور اسی تحت میں نے سامان لایا ہے۔
جاتے ہوئے اسکے منہ سے نکل گیا۔
کیا آپ مولوی ہیں
وہ مڑا مسکرایا
اور کہنے لگا ممکن ہے مولوی کے بارے میں آپ کو غلط گائیڈ کیا گیا ہے
میں مولوی عالم ،حافظ تو نہیں
لیکن ان سے محبت کرنے والا ہوں
آپ بھی مولیوں کو سنیے پڑھیے اور تحقیق کیجئے ان شاء اللہ آپ کو بھی یہ مولوی مخلوق بری نہیں لگے گی۔

Sunday, 8 April 2018

دشمنوں کے سٹریٹجک مفادات کی نگران تحریکیں ۔۔۔۔۔۔

دشمنوں کے سٹریٹجک مفادات کی نگران تحریکیں ۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں امریکہ، انڈیا، اسرائیل اور افغانستان کی مشترکہ پراکسی کو پاک فوج کے ہاتھوں ہونے والی شکست کو دوبارہ فتح میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے؟؟؟
چلیں ایک منٹ کے لیے پاکستان دشمن بن کر سوچتے ہیں۔ میرے خیال میں ۔۔۔
1۔ پاکستان کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک فوج کے خلاف کیا جائے۔ بلکہ ہوسکے تو لوگوں میں فوج سے ٹکراؤ کی کیفیت پیدا کی جائے۔
2۔ افغان سرحد پر تعمیر ہونے والی باڑ کو ہر صورت روکا جائے۔
3۔ افغانیوں کی واپسی کا عمل روکا جائے۔
4۔ سرحدی علاقوں میں فوجی چیک پوسٹوں کی تعداد کم یا ختم کی جائے تاکہ دہشت گردوں اور جاسوسوں کے لیے نقل و حرکت میں آسانی ہو۔
5۔ احسان اللہ احسان کو سزا جبکہ کل بھوشن کو رہا کرایا جائے۔ کیونکہ دونوں انڈیا اور افغانستان کے پول کھول رہے ہیں۔
6۔ فوج کا مورال گرانے کے لیے ان کے خلاف مختلف طرح کی قانونی کاروائیاں کی جائیں۔
اگر یہ سب ہو تو پاکستان میں ہاری ہوئی پراکسی کو دوبارہ جیتا جا سکتا ہے۔
اب آپ اسے محض اتفاق کہیں گے کہ "پشتین تحریک" کا ایجنڈا پاکستان دشمنوں کے سٹریٹیجک مفادات کے عین مطابق ہے مثلاًً ۔۔
1۔ یہ تحریک پاک فوج بلکہ اب پاکستان کے خلاف بھی پشتونوں میں نفرت پھیلا رہی ہے۔
2۔ منظور پشتین نے ایک بار بھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگائی جائے تاکہ وہاں سے دہشت گرد پشتون علاقوں میں داخل نہ ہو سکیں۔ الٹا اس کے ساتھی باڑ کی مخالفت کر رہے ہیں۔
3۔ منظور پشتین نے ایک بار بھی افغانیوں کی وطن واپسی کا مطالبہ نہیں کیا۔ البتہ اس کے ساتھی اس کی مخالفت ضرور کر رہے ہیں۔
4۔ چیکنگ کو تذلیل کا نام دے کر چیک پوسٹوں کے خلاف عوام کو ابھارا جا رہا ہے۔
5۔ آج جلسے میں یہ بھی اعلان فرمایا کہ ہمارے اگلے مطالبات احسان اللہ احسان کی پھانسی اور پرویز مشرف کو سزا دینے کے ہونگے۔ لیکن کل بھوشن کا نام بھول کر بھی نہیں لیا۔ نہ کبھی وزیرستان کی سرحد پر موجود ان انڈین کونسل خانوں کے بارے میں سوال اٹھایا جہاں سے پشتونوں کے قاتل بھیجے جاتے تھے۔
6۔ بلوچستان میں ناکام ہونے والا مسنگ پرسنز کا کھیل اب فاٹا میں شروع کر دیا ہے۔
کچھ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ منظور مخلص ہے۔ مخلص تو خودکش حملہ کرنے والا بھی ہوتا ہے اور یقیناً منظور پشتین سے زیادہ مخلص ہوتا ہے کیونکہ وہ یقینی طور پر اپنی زندگی قربان کرتا ہے لیکن پھر بھی اس کو دہشت گرد کہا جاتا ہے کیوں؟؟
کیونکہ اس کو استعمال کرنے والوں کی نیت ٹھیک نہیں ہوتی اور اسکا عمل باعث فساد ہوتا ہے۔
یہی حال منظور کا بھی ہے۔ منظور کو استعمال کرنے والوں کی نیت ٹھیک نہیں اور منظور کے پی کے اور فاٹا میں دوبارہ فساد برپا کرنا چاہتا ہے۔ البتہ منظور خود کش حملہ کرنے والوں جتنا سادہ نہیں!
مارکسسٹ سرخوں کی علامات استعمال کرنے والا، لوگوں کو راغب کرنے کے لیے جوان لڑکیاں استعمال کرنے والا، یہ فسادی گروہ پشتونوں کی جان کے ساتھ ساتھ ان کے ایمان اور غیرت کا بھی دشمن ہے۔ یاد رکھنا!!!
تحریر شاہدخان

PTM or AITM

دشمنوں کے سٹریٹجک مفادات کی نگران تحریکیں ۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں امریکہ، انڈیا، اسرائیل اور افغانستان کی مشترکہ پراکسی کو پاک فوج کے ہاتھوں ہونے والی شکست کو دوبارہ فتح میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے؟؟؟
چلیں ایک منٹ کے لیے پاکستان دشمن بن کر سوچتے ہیں۔ میرے خیال میں ۔۔۔
1۔ پاکستان کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک فوج کے خلاف کیا جائے۔ بلکہ ہوسکے تو لوگوں میں فوج سے ٹکراؤ کی کیفیت پیدا کی جائے۔
2۔ افغان سرحد پر تعمیر ہونے والی باڑ کو ہر صورت روکا جائے۔
3۔ افغانیوں کی واپسی کا عمل روکا جائے۔
4۔ سرحدی علاقوں میں فوجی چیک پوسٹوں کی تعداد کم یا ختم کی جائے تاکہ دہشت گردوں اور جاسوسوں کے لیے نقل و حرکت میں آسانی ہو۔
5۔ احسان اللہ احسان کو سزا جبکہ کل بھوشن کو رہا کرایا جائے۔ کیونکہ دونوں انڈیا اور افغانستان کے پول کھول رہے ہیں۔
6۔ فوج کا مورال گرانے کے لیے ان کے خلاف مختلف طرح کی قانونی کاروائیاں کی جائیں۔
اگر یہ سب ہو تو پاکستان میں ہاری ہوئی پراکسی کو دوبارہ جیتا جا سکتا ہے۔
اب آپ اسے محض اتفاق کہیں گے کہ "پشتین تحریک" کا ایجنڈا پاکستان دشمنوں کے سٹریٹیجک مفادات کے عین مطابق ہے مثلاًً ۔۔
1۔ یہ تحریک پاک فوج بلکہ اب پاکستان کے خلاف بھی پشتونوں میں نفرت پھیلا رہی ہے۔
2۔ منظور پشتین نے ایک بار بھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگائی جائے تاکہ وہاں سے دہشت گرد پشتون علاقوں میں داخل نہ ہو سکیں۔ الٹا اس کے ساتھی باڑ کی مخالفت کر رہے ہیں۔
3۔ منظور پشتین نے ایک بار بھی افغانیوں کی وطن واپسی کا مطالبہ نہیں کیا۔ البتہ اس کے ساتھی اس کی مخالفت ضرور کر رہے ہیں۔
4۔ چیکنگ کو تذلیل کا نام دے کر چیک پوسٹوں کے خلاف عوام کو ابھارا جا رہا ہے۔
5۔ آج جلسے میں یہ بھی اعلان فرمایا کہ ہمارے اگلے مطالبات احسان اللہ احسان کی پھانسی اور پرویز مشرف کو سزا دینے کے ہونگے۔ لیکن کل بھوشن کا نام بھول کر بھی نہیں لیا۔ نہ کبھی وزیرستان کی سرحد پر موجود ان انڈین کونسل خانوں کے بارے میں سوال اٹھایا جہاں سے پشتونوں کے قاتل بھیجے جاتے تھے۔
6۔ بلوچستان میں ناکام ہونے والا مسنگ پرسنز کا کھیل اب فاٹا میں شروع کر دیا ہے۔
کچھ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ منظور مخلص ہے۔ مخلص تو خودکش حملہ کرنے والا بھی ہوتا ہے اور یقیناً منظور پشتین سے زیادہ مخلص ہوتا ہے کیونکہ وہ یقینی طور پر اپنی زندگی قربان کرتا ہے لیکن پھر بھی اس کو دہشت گرد کہا جاتا ہے کیوں؟؟
کیونکہ اس کو استعمال کرنے والوں کی نیت ٹھیک نہیں ہوتی اور اسکا عمل باعث فساد ہوتا ہے۔
یہی حال منظور کا بھی ہے۔ منظور کو استعمال کرنے والوں کی نیت ٹھیک نہیں اور منظور کے پی کے اور فاٹا میں دوبارہ فساد برپا کرنا چاہتا ہے۔ البتہ منظور خود کش حملہ کرنے والوں جتنا سادہ نہیں!
مارکسسٹ سرخوں کی علامات استعمال کرنے والا، لوگوں کو راغب کرنے کے لیے جوان لڑکیاں استعمال کرنے والا، یہ فسادی گروہ پشتونوں کی جان کے ساتھ ساتھ ان کے ایمان اور غیرت کا بھی دشمن ہے۔ یاد رکھنا!!!
تحریر شاہدخان

Sunday, 1 April 2018

افغانستان کی اوقات !

افغانستان کی اوقات !
کچھ مٹھی بھر لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں پشتون کے ساتھ نا مناسب رو یہ کیا جا رہا ہے اور الگ تحریک بنائی ہوئی ہے جس میں پختون نہیں بلکہ اکثر افغانستانی ہیں #PTM ۔ پختون تحفظ موومنٹ ۔ جس میں افغانی کتے پاکستان کے خلاف بھونک رہے ہیں ! ۔ پاکستان آرمی کے خلاف بھونک رہے ہیں -پختون کے نام پہ لڑائی اور پختون کا نام استعمال کر کہ فساد ..
اصلی پختون کبھی اپنے ملک اور آرمی کو گالی نہیں دیتا پنجابی، بلوچی ،سندھی ،پٹھان سب بھائی ہیں ۔ اور رہ گیئ بات افغانی کنجروں کی ۔۔؟ نمک حرام تم لوگ پاکستان میں پختون کے حق کی بات کرتے ہو ؟ کسی پختون سے پوچھ لو وہ ایک #پنجابی ، #سندھی ، کی طرح آزاد اور زندگی گزار رہا ہے ! تم نمک حرام افغانی اور #منظور پشین ! جا کر #افغانستان میں حقوق دلاؤ نا ۔۔۔۔؟ تمہاری ماں بہن کے ساتھ کیا کر رہے ہیں امریکا والے ؟ فوٹوز میں ایک نمونہ دیکھ لو ۔ اور بھونکتے ہو پاکستان ک خلاف ؟ نمک حرام کتو
یہ صرف اور صرف پاکستان کے امن کو خراب کر رہے ہیں افغانی کتے #روس کی ناجائز پیدائش ۔ #انڈیا کے پالے ہوئے کتو #امریکا کے غلام #حرامخورو جس تھالی میں کھاتے ہو اسی میں پیشاب کرتے ہو ۔ #نمک حرام قوم

Sunday, 18 March 2018

ﺑﯿﭩﯽ

ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺟﮩﺎﻟﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ۔ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺑﭽﯽ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽﮐﺎ ﭨﮑﮍﺍ اور ﮔﮍﯾﺎ ﺗﮭﻤﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎ ﺩﯾﺘﮯ ۔ ﺑﭽﯽ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﮍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﭨﮑﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺗﺐ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ ۔ﺑﭽﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﯿﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻣﭩﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﺘﯽ ﭼﯿﺨﺘﯽ ﭼﻼﺗﯽ ﻣﻨﺘﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ۔ﻟﯿﮑﻦ ﻇﺎﻟﻢ ﺑﺎﭖ ﺍﺱ ﺑﭽﯽ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ۔ﺍﺱ ﻗﺒﯿﺢ ﻓﻌﻞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺁﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﭽﯽ ﮐﯽ ﭼﯿﺨﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮتیں۔ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﻇﺎﻟﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﺎﻟﮯ ﭘﮍﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﻧﺮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ....
ﺑﻌﺾ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﺳﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﺮﺯﺩ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺭﺿﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﻧﮯﺍﭘﻨﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳﻨﺎﯾﺎ کہ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽکی ﺍﻧﮕﻠﯽ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻟﮯ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ﺑﭽﯽ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﭘﮑﮍ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﻟﻤﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ﻭﮦ تمام ﺭﺍﺳﺘﮧﺍﭘﻨﯽ ﺗﻮﺗﻠﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﯽ اور ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﺮﻣﺎئشوﮞﮐﻮ ﺑﮩﻼﺗﺎ ﺭﮨﺎ۔ﻣﯿﮟ ﺍﺱ کو ﻟﮯ ﮐﺮ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﮐﮯ لئے ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﯽ ۔ﻣﯿﮟ ﻧﯿﭽﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﯾﺖ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ۔ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻨﮭﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﭩﯽ ﮐﮭﻮﺩﻧﮯ ﻟﮕﯽ ۔ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﺎﭖ ﺑﯿﭩﯽ ﺭﯾﺖ ﮐﮭﻮﺩﺗﮯ ﺭﮨﮯ ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺍﺱ ﺩﻥ ﺻﺎﻑ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻦ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﮭﮯ ۔ﺭﯾﺖ ﮐﮭﻮﺩﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ۔ﻣﯿﺮﯼ ﺑﭽﯽ ﻧﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﺻﺎﻑ ﮐﯿﺌﮯ ۔ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ لئے ﻗﺒﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ..
ﻗﺒﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﭩﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻟﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ ۔ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻨﮭﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﻟﮕﯽ ۔ﻭﮦ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻟﺘﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﮩﻘﮧ ﻟﮕﺎﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﺋﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ۔ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺧﺪﺍﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ کہ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺩﯾﮟ ۔ﻣﯿﮟ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﯽ ﺭﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﯽ ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻟﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ
" ﺍﺑﺎ ﺁﭖ یہ کیا کر رہے ﮨﯿﮟ؟ "
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﭘﺘﮭﺮ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﻗﺒﺮ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﭘﮭﯿﻨﮑﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺭﻭﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﭼﯿﺨﺘﯽ ﺭﮨﯽ فریاد کرتی رہی لیکن ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﺩﯾﺎ....
ﯾﮧ ﻭﮦ ﻧﻘﻄﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺭﺣﻤﺖ دو جہاں ﷺﮐﺎ ﺿﺒﻂ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﮔﯿﺎ۔ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺁﻧﺴﻮﻭﮞ ﺳﮯ ﺗﺮ ﮨﻮﮔﺌﯽ ۔ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺩﮬﺎﮌﯾﮟ ﻣﺎﺭ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﷺ ﮨﭽﮑﯿﺎﮞ ﻟﮯ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ.....
#copied

Tuesday, 13 March 2018

Top 9 Most Earthquake Prone Countries


1. Japan


Japan takes the first place in our list of the top 9 most earthquake prone countries because it is surrounded by Pacific Ocean, East China Sea, Sea of Japan and sea of Okhotsk - surrounding Japan with active and potentially deadly fault lines. About 6,852 islands come under the vicinity of Japan. Mountains and forests are present in majority of the land; volcanoes are also a threat to civilization.
The first recorded earthquake in Japan was felt in 684 A.D. of magnitude 8.4, followed by two other hits in 745 A.D. and 869 A.D. of magnitudes 7.9 and 8.6. Unil now, the area has witnessed about 24 earthquakes of magnitudes 7.9 or greater and 42 earthquakes of magnitudes 6.3-7.8. The highest magnitude was felt in March 2011 reaching nearly 9.0 magnitude which claimed the lives of 15 thousand people. One of the most recent earthquakes was recorded in December 2012 with a magnitude of 7.3.

2. Nepal


According to some estimates, a person is more likely to die in Nepal than anywhere else in the world. Many disasters occur in Nepal. Different floods, fires and epidemics of all kinds cause loss of life and property throughout the year.
Nepal is one of the most earthquake prone countries in the world due to the presence of Himalayas in the region. These mountains are built on Indian tectonic plates which lie under Central Asia. The two slabs of the Earth converge at a rate of 4-5 cm each year. Numerous tremors are felt on Mount Everest and its surrounding regions throughout the year.
The remains of a prehistoric lake are present in the Kathmandu valley. This makes earthquakes even more severe. The solid ground changes into quicksand during severe earthquakes, swallowing everything above it. The 2015 Nepal earthquake killed more than 8,000 people and injured about 21,000. There is no doubt Nepal takes 2nd place in our list of most earthquake prone countries.

3. El Salvador

El Salvador is also an earthquake prone country which has suffered immense damage due to past earthquakes. This small region has suffered about one destructive earthquake per decade for the last hundred years.
The two major earthquakes which occurred in the region were on January 13 and February 13, 2001, with magnitudes of 7.7 and 6.6 respectively. The two events occurred among different tectonic plates, however, neither of the two regions have a history of earthquakes. The earthquake caused damage to thousands of houses and caused hundreds of landslides in the region. Therefore, El Salvador takes 3rd place in our list of most earthquake prone countries.

4. Pakistan

Pakistan also deserves to be in this list of the most earthquake prone countries. The country is located in the Indus Suture region and is about 200 km north of the Himalayan Front. This region has the largest number of earthquakes in the Himalayan region, caused mainly by thrust faults.
A magnitude of 7.6 earthquake hit the Kashmir Region of Pakistan and killed about 73,000 people, mostly in the remote areas of the country. Recently an earthquake of 7.7 magnitude killed about 825 people, left thousands homeless and caused immense damage to the the country's property. Pakistan takes 4th place as one of the most earthquake prone country in our list.

5. Tonga

This country is comprised of a group of Islands spread among the Southern region of Pacific Ocean. It is a combination of about 176 islands and it is in the neighborhood of Hawaii and New Zealand.
About 215 different earthquakes occurred in the region during 2012, but none exceeded the 6.6 magnitude mark. The last shockingly large earthquake was felt in 2009 with a magnitude of 7.6. Two other earthquakes were felt in Tonga before this time - one in 2006 with a magnitude of 8.0 and the other in 2007 with magnitude of 7.9. Tonga takes 5th place in our list of the most earthquake prone countries.

6. Turkey

Turkey lies in a seismic zone located between the African and Eurasian tectonic plates. This geographical activity in this area indicates that an earthquake can occur here at any time and thus, makes it one of the most earthquake prone countrys in the world. Turkey has a long history of earthquakes which often occur as adjacent earthquakes.
An earthquake of magnitude 7.6 hit Western Turkey in 1999 and occurred on the world’s largest and longest fault lines; the east-west trending North Anatolian fault. The earthquake lasted only for 37 seconds but killed over 17,000 people. About 50,000 people were injured in the earthquake, making it one of the most devastating earthquakes of the 20th century. Turkey takes 6th place in our list of earthquake prone countries.

7. New Madrid

Most earthquakes occur at tectonic plates boundaries where land masses collide and push against each other. But New Madrid is a strange country; its earthquakes have defied common sense and have yet to be fully explained by scientists.
In 1811 and 1812, three massive earthquakes hit New Madrid with a magnitude over 8.0 on the Richter scale which shook buildings and caused massive property loss. The earthquake was felt over an area of 2 million square miles, which constitutes about two-third of the population. A lot of damage was caused during the earthquake, the ground fell and rose, trees were bent, cracks were formed and large landslides swept the hillside area. Although the damage from the quake was widespread, only a few people died. Many earthquakes of smaller magnitude have occurred since then. New Madrid takes 7th place in our list of earthquake countries.

8. Papua New Guinea

Papua New Guinea is located along the Pacific Ocean and for this reason, it is quite prone to earthquakes. The economy of the country is booming rapidly, even though majority of the people live in the rural areas.
About 29 earthquakes have occurred in the country since 1988 and six of them occurred in 2011. Of these earthquakes, five were of particularly high magnitude One earthquake in the year 2002 had a magnitude of 7.6 and another in 2005 had a magnitude of 7.8. The rest of the powerful earthquakes occurred in the year 2000. There were a series of earthquakes in 2000 and two of them occurred on the same day with magnitudes of 7.8 and 8.0. However, the third earthquake occurred on the next day with a magnitude of 7.6. The latest earthquake in the region was recorded in July 2012 with a magnitude of 6.6. Papua New Guinea takes 8th place in our list of earthquake prone countries.

9. Indonesia

There are only a handful of countries as dangerous to live in as Indonesia. It isn’t only is the country's elevation situated at Pacific sea level, but almost half of the country's elevation is under sea level which can be a massive problem during earthquakes. The whole area can basically liquefy if an earthquake of sufficient magnitude hits. But the complications don’t end here. The elevation of the country's capital, Jakarta, is so low it prone to severe flooding.
Java and Sumatra are two other Indonesian islands which can be quite hazardous. The Center of Hazard and Risk Research at Columbia University has suggested that these two Islands are the most dangerous places to live on. The most famous disaster in Indonesia was the 2004 Indian Ocean Earthquake which occurred on the coast of Sumatra. The mega-thrust was actually caused when the Indian plate hit the Burma plate which resulted in a series of Tsunamis which killed about 230,000 people in 14 different countries. Many drowned in coastal areas which experienced 100ft high waves. Indonesia was the most affected region in the disaster and the death toll was nearly 170,000. This was the third largest earthquake to ever been recorded. Due to this, Indonesia takes the 9th place in our list of the top earthquake prone countries.

Destructive tidal waves, devastating hurricanes, town flattening tornadoes, catastrophic floods, unpredictable volcanoes and more - Earth can certainly be a dangerous place to live. But one of the most dangerous natural disasters is unquestionably the all powerful earthquake. It causes death and destruction wherever it strikes. Whole towns and cities have been ruined in earthquakes. There are some earthquake prone countries that are certainly more susceptible to this natural disaster around the world.
Are earthquakes predictable? The simple answer to this is no. Earthquakes are quite unpredictable and they can strike anywhere anytime. However, scientific advances have helped scientists to gain a better understanding of when and where these destructive disasters may strike. Having said this, there are some countries which are more prone to earthquakes than other places. So, here is our list of the top 9 most earthquake prone countries around the world.

Conclusion

Now you know the top 9 most earthquake prone countries in the world. Multiple earthquakes have occurred in these countries. So if you reside in any of these countries, it is a good idea to be prepared and take necessary precautionary measures.
Governments of these countries should also facilitate earthquake defenses and preparation for their people. They should fund researcher studying natural disasters so the state can be ready with precautionary measures. They should also allocate more budget for these natural calamities because nobody knows who will be the next victim.









Thursday, 1 March 2018

رب کونین میری بھی فریاد سن​



رب کونین میری بھی فریاد سن​
آج میدان میں سب سے مظلوم ہوں​
حق پہ ہوتے ہوے حق سے محروم ہوں​
شام خوں رنگ ہوں صبح مغموم ہوں​
جس پہ چلتے ہیں خنجر وہ حلقوم ہوں​
آنسوؤں اور آہوں کی روداد سن​
رب کونین میری بھی فریاد سن​
خود میرے نام لیوا ہیں دشمن میرے​
میرے گھر کے اجالے ہیں رہزن میرے​
زد میں ہیں بجلیوں کے نشیمن میرے​
لٹ گئے سینکڑوں بار گلشن میرے​ آنسوؤں اور آہوں کی روداد سن​
رب کونین میری بھی فریاد سن​
ظلم ڈھایا گیا میرے افغان پر​
خون چھڑکا گیا صبح ایمان پر​
آگ برسی ہے اوراق قرآن پر​
برق چمکی میرے سازوسامان پر​
آنسوؤں اور آہوں کی روداد سن​
رب کونین میری بھی فریاد سن​
مجھ کو کشمیر میں خوں رلایا گیا​
مجھ پہ ڈھاکے میں محشر سجایاگیا​
دشت سرور جیسے ستایا گیا​
اس طرح ہند میں آزمایا گیا​
آنسوؤں اور آہوں کی روداد سن​
رب کونین میری بھی فریاد سن​
بہہ گیا بستی بستی میں میرا لہو​
روز کرتا ہوں میں آنسوؤں سے وضو​
کب سے ہے میری آواز دم درگدوں​
ہوگی پامال کب تک میری آبرو؟​
آنسوؤں اور آہوں کی روداد سن​
رب کونین میری بھی فریاد سن

Sunday, 25 February 2018

آج کی عورت نے بھٹکنا پسند کیا تو اسے بھٹکا دیا گیا ہے



بغداد کے ایک خلیفہ کو اپنے بیٹے کی شادی کرنا تھی... انہوں نے پورے شہر میں اعلان کروا دیا کہ جس گھر میں جوان لڑکی ہے اور قرآن کی حافظہ ہے... وہ اپنے گھر کی کھڑکی میں رات کو ایک شمع روشن کر دے... اس رات پورے شہر کی کھڑکیوں میں شمعیں روشن تھیں... ان کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا... اگلے دن اعلان کروایا کہ جس گھر میں موجود لڑکی حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ موطا امام مالک کی بھی حافظہ ہے... وہ رات کو اپنے گھر کی کھڑکی میں شمع روشن کرے... اور اس رات بھی آدھے سے زیادہ شہر کی کھڑکیوں پہ شمعیں روشن تھیں... کتنا حسین منظر ہو گا نا... ہر گھر میں کھڑکی پہ روشن شمع صرف روشنی کی نوید نہیں سنا رہی تھیں بلکہ بتا رہی تھیں کہ اسلام کا مستقبل بھی بہت روشن ہے... وہ شمعیں اس بات کی نوید تھیں کہ ایک بہترین نسل کو پروان چڑھانے کے لیے مناسب اور بہترین تعلیم دی جا چکی ہے... ان تمام جلنے والی روشنیوں کے لرزتے شعلوں میں ایک مضبوط اسلامی معاشرے کی جھلک نمایاں ہو رہی تھی...
آج اگر ایسا اعلان کر دیا جائے تو بہت کم گھروں میں شمع روشن ہو گی اور اگر دوسرے اعلان والی شرط ساتھ رکھ دی جائے تو یقینا پورا شہر ہی تاریک پڑا ہو گا...
پتا ہے ایسا کیوں ہو ہے... کیونکہ آج ہمیں فضول اور بے بنیاد تعلیم کے چکروں میں پھنسا دیا گیا ہے ... آج کی عورت کو مرد کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے خواب دکھا کر اسے حساب کتاب کے بھنور میں دھنسا دیا گیا ہے... آج کی عورت کو ایک مضبوط کردار کی حامل نسل کی تربیت اور ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد میں اہم کردار ادا کرنے جیسے اہم مقاصد سے بھٹکا دیا گیا ہے... آج کی عورت کو ٹی وی پہ بیٹھ کے مارننگ شوز میں لایعنی عنوانات پہ مباحث اور فضول اور بےمقصد کاموں کی طرف اپنی ہی جیسی عورتوں کو راغب کرنے پر لگا دیا گیا ہے... آج کی عورت کو انعامی مقابلوں میں چھینا جھپٹی کر کے دو ٹکے کے تحفے حاصل کرنے پر لگا دیا گیا ہے... آج کی عورت نے بھٹکنا پسند کیا تو اسے بھٹکا دیا گیا ہے..!!

Friday, 16 February 2018

ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﻤﮯ ﮐﯽ ﻣﺎﺭ ہے


ﺍﺑﻠﯿﺲ ﺟﺐ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺍﻟﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺩﻭﺩ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﺗﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﻣﮩﻠﺖ ﺩﮮ،
ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﮩﻠﺖ ﮨﮯ،
ﺍﺑﻠﯿﺲ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ! ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﻋﻈﻤﺖ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮨﮯ، ﺗﯿﺮﯼ ﮐﺒﺮﯾﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮨﮯ، ﻣﯿﮟ ﺍﻭﻻﺩ ﺁﺩﻡ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺳﮯ ﺁﺅﮞ ﮔﺎ، ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﮯ ﺁﺅﮞ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﻮﮞ ﮔﺎ، ﺗﯿﺮﺍ ﺑﺎﻏﯽ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﺭﮨﻮﮞ ﮔﺎ، ﺗﯿﺮﯼ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮐﺮﻭﺍﺗﺎ ﺭﮨﻮﮞ ﮔﺎ،
ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﺍپنی کبریائی ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮨﮯ، ﻣﯿﺮﺍ ﺑﻨﺪﮦ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺳﭽﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﮯ ﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﮐﺎ ﻗﻠﻢ ﭘﮭﯿﺮ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ،
ﺗﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﻤﮯ ﮐﯽ ﻣﺎﺭ ﮨﮯ،
ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﯿﺎﺑﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ، ﺁﺭﺍﻡ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻟﯿﭧ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﻟﮓ گئی،
ﺟﺐ ﺑﯿﺪﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﺟﺲ ﭘﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﺳﻤﯿﺖ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﮯ،
ﮈﮬﻮﻧﮉ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﮐﺮ ﺗﮭﮏ ﮨﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻟﯿﭧ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﯾﮩﯿﮟ ﻣﻮﺕ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ،
ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﺎﺭﮮ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﮐﮩﮧ ﺍﭨﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﻨﺪﺍ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﺭﺏ ﮨﻮﮞ
ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﺑﻨﺪﮦ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺭﺏ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮨﻮﺵ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﮧ ﮔﯿﺎ،
ﻧﺒﯽ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻨﺪﮦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ،
ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺘﻮﺑﮧ
معلوم ہوا شیطان کا سارا سرمایہ ہماری توبہ کے ایک کلمے کی مار ہے
ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮐﻔﻞ ﺗﮭﺎ،
ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺟﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻣﻠﻮﺙ ﺗﮭﺎ، ﺷﺎﯾﺪ ﮨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﻮ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮨﻮ،
ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﺳﺎﭨﮫ ﺩﺭﮨﻢ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﻮﺩﺍ ﻃﮯ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ،
ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻋﻮﺭﺕ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﮐﭙﮑﯽ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺅﺋﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ،
ﮐﻔﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺧﻮﺩ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻃﮯ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺭﻭ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ،
ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺁﺝ ﻓﻘﺮ ﻭ ﻓﺎﻗﮧ ﮐﯽ ﻣﺎﺭﯼ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﺁﻣﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ، ﺳﻮﭺ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻨﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ،
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮔﮩﺮﺍ ﺍﺛﺮ ﮨﻮﺍ،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﮨﻮ ﺟﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻮ ﺩﻥ ﺑﮭﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺭﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯿﺎﮞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ،
ﮐﻔﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭘﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻮﮌﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ
ﻋﻮﺭﺕ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﺮ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ، ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ،
ﻗﺪﺭﺕ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺍﺳﯽ ﺭﺍﺕ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ،
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﻔﻞ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ، ﮐﮩﺎ ﭼﻠﻮ ﭼﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺷﮑﻞ ﮨﯽ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ، ﺟﺘﻨﺎ ﻭﮦ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺴﯽ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ ﻣﻮﺕ ﻣﺮﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ،
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ،
ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻟﮑﮭﻮﺍ ﺩﯼ،
ﺍﻥ ﺍﷲ ﻗﺪ ﻏﻔﺮ ﺍﻟﮑﻔﻞ
ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﮐﻔﻞ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ
ﺳﻨﻦ ﺗﺮﻣﺬﯼ
ﺍﺏ ﯾﮩﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ ﭼﻨﺪ ﮔﮭﮍﯾﺎﮞ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﻭﯾﺎ ﮨﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﻤﮯ ﮐﯽ ﻣﺎﺭ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ، ﻧﻨﺎﻧﻮﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﺎﺗﻞ ﮨﮯ، ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ ﺷﺎﯾﺪ ﻣﯿﺮﺍ ﯾﮧ ﮔﻨﺎﮦ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺑﻞ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﮨﻮ، ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ،
ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﻨﺎﻧﻮﮮ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺎ ﭼﻼ ﺟﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ نہیں،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻧﻨﺎﻧﻮﮮ ﺗﻮ ﻣﺎﺭ ﮨﯽ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺳﻮ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﺮﻭ، ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ،
ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ کہا ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﺳﻮ ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﺎﺗﻞ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺳﭽﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﯿﺮﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ، ﺗﻢ ﻓﻼﮞ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺅ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﺰﺍﺭ ﺑﻨﺪﮮ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﻮ،
ﺍﺏ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺍﺱ ﻃﺮﻑ ﭼﻞ ﺩﯾﺎ، ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﻮﺕ ﺁ ﮔﺌﯽ
ﺟﻨﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮔﺌﮯ ﻟﯿﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ، ﻃﮯ ﭘﺎﯾﺎ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﺎﭖ ﻟﯽ ﺟﺎﺋﮯ، ﺟﺲ ﻃﺮﻑ ﮐﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺋﯽ ﻭﮨﯽ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ،
ﺯﻣﯿﻦ ﻣﺎﭘﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﻑ ﮐﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﻢ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﻃﺮﻑ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺳﮯ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ،
ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﻭ ﻣﺴﻠﻢ
ﺍﺏ ﯾﮩﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ نہیں کیا ﻣﺤﺾ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺎ، ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﻮ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺪ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ،
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﺍﺩﺍ ﺍﺗﻨﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﺁﺋﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﺳﻮ ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺎﺗﻞ ﮐﻮ ﺟﻨﺖ ﮐﺎ ﻭﺍﺭﺙ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ،لیکن رب کہتا ہے کوئی معافی مانگے تو سہی میرے سامنے گڑگڑائے تو سہی، مجھے معاف کرنے والا ہی پاؤ گے،
ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺣﮑﻢ ﺍﻟﺤﺎﮐﻤﯿﻦ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﻗُﻞْ ﻳٰﻌِﺒَﺎﺩِﻱَ ﺍﻟَّﺬِﻳْﻦَ ﺍَﺳْﺮَﻓُﻮْﺍ ﻋَﻠٰٓﻲ ﺍَﻧْﻔُﺴِﻬِﻢْ
ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ) ﮐﮩﮧ ﺩﻭ ﮐﮧ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻨﺪﻭ ! ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﮐﯽ ﮨﮯ
ﯾﻌﻨﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺑﻐﺎﻭﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯿﺎﮞ ﮐﺮﮐﺮ ﮐﮯ ﺗﮭﮏ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻟَﺎ ﺗَﻘْﻨَﻄُﻮْﺍ ﻣِﻦْ ﺭَّﺣْﻤَﺔِ ﺍﻟﻠّٰﻪِ ۭ
ﺗﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ﻧﺎ ﺍﻣﯿﺪ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ،
ﺳﭽﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ، ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﭘﭽﺎﺱ ﺳﺎﻟﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ، ﺳﺎﭨﮫ ﺳﺘﺮ، ﺍﺳﯽ ﺳﺎﻟﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻓﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﻠﻢ ﭘﮭﯿﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ،
ۭ ﺍِﻥَّ ﺍﻟﻠّٰﻪَ ﻳَﻐْﻔِﺮُ ﺍﻟﺬُّﻧُﻮْﺏَ ﺟَﻤِﻴْﻌًﺎ ۭ ﺍِﻧَّﻪٗ ﻫُﻮَ ﺍﻟْﻐَﻔُﻮْﺭُ ﺍﻟﺮَّﺣِﻴْﻢُ
( ﺳﻮﺭﮦ ﺍﻟﺬﻣﺮ 53: )
ﺑﺎﻟﯿﻘﯿﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻭﮦ ﺑﮍﯼ، ﺑﺨﺸﺶ ﺑﮍﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔
ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﻤﮯ ﮐﯽ ﻣﺎﺭ ﮨﮯ

Sunday, 14 January 2018

قصور واقعہ

 " کرائے کے لبرلز" اور فسادی میڈیا
 
 قصور واقعہ کی آڑ میں "' کرائے کے لبرل' اور فسادی میڈیا ایک بار پھر اپنی اصلیت دکھا رہے ہیں۔
افسوس، افسوس۔۔۔۔ معاشرے کی تباہی اور اخلاقی دیوالیہ پن میں ان کے گھناؤنے کردار اور کھیل پر اب بات ہو گی اور کھل کر ہو گی۔
یہ لوگ تصویر کا وہی رخ دکھاتے ہیں جو ان کو سُوٹ کرے۔۔۔۔ جو ان کے ایجنڈے کو تقویت دے۔۔۔۔
مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کچھ سال قبل ایک جعلی ویڈیو چلائی گئی جس میں دکھایا گیا کہ سوات یا فاٹا میں کسی جگہ پر 'غیرت' سے منسلک کسی واقعہ میں ایک لڑکی کو بھرے مجمعے میں کوڑے لگائے جا رہے ہیں۔۔۔۔ پاکستانی میڈیا نے کئی روز مسلسل اس کو دکھایا اور مغربی میڈیا بار بار یہ کلپ چلا کر چیخ رہا تھا کہ دیکھو اگر ان دہشت گردوں کو نہ روکا گیا تو یہ اسلام آباد پر قبضہ کر لیں گے۔۔۔ یہ پاکستان میں شریعت نافذ کر دیں گے۔۔۔۔ پاکستانی پارلیمنٹرینز خواتین و مرد حضرات کہہ رہے تھے کہ ہمارے سر شرم سے جھک گئے اب ہم دنیا کو کیا منہ دکھائیں گے۔۔۔۔۔یہی پاکستانی میڈیا ہے جو طالبان کا نشانہ بننے والی ملالہ کی سٹوری تو ہائی لائٹ کرتا ہے لیکن ڈرون حملے کا نشانہ بننے والے نبیلہ کے خاندان کو اہمیت نہیں دیتا۔ اسی میڈیا نے ملالہ کے واقعہ کی آڑ میں دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ پاکستان میں تعلیم کی راہ میں اصل رکاوٹ طالبان ہی ہیں۔۔۔۔حالانکہ طالبان نے تو اسی کی دہائی میں افغان سوویت وار کے بعد یہاں قدم جمانا شروع کئے جبکہ پاکستان میں تعلیم اور ہر طرح کے سماجی ارتقاء کی راہ میں روز اول سے وڈیرہ شاہی، پنچائیتیں، نوابی کلچر، یونیفارم والوں کے سیاسی عزائم اور کچھ دیگر عوامل کارفرما ہیں۔۔۔۔ اسی میڈیا نے قندیل بلوچ کو عورتوں کی آذادی کا استعارہ بنا کر پیش کیا۔
قصور سانحہ پر بھی اصل معاملے کو لپیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عوام دشمن مفلوج سسٹم کی مکروہات پر بات کرنے کی بجائے بچوں پر جنسی تشدد اور زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سارا ملبہ والدین پر ڈال کر یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کا اصل سبب بچوں کا جنسی تعلیم اور آگاہی سے نابلد ہونا ہے۔۔۔۔۔
سوال یہ ہے کہ اگر گھروں یا سکولوں میں جنسی تعلیم کو متعارف کرا بھی دیا جائے تو معاشرے سے جرائم کی بیخ کنی کرنے والے نظام کی عدم موجودگی میں اس طرح کے اقدامات کہاں تک موثر ثابت ہو سکتے ہیں؟
درحقیقت یہ ناہموار معاشرہ عام آدمی کے لئے رہنے کے قابل ہی نہیں ہے۔ یہاں طبقہ اشرافیہ کی الگ دنیا ہے۔۔۔ایسا شاید ہی کبھی ہوا ہو کہ کسی حکمران، پارلیمنٹرین، جج ، بیورو کریٹ وغیرہ کا بچہ قصور کی ننھی زینب کی طرح ظلم کا شکار ہوا ہو۔۔۔۔۔ یہ مخلوق تو سیکیورٹی کے حصار میں رہتی ہے جبکہ عام آدمی لاقانونیت اور ظلم کا شکار ہے ۔سماجی برائیوں اور جرائم کی پرورش میں معاشرے کے دو ستونوں میڈیا اور پولیس کا کردار انتہائی بھیانک شکل اختیار کر چکا ہے۔۔۔۔عام آدمی کو یہ بات سمجھنی ہو گی۔

زینب اور ن لیگ






زینب اور ن لیگ ۔

300 بچوں کے ساتھ زیادتی

زینب سے پہلے قصور میں 300 بچوں کے ساتھ زیادتی اور انکی ویڈیوز بنا کر عالمی مارکیٹ میں بیچنے کا انکشاف ہوا۔
بچوں کی نشاندہی پر کئی مجرم پکڑے گئے جن کو مقامی ن لیگی قیادت کے دباؤ پر چھوڑ دیا گیا۔
متاثرہ لوگوں نے الزام لگایا کہ واقعے میں پولیس اور مقامی ایم پی اے ملک احمد سعید بھی ملوث ہیں جنہوں نے بچوں کی ویڈیوز بنا کر ان کو عالمی مارکیٹ میں کئی ملین ڈالرز کا بیچا۔
یہ کیس منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا۔



11 بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل

300 بچوں کے اس واقعے کے بعد 5 سے 8 سال کی بچیاں غائب ہونے لگیں جنکی لاشیں چند دن بعد مل جاتیں۔ زینب 12 ویں بچی تھی۔
ملنے والی بچیوں کا ڈی این اے کروایا گیا تو کم از کم 6 بچیوں میں ایک ہی ڈی این اے کا سیمپل ملا۔
ڈی این اے کی اس رپورٹ کو ن لیگ نے پراسرار انداز میں دبا لیا اور پچھلے ایک سال سے اس پر مزید کام نہیں کیا گیا۔
کچھ لوگوں کا دعوی ہے کہ اس رپورٹ کو مقامی ن لیگی نمائندوں کے ڈی این اے سے ملایا جائے تو 24 گھنٹوں میں زینب کا قاتل پکڑا جائیگا۔
( بشرط کہ اس رپورٹ کو بھی تبدیل نہ کر دیا گیا ہو)



زینب کا کیس اور ن لیگ کی نئی وردی والی پولیس

زینب کی گمشدگی پر اس کے رشتے دار تھانے رپورٹ درج کروانے گئے تو ایس ایچ او صاحب نے موسم کی مناسبت سے ان سے مالٹے طلب کیے۔
پانچ دن بعد جب زینب کی لاش کوڑے کے ڈھیر سے ملی تو ڈی پی او صاحب نے زینب کی لاش کے بدلے اس کے چچا سے 10 ہزار روپے طلب کیے اور " بدبو " کی وجہ سے گاڑی سے باہر نہ آنے کا فیصلہ کیا۔
جب واقعہ سوشل میڈیا اور میڈیا پر آیا تو ایک ایسا تفتیشی مقرر کیا گیا جو ایک ٹی وی پروگرام میں 25 ہزار روپے رشوت لیتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔
قصور کے متاثرین احتجاج کرنے سڑکوں پر نکل آئے تو پولیس نے ان پر سیدھی گولیاں چلا کر دو بندے مزید پھڑکا دئیے۔
ن لیگ نے ملوث ڈی پی او کو سزا کے طور پر " او ایس ڈی " بنا دیا یعنی آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی۔ (جو غیر معینہ مدت کے لیے کام کیے بغیر تنخواہ لیتا ہے)
پولیس نے ملزم کا غلط خاکہ شائع کیا۔ سی سی ٹی وی میں نظر آنے والی فوٹو اور پولیس کے خاکے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اس معاملے میں پولیس کیوں عوام کو جان بوجھ کر گمراہ کرنا چاہتی ہے؟



زینب کے قتل پر لیگی راہنماؤوں کا ردعمل

رانا ثناء اللہ نے فرمایا " بچی مجرم کیساتھ خوشی خوشی گئی ہے" ۔۔۔۔۔۔ " والدین کو اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہیئے ورنہ بچے ایسے واقعات کا نشانہ بن سکتے ہیں"
خیال رہے کہ جب 300 بچوں کا سکینڈل آیا تھا تب اسی رانا ثناءاللہ کا بیان آیا تھا کہ " قصور والا واقعہ کوئی بڑا واقعہ نہیں۔ ایسے واقعات روز ہوتے رہتے ہیں"
طلال چودھری نے فرمایا کہ " قصور جیسے واقعات تو ہر صوبے میں ہوتے رہتے ہیں سیاسی رنگ دینا زیادتی ہے "
مائزہ حمید نے فرمایا کہ " یہ اسلام یا کسی دوسرے مذہب میں نہیں کہ اپنے بچوں کو کسی سہارے کے بغیر چھوڑیں "
ن لیگ کی ہی عائشہ گلالئی کے مطابق " زینب کے قتل کا ذمہ دار عمران خان ہے"

قصور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ن لیگ کے کم از کم 15 کے قریب ایم این ایز اور ایم پی ایز ہیں جن میں سے کوئی ایک بھی زینب کا پوچھنے نہیں آیا۔

خادم اعلی رات کے اندھیرے میں چوروں کی طرح چھپ کر زینب کے والدین سے ملے اور تصویریں نکلوا کر چل دئیے۔



ن لیگ کی سوشل میڈیا ٹیم

مریم نواز کی سوشل میڈیا ٹیم کے مطابق ۔۔۔۔۔
" زینب کا والد شیطان ہے"
" زینب کا جنازہ پڑھانے کےلیے قادری کو بلانا اس بات کی علامت ہے کہ واقعہ درحقیقت حکومت کے خلاف سازش ہے "
" مشرف دور میں جن خواتین کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں انکا کیا ہوا؟"
" ڈی آئی خان کے واقعے کے ذمہ داروں کو کب سزا ملے گی؟"
وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔

اسی طرح ن لیگ کے ترجمان چینل جیو نے بھی واقعے کا ذمہ دار والدین کو ہی قرار دیا ہے۔



صرف چند ماہ پہلے نواز شریف نے اپنے استقبال کے لیے آنے والے ایک بچے کو اپنی پروٹوکول کی گاڑی تلے کچل دیا تھا۔
پھر گاڑی صرف اتنی دیر رکی کہ بچے کو سڑک سے ہٹایا جا سکے تاکہ دوبارہ گزرنے پر گاڑی کے ٹائر خراب نہ ہوں۔
ان درجنوں گاڑیوں اور ایمبولینسوں میں سے کسی ایک نے بھی رکنے کی زحمت نہیں کی۔ یاد ہے کسی کو ؟؟؟؟؟ اگر نہیں تو زینب کو بھی آپ بھول جائنگے۔

قصور والے واقعے میں جو ن لیگ کو بے قصور سمجھتے ہیں وہ زندہ نہیں ہیں!

Monday, 25 December 2017

سنہ 2017 میں بالی ووڈ فلموں میں اداکاراؤں کی کمائی۔


بالی ووڈ فلموں میں ہیرو کے مقابلے میں اداکاراؤں کو حاصل ہوتی ہیں۔ 2017 کم کمانے والی اداکاراؤں کا ایک جھلک


فلم’ایم ایس دھونی‘کے ذریعے بالی ووڈ میں ڈیبیو کرنے والی اداکارہ دیشا پٹانی رواں سال معاوضہ حاصل کرنے والی اداکاراؤں میں سب سے پیچھے رہیں انہوں نے 2017 میں صرف ایک کروڑ روپے کمائے۔
دیشا پٹانی:

فلم’ایم ایس دھونی‘کے ذریعے بالی ووڈ میں ڈیبیو کرنے والی اداکارہ دیشا پٹانی رواں سال معاوضہ حاصل کرنے والی اداکاراؤں میں سب سے پیچھے رہیں انہوں نے 2017 میں صرف ایک کروڑ روپے کمائے۔



عالیہ بھٹ:
نامور بالی ووڈ اداکارہ عالیہ بھٹ کا شمار بالی ووڈ کی صف اول کی اداکاراؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت کم وقت میں اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔ عالیہ بھٹ نے 2017 کی پہلی کامیاب فلم ’بدری ناتھ کی دلہنیا‘میں کام کیا  تاہم وہ رواں سال سب سے کم معاوضہ حاصل کرنےو الی اداکاراؤں میں شامل رہیں۔ عالیہ بھٹ کی 2017 کی کمائی محض 4کروڑ50لاکھ تھی۔
سوناکشی سنہا:
سوناکشی سنہا کے ستارے کافی عرصے سے گردش میں ہیں۔ رواں سال انہوں نے ’نور‘اور ’اتفاق‘نامی فلموں میں کام کیا لیکن شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام رہیں انہوں نے 2017 میں 3 کروڑ70لاکھ معاوضہ حاصل کیا۔
شردھا کپور:
نامور بالی ووڈ اداکارہ شردھا کپور کے لیے 2017 زیادہ خاص ثابت نہیں ہوا۔ شردھا کی رواں سال تین فلمیں’او کے جانو‘،’ہاف گرل فرینڈ‘اور ’حسینہ پارکر‘ریلیز ہوئیں۔ جن میں سے صرف ’ہاف گرل فرینڈ ‘نے جزوی کامیابی حاصل کی جب کہ باقی دونوں فلمیں باکس آفس پر بری طرح ناکام ہوگئیں ۔ شردھا کپور کی رواں سال کمائی 3 کروڑ50لاکھ رہی۔
سونم کپور:
بھارتی اداکار انیل کپور کی بیٹی اور بالی ووٖڈ کی معروف اداکارہ سونم کپور نے رواں سال 2کروڑ50لاکھ روپے کمائے۔
پرینیتی چوپڑا:
نامور بالی ووڈ اداکارہ پرینیتی چوپڑا رواں سال فلموں سے زیادہ وزن کم کرنے کے باعث خبروں میں رہیں ۔ عشق زادے‘’ہنسی تو پھنسی‘جیسی کامیاب فلمیں دینے والی اداکارہ پرینیتی چوپڑا کی بھی اس سال دو فلمیں’میری پیاری بندو‘اور’گول مال اگین‘ریلیز ہوئیں۔ میری پیاری بندو تو باکس آفس پر ناکام ہوگئی لیکن گول مال اگین نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ پرینتی چوپڑا نے رواں سال اپنی فلموں کے عوض 2 کروڑایک لاکھ کا معاوضہ حاصل کیا۔
الیانا ڈی کروز:
ساؤتھ انڈین فلموں سے مقبولیت حاصل کرنے والی خوبرو اداکارہ الیانا ڈی کروز نے بالی ووڈ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایاہے۔ الیانا نے ’برفی‘،’میں تیرا ہیرو‘، ’پھٹاپوسٹرنکلاہیرو‘اور’رستم‘جیسی بہترین فلموں میں کام کیا ہے۔ جب کہ رواں سال وہ دو فلموں’مبارکاں‘اور’بادشاہو‘میں نظرآئیں اور ایک کروڑ 60 لاکھ معاوضہ حاصل کیا۔
جیکولین فرنینڈس:
فلم ’کک‘ سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی اداکارہ جیکولین فرنینڈس نے رواں سال ’ڈرائیو‘، ’اے جینٹل مین‘ اور جڑواں2‘میں کام کیا لیکن صرف ’جڑواں2‘ہی کامیاب ہوسکی باقی دونوں فلمیں کب سینما میں لگیں اور کب اترگئیں کسی کو پتہ نہیں چلا۔ انہوں نے 2017 میں ایک کروڑ50 لاکھ روپے کمائے۔

Wednesday, 20 December 2017

Iqrar-ul-Hassan Bashing Gharida Farooqi For Harassing Domestic Worker

پردیس میں انیسواں سال چل رہا ہے




پیارے ابو جان اور امی جان​ مجھے آج ملک سے باہر پانچ سال ہو گئے اور میں اگلے ماہ اپنے وطن واپسی کا ارداہ کر رہا ہوں، میں نے اپنے ویزا کے لیے جو قرض لیا تھا وہ ادا کر چکا ہوں اور کچھ اخراجات پچھلی چھٹی پر ہو گئے تھے۔ تحفے تحائف لینے میں اور کچھ دیگر اخراجات۔ اب میرے پاس کوئی بڑی رقم موجود نہیں لیکن میری صحت ابھی ٹھیک ہے اور میں خود کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ پاکستان جا کر کوئی بھی اچھی نوکری کر سکوں اور گھر کے اخراجات چلا سکوں۔ یہ جگہ مجھے پسند نہیں ہے میں اپنے گھر رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کیا رائے ہے اس بارے میں​ آپکا پیارا – جمال​
پیارے بیٹے جمال​ تمھارا خط ملا اور ہمیں تمھاری چھٹی کے بارے میں پڑھ کر خوشی ہوئی۔باقی تمھاری امی کہہ رہی تھی کہ گھر کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے اور تم جانتے ہو برسات شروع ہونے والی ہے۔ یہ گھر رہنے کے قابل نہیں ہے۔ گھر چونکہ پرانی اینٹوں اورلکڑیوں سے بنا ہے اس لیے اس کی مرمت پر کافی خرچ آئے گا۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ کنکریٹ اور سیمینٹ سے بنا ہوا گھر ہو تو بہت اچھا ہو۔ ایک اچھا اور نیا گھر وقت کی ضرورت ہے۔ تم جانتے ہو یہاں کے کیا حالات ہیں اگر تم یہاں آ کر کام کرو گے تو اپنی محدود سی کمائی سے گھر کیسے بنا پاؤ گے۔ خیر گھر کا ذکر تو ویسے ہی کر دیا آگے جیسے تمھاری مرضی۔​ تمھاری پیاری امی اور ابو۔​
پیارے ابو جان اور امی جان​ میں حساب لگا رہاتھا آج مجھے پردیس میں دس سال ہو چکے ہیں۔ اب میں اکثر تھکا تھکا رہتا ہوں، گھر کی بہت یاد آتی ہے اور اس ریگستان میں کوئی ساتھی نہیں ہے۔ میں سوچ رہا ہوں اگلے ماہ ملازمت چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے گھر آجاؤں۔ دس سال کے عرصے میں الحمدللہ ہمارا پکا گھر بن چکا ہے اور جو ہمارے اوپر جو قرضے تھے وہ بھی میں اتار چکا ہوں۔ اب چاہتا ہوں کہ اپنے وطن آ کر رہنے لگ جاؤں۔ اب پہلے والی ہمت تو نہیں رہی لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ کر کے ، ٹیکسی چلا کے گھر کا خرچ چلا لوں گا۔ اس ریگستان سے میرا جی بھر گیا ہے۔ اب اپنے بچوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کیا رائے ہے۔​ آپکا پیارا – جمال​
پیارے بیٹے جمال​ تمھارا خط ملا اور ہم پچھتا رہے ہیں اس وقت کو جب ہم نے تمھیں باہر جانے دیا، تم ہمارے لیے اپنے لڑکپن سے ہی کام کرنے لگ گئے۔ ایک چھوٹی سے بات کہنی تھی بیٹا۔ تمھاری بہنا زینب اب بڑی ہو گئی ہے ، اس کی عمر ۲۰ سے اوپر ہو گئی۔ اس کی شادی کے لیے کچھ سوچا ، کوئی بچت کر رکھی ہے اس لیے کہ نہیں۔ بیٹا ہماری تو اب یہی خواہش ہے کہ زینب کی شادی ہو جائے اور ہم اطمینان سے مر سکیں۔ بیٹا ناراض مت ہونا ، ہم تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔​ تمھاری پیاری امی اور ابو۔​
پیارے ابو جان اور امی جان​ آج مجھے پردیس میں چودہ سال ہو گئے۔ یہاں کوئی اپنا نہیں ہے۔ دن رات گدھے کی طرح کام کر کے میں بیزار ہو چکا ہوں، کمھار کا گدھا جب دن بھر کام کرتا رہتا ہے تو رات کو گھر لا کر اس کا مالک اس کے آگے پٹھے ڈال دیتا ہے اور اسے پانی بھی پلاتا ہے پر میرے لیے تو وہ بھی کوئی نہیں کرتا، کھانا پینا بھی مجھے خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ بس اب میں ویزا ختم کروا کر واپس آنے کا سوچ رہا ہوں۔ پچھلے کچھ سالوں میں اللہ کی مدد سے ہم زندگی کی بیشتر آزمائشوں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ زینب بہنا کی شادی ہو چکی ہے اور اب وہ اپنے گھر میں سکھی ہے۔ اس کے سسرال والوں کو خوش رکھنے کے لیے میں اکثر تحفے تحائف بھی بھیج دیتا ہوں۔ اللہ کے کرم سے آپ لوگوں کو میں نے حج بھی کروا دیا اور کوئی قرضہ بھی باقی نہیں ہے۔ بس کچھ بیمار رہنے لگا ہوں، بی پی بڑھا ہوا ہے اور شوگر بھی ہو گئی ہے لیکن جب گھرآؤں گا، گھر کے پرسکون ماحول میں رہوں گا اور گھرکا کھانا کھاؤں گا تو انشاء اللہ اچھا ہو جاؤں گا اور ویسے بھی اگر یہاں مزید رہا تو میری تنخواہ تو دوائی دارو میں چلی جائے گی وہاں آ کر کسی حکیم سے سستی دوائی لے کر کام چلا لوں گا۔ اب بھی مجھ میں اتنی سکت ہے کہ کوئی ہلکا کام جیسے پرائیویٹ گاڑی چلانا کر لوں گا۔​ آپکا پیارا – جمال​
پیارے بیٹے جمال​ بیٹا ہم تمھارا خط پڑھ کر کافی دیر روتے رہے۔ اب تم پردیس مت رہنا لیکن تمھاری بیوی زہرہ نے کچھ کہنا تھا تم سے ، اسکی بات بھی سن لو۔​ (بیوی ) پیارے جمال​ میں نے کبھی آپکو کسی کام کے لیے مجبور نہیں کیا اور کسی چیز کے لیے کبھی ضد نہیں کی لیکن اب مجبوری میں کچھ کہنا پڑ رہا ہے مجھے۔ آپکے بھائی جلال کی شادی کے بعد آپ کے والدین تو مکمل طور پر ہمیں بھول چکے ہیں ان کا تمام پیار نئی نویلی دلہن کے لیے ہے ، میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ وہ آبائی گھر جلال کو دینے کا سوچ رہے ہیں۔ ذرا سوچیے اگر آپ یہاں آ گئے اور مستقبل میں کبھی اس بات پر جھگڑا ہو گیا تو ہم اپنے چھوٹے چھوٹے بچے لے کر کہاں جائیں گے۔ اپنا گھر ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ آپ کو پتہ ہے سیمنٹ سریہ کی قیمتیں کتنی ہیں؟ مزدوروں کی دیہاڑی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ یہاں رہ کر ہم کبھی بھی اپنا گھر نہیں بنا سکیں گے۔ لیکن میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی۔ آپ خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔​ آپکی پیاری جان۔ زہرہ​
پیاری شریک حیات زہرہ​ انیسواں سال چل رہا ہےپردیس میں، اور بیسواں بھی جلد ہی ہو جائے گا۔ اللہ کے فضل سے ہمارا نیا علیحدہ گھر مکمل ہو چکا ہے۔ اور گھرمیں آج کے دور کی تمام آسائشیں بھی لگ چکی ہیں۔ اب تمام قرضوں کے بوجھ سے کمر سیدھی ہو چکی ہے میری ، اب میرے پاس ریٹائرمنٹ فنڈ کے سوا کچھ نہیں بچا، میری نوکری کی مدت بھی اب ختم ہو گئی ہے۔ اس ماہ کے اختتام پر کمپنی میرا ریٹائرمنٹ فنڈ جو کہ ۲۵۰۰ ہزار ريال  ہےـ جاری کردے گی۔ اتنے لمبے عرصے اپنے گھر والوں سے دور رہنے کے بعد میں بھول ہی گیا ہوں کہ گھر میں رہنا کیسا ہوتا ہے۔بہت سے عزیز دنیا سے کوچ کر چکے ہیں اور بہت سوں کی شکل تک مجھے بھول گئی۔ لیکن میں مطمئن ہوں ، اللہ کے کرم ہے کہ میں گھر والوں کو اچھی زندگی مہیا کر سکا اور اپنوں کے کام آسکا۔ اب بالوں میں چاندی اتر آئی ہے اور طبیعت بھی کچھ اچھی نہیں رہتی۔ ہر ہفتہ ڈیڑھ بعد ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اب میں واپس آکر اپنوں میں رہوں گا۔ اپنی پیاری شریک حیات اور عزیز از جان بچوں کے سامنے۔​ تمھارا شریک سفر – جمال​
پیارے جمال​ آپ کے آنے کا سن کر میں بہت خوش ہوں۔ چاہے پردیس میں کچھ لمبا قیام ہی ہو گیا لیکن یہ اچھی خبر ہے ۔ مجھے تو آپکے آنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن بڑا بیٹا احمد ہے نا، وہ ضد کر رہا ہے کہ یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لے گا۔ میرٹ تو اس کا بنا نہیں مگر سیلف فنانس سے داخلہ مل ہی جائے گا۔ کہتا ہے کہ جن کے ابو باہر ہوتے ہیں سب یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لیتے ہیں۔ پہلے سال چار لاکھ فیس ہے اور اگلے تین سال میں ہر سال تین تین لاکھ۔ اور ہم نے پتہ کروایا ہے تو یونیورسٹی والے انسٹالمنٹ میں فیس بھرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔ اس ماہ کی ۳۰ تک فیس کی پہلی قسط بھرنی پڑے گی،​ آپکے جواب کی منتطر ، آپکی پیاری جان۔ زہرہ​
اس نے بیٹے کی پڑھائی کے لیے ساری رقم بھیج دی۔ بیٹی کی شادی کے لیے جہیز اور دیگر اخراجات بھیجے۔ مگر اب ستائیس سال ہو چکے تھے۔ وہ خود کو ائر پورٹ کی طرف گھسیٹ رہا تھا۔ شوگر، بلڈ پریشر، السر ،گردے و کمر کا درد اورجھریوں والا سیاہ چہرا اس کی کمائی تھا۔ اسے اچانک اپنی جیب میں کسی چیز کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ ایک ان کھلا خط تھا۔​
یہ وہ پہلا خط تھا جو اس نے اپنی پردیس کی زندگی میں نہیں کھولا ۔

Monday, 4 December 2017

فری لانسنگ کے لیے بہترین پلیٹ فارمز

Upwork

اس ویب سائٹ کا قیام 2015 میں دو مشہور ویب سائٹس oDesk اور Elance کے اشتراق کے بعد ہوا۔ یہ اس وقت دنیا میں سب سے بڑی ویب سائٹ ہے، کمائی کے اعتبار سے بھی اور کام کے لحاظ سے بھی۔ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کلائنٹس (clients) اپنے کام کی تفصیل مہیا کرتے ہیں اور فری لانسرز ان پر اپنے پروپوزلز ارسال کرتے ہیں، جس کا پروپوزل کلائنٹ کو پسند آجائے اسے کام مل جاتا ہے۔
کام کرنے کی نوعیت دو طرح کی ہوتی ہے۔ یا تو پورے کام کی ایک مقررہ قیمت طے کر لیں یا گھنٹوں کے حساب سے پیسے چارج کریں۔ البتہ دونوں صورتوں میں کام کرنے کے پیسے بروقت ملیں گے۔ اگر کسی وجہ سے کلائنٹ پیسے نہیں دیتا تو Upwork اس معاملے میں آپ کو پورا تعاون فراہم کرے گا۔

Fiverr

اس وقت Fiverr دنیا کی دوسری بڑی ویب سائٹ بن چکی ہے. کام ڈھونڈھنے کے اعتبار سے Fiverr ،Upwork سے قدرے مختلف ہے۔ یہاں پر آپ اپنے کام کی ایک سروس بناتے ہیں جسے gig کہا جاتا ہے۔ Gig میں آپ اپنے کام کی نوعیت اور قیمت وغیرہ کی تفصیل بیان کرتے ہیں، ہر gig کی کم سے کم قیمت $5 ہوتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اس سے ذیادہ نہیں کما سکتے۔ جتنا بڑا کام ہوگا اس کے پیسے بھی اسی مناسبت سے طے کر لیے جائیں گے۔ یہاں پیسے کے معاملات کی فکر کرنے کی بالکل ضرورت نہیں کیونکہ کام کے آغاز میں ہی Fiverr کلائنٹ سے سارے پیسے وصول کر لے گا اور کام ختم ہونے کے بعد آپ کے پیسے آپ کے اکاؤنٹ میں شامل ہو جائیں گے۔
ان دو ویب سائٹس کے علاوہ فری لانسنگ کےلیے بہترین ویب سائٹس Freelancer.com ،Peopleperhour.com اور Guru.com ہیں۔ ان تینوں ویب سائٹس پر بھی کام وافر مقدار میں موجود ہے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ اس وقت سینکڑوں فری لانسنگ ویب سائٹس موجود ہیں۔ کسی بھی ویب سائٹ پر کام کرنے سے پہلے بس دو چیزیں مدِنظر رکھیں۔ ایک تو یہ کہ روزانہ کی بنیاد پر کتنی جابس پوسٹ ہوتی ہیں، اور دوسرا کیا کام کے پیسے ملتے ہیں یا نہیں۔ ساتھ ہی اس ویب سائٹ کی Terms of service بھی پڑھنی چاہیے۔ عمومی طور پر کام کرنے کا طریقہ کار تو ایک سا ہوتا ہے لیکن پھر بھی ہر ویب سائٹ کی اپنی پالیسی ہوتی ہے، اگر اس پر عمل نہ کیا جائے تو ویب سائٹ آپ کا اکاؤنٹ بند کرسکتی ہے۔
آخر میں ایک اور غلط فہمی دور کرنا چاہوں گا کہ فری لانسنگ صرف ڈویلپمنٹ (development)، ڈیزائنگ(designing) اور لکھنے (writing) کے کام تک محدود نہیں۔ یقیناً ان کاموں کی ڈیمانڈ اور قیمت زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سے آسان کام ہیں جنہیں کرکے اچھی کمائی کی جا سکتی ہے۔

Sunday, 3 December 2017

Salsabeel : ’25 سال قبل صرف بابری مسجد نہیں ٹوٹی بلکہ بہت کچھ ...

Salsabeel : ’25 سال قبل صرف بابری مسجد نہیں ٹوٹی بلکہ بہت کچھ ...: BBC URDU رام دت ترپاٹھی سینیئر صحافی، انڈیا 25 سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود چھ دسمبر کی یاد آتے ہی میں خود کو مان...

’25 سال قبل صرف بابری مسجد نہیں ٹوٹی بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘

25 سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود چھ دسمبر کی یاد آتے ہی میں خود کو مانس بھون کی چھت پر پاتا ہوں اور بابری مسجد کے انہدام کا پورا منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔
مانس بھون وہی دھرم شالہ جہاں میں اس واقعے سے دس سال قبل سنہ 1982 میں ایک بار ٹھہرا تھا۔ ایک صحافی دوست نے متنازع بابری مسجد دکھائی تھی جس کے باہری حصے میں ایک چبوترے پر کیرتن بھجن ہوتا تھا اور لوگ ’سیتا رسوئی‘ (سیتا کے کچن) اور رام کے ’کھڑاون‘ کے خیالی مقامات کے سامنے سر جھکاتے تھے۔
اس رام چبوترے پر طویل عرصے سے رامانندی فرقے کے نرموہی اکھاڑے کا قبضہ تھا۔ نرموہی اکھاڑا سوا سو سال سے زائد عرصے سے وہاں مندر کی تعمیر کے لیے قانونی جنگ لڑ رہا تھا۔
مسجد کے اندر سنہ 1949 میں 22 اور 23 دسمبر کی درمیانی شب ضلع مجسٹریٹ کی مدد سے رام کی بچپن کی مورتی رکھی گئی۔
اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے مسجد سے مورتی ہٹانے کا حکم دیا لیکن ضلع مجسٹریٹ نے اس پر عمل کرنے سے انکار کردیا۔
اسی وقت سے عدالت نے مسجد سیل کر کے نگران تعینات کر دیا۔ باہر پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گيا اور عدالت کا مقرر کردہ پجاری وہاں پوجا کیا کرتا تھا۔
سنگھ پریوار یعنی ہندوتوا کے نظریات کی حامل جماعتیں طویل عرصے سے ایسے مسئلے کی تلاش میں تھیں جس کے ذریعہ ذات پات میں منقسم ہندو برادری کو یکجا کیا جا سکے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اسی مقصد کے تحت سنہ 1984 میں رام جنم بھومی کی آزادی کی تحریک شروع کی گئی تھی۔
اس مہم کی وجہ سے یکم فروری سنہ 1986 میں عدالت نے متنازع احاطے کے تالے کھلوئے۔ جواب میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔
دریں اثنا معاملہ ضلع عدالت سے نکل کر لکھنؤ ہائی کورٹ تک پہنچ گیا۔
سنہ 1989 کے عام انتخابات سے قبل مصالحت کی امید میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے مسجد سے تقریبا 200 فٹ کے فاصلے پر رام مندر کا سنگ بنیاد رکھوا دیا۔
راجیو گاندھی کو انتخابات میں شکست ہوئی جبکہ وی پی سنگھ اور چندرشیکھر کی حکومت میں بھی مصالحت کی تمام تر کوششیں بے کار ثابت ہوئیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی نے گجرات کے سومناتھ مندر سے رام مندر کے لیے رتھ یاترا نکال کر سیاسی طوفان کھڑا کر دیا۔
سنہ 1991 میں کانگریس ایک بار پھر دہلی میں بر سر اقتدار آئی اور پی وی نرسمہا راؤ وزیر اعظم بنے لیکن رام مندر کی تحریک کے طفیل انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں پہلی بار کلیان سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت بنی۔
کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا کہ وہ مسجد کی حفاظت کریں گے جس کے بعد عدالت نے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کو علامتی کار سیوا کی اجازت دے دی۔
دوسری جانب وی ایچ پی اور بی جے پی کے رہنماؤں نے ملک بھر میں گھوم گھوم کر لوگوں سے بابری مسجد کو نیست نابود کرنے کی قسم لی تھی۔
ان کی حوصلہ افزائی کے لیے کلیان سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ پولیس کار سیوکوں پر فائرنگ نہیں کرے گی۔
اس سے قبل سنہ 1990 میں ملائم سنگھ یادو نے کار سیوکوں پر فائرنگ کرائی تھی اور مسجد کی حفاظت کی تھی۔
کلیان سنگھ حکومت نے متنازع کیمپس کے قریب مجوزہ رام پارک کی تعمیر کے لیے وی ایچ پی کو 42 ایکڑ زمین دے دی تھی۔
اس کے علاوہ سیاحت کے فروغ کے نام پر بہت سے مندروں اور دھرم شالاؤں کی زمین حاصل کرکے اسے ہموار کر دیا گیا تھا اور فیض آباد - ایودھیا شاہراہ سے براہ راست متنازع مقام تک چوڑی سڑک تعمیر کر دی گئی تھی۔
ملک بھر سے آنے والے کارسیوکوں کے قیام کے لیے متازع احاطے سے ملحق شامیانے اور ٹینٹ لگائے گئے تھے۔ انھیں لگانے کے لیے کدال، بیلچے اور رسیاں بھی لائی گئیں جو بعد میں مسجد کے گنبد پر چڑھنے اور اسے توڑنے کے کام میں آئیں۔
مجموعی طور پر متنازع مقام کے آس پاس کے علاقے پر کار سیوکوں کا ہی قبضہ تھا۔ ان لوگوں نے چار پانچ دن قبل ہی بعض قریبی مزاروں کو نقصان پہنچا کر اور مسلمانوں کے مکانوں کو آگ لگا کر اپنی جارحیت کا اظہار کر دیا تھا۔
اس کے باوجود سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مبصر ضلعی جج پریم شنکر گپتا کہہ رہے تھے کہ علامتی کار سیوا پر امن طور پر کرانے کے لیے سارے انتظام اچھی طرح سے کیے گئے ہیں۔
ایک دن قبل یعنی پانچ دسمبر کو وی ایچ پی کے رہنما نے باضابطہ یہ اعلان کیا کہ وہاں صرف علامتی کارسیوا (پوجا) ہوگی۔ فیصلے کے مطابق کارسیوک دریائے سرجو سے پانی اور ریت لے کر آئیں گے اور مسجد سے کچھ فاصلے پر سنگ بنیاد کی جگہ اسے نذر کر کے واپس ہو جائیں گے۔
جیسے ہی اس کا اعلان ہوا کار سیوکوں میں غصہ پھیل گیا۔ جب وی ایچ پی کے اعلیٰ رہنما کارسیوک پورم پہنچے تو مشتعل کارسیوکوں نے انھیں گھیر لیا اور بہت بھلا برا کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ رہنما کچھ بھی کہیں وہ اصلی کارسیوا یعنی مسجد کو منہدم کرکے ہی جائيں گے۔
شام تک کارسیوکوں نے کئی ٹی وی رپورٹرز اور کیمرہ مین کے ساتھ مار پیٹ کی۔
دوسری طرف بی جے پی کے رہنما اٹل بہاری واجپئی نے ایک عام اجلاس میں کارسیوکوں کی یہ کہتے ہوئے حوصلہ افزائی کی کہ سپریم کورٹ نے اس کی اجازت دی ہے۔
واجپئی شام کی ٹرین سے دہلی چلے گئے جبکہ ایل کے اڈوانی اور ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی رات میں وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ سے بات چیت کر کے ایودھیا پہنچ گئے۔
چھ دسمبر کی صبح جہاں ایودھیا میں ’جے شری رام‘ کے نعرے گونج رہے تھے وہیں فیض آباد چھاؤنی کے علاقے میں بڑی تعداد میں مرکزی نیم فوجی دستے اس تیاری میں تھے کہ جیسے ہی بلاوا آئے گا وہ ایودھیا کو کوچ کر دیں گے۔ فوج اور فضائيہ بھی نگرانی پر تعینات تھی۔
یہ ایک حقیقت کہ ریاستی حکومت نے ان کی تعیناتی پر اعتراض کیا تھا۔ یعنی ریاستی حکومت کی جانب سے واضح تھا کہ کار سیوکوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔
مانس بھون کی چھت پر جہاں ہم صحافی یکجا تھے مسجد اس کے بالکل سامنے تھی۔ دائیں طرف پر جنم بھومی (مقام پیدائش) کے مندر کی چھت پر کمشنر، ڈی آئی جی اور پولیس کے اعلی افسر تھے۔
اور مانس بھون کی بائیں جانب رام کتھا کنج میں ایک اجلاس عام رکھا گیا تھا جہاں اشوک سنگھل، اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی اور دیگر رہنما جمع تھے۔

مسجد اور مانس بھون کے درمیان سنگ بنیاد کے مقام کو پوجا کا مقام بنایا گیا تھا جہاں مہنت رام چندر پرمہنس اور دیگر سادھو سنیاسی جمع تھے۔ اسی جگہ پر گیارہ بجے سے علامتی پوجا ہونی تھی۔
آر ایس ایس کے اراکین سر پر زعفرانی پٹی باندھے حفاظت کے لیے تعینات تھے۔ ان کے پیچھے پولیس رسّہ لے کر تیار تھی تاکہ مخصوص لوگ ہی وہاں تک جا سکیں۔
تقریباً 10:30 بجے ڈاکٹر جوشی اور اڈوانی یگیہ کی جگہ پہنچے۔ ان کے ساتھ بہت سے کارسیوک وہاں داخل ہونے لگے۔ پولیس نے روکا لیکن انھوں نے بات نہیں مانی۔
اس کے بعد زعفرانی پٹی والے رضاکاروں نے ان پر لاٹھی چلانی شروع کر دی جس پر وہاں سخت ہلچل نظر آئی۔ دیکھتے دیکھتے سینکڑوں کارسیوک مسجد کی جانب دوڑتے نظر آئے۔ مسجد کی حفاظت کے لیے چاروں جانب لوہے کا جال لگایا گيا تھا۔
پیچھے سے ایک گروپ نے درخت پر رسّہ پھینک کر مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ وی آئی پی کے لیے تعینات پولیس نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی لیکن چند ہی منٹوں میں ایک ایک کرکے بہت سے کارسیوک مسجد کے گنبد پر نظر آنے لگے۔
انھیں دیکھ کر یہ نعرے گونجنے لگے: ’ایک دھکا اور دو، بابری مسجد کو توڑ دو۔‘




جلسہ گاہ سے اشوک سنگھل اور دیگر رہنماؤں نے کار سیوکوں سے نيچے اترنے کی اپیل بھی کی لیکن ان کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
کدال، بیلچہ جس کے ہاتھ جو سامان آیا اسی سے گنبد توڑنے لگا۔ بعض ہاتھوں سے ہی چونے سرخی سے بنی اس عمارت کو توڑنے لگے۔
اور مسجد کی حفاظت پر تعینات مسلح سکیورٹی فورسز کندھے پر رائفلیں لٹکائے باہر نکل آئے۔ سارے افسران لاچار کھڑے تماشائی تھے۔
اسی دوران کارسیوکوں کے ایک گروپ نے آس پاس کے سارے ٹیلی فون تار کاٹ ڈالے۔ ان کا ایک گروپ مانس بھون پر چڑھ آیا اور تصاویر لینے سے منع کرنے لگا۔ میں نے اپنا کیمرہ ایک خاتون صحافی کے بیگ میں چھپا دیا۔
لیکن بہت سے فوٹوگرافروں کے کیمرے کو چھین کر انھیں مارا پیٹا گیا۔
12 بجے تک مسجد توڑنے کا کام اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔
اڈوانی کو یہ خدشہ تھا کہ نیم فوجی مرکزی فورس یا فوج فیض آباد سے آ سکتی ہے۔ لہذا انھوں نے لوگوں سے وہاں سے آنے والی سڑک کو جام کرنے کی اپیل کی۔




کہتے ہیں کہ کلیان سنگھ تک جب یہ خبر پہنچی تو انھوں نے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفی دینے کی پیشکش کی لیکن اڈوانی نے انھیں یہ پیغام دیا کہ جب تک مسجد گر نہ جائے وہ استعفی نہ دیں، کیونکہ استعفی دیتے ہی ریاست مرکز کے کنٹرول میں چلی جائے گی۔
اسی دوران کچھ پجاری رام اور لکشمن کی مورتیاں نکال لائے۔
دیکھتے دیکھتے پانچ بجے تک مسجد کے تینوں گنبد مسمار ہو چکے تھے۔ اس کے بعد ہی کلیان سنگھ نے استعفی پیش کیا۔
شام تک ریاست میں صدر راج نافذ ہو چکا تھا لیکن انتظامیہ کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا کرنا ہے؟ بہر حال کارروائی کے خوف سے کارسیوک چپکے چپکے ایودھیا سے نکلنے لگے۔ بعض لوگ بطور نشانی مسجد کی اینٹ اپنے ساتھ لے چلے۔
اڈوانی، جوشی اور واجپئی جیسے بڑے رہنماؤں نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔
پولیس نے مسجد منہدم کیے جانے پر ہزاروں نامعلوم کار سیوکوں کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا۔ چند منٹ بعد، بی جے پی اور وی ایچ پی کے آٹھ بڑے رہنماؤں کے اشتعال انگیز تقریر کرنے کا مقدمہ دائر کیا گیا۔
وزیراعظم نرسمہا راؤ دن بھر خاموش تھے لیکن شام کو انھوں نے نہ صرف اس واقعے کی مذمت کی بلکہ مسجد کی دوبارہ تعمیر کی بات بھی کی۔
مرکزی حکومت کی ہدایت پر خصوصی ٹرینیں اور بسیں چلائی گئیں، جس سے کارسیوک اپنے گھروں کو جا سکیں اور انتظامیہ بغیر طاقت کا استعمال کیے متنازع مقام پر کنٹرول کر سکے۔






دوسری جانب منہدم مسجد کے ملبے پر ایک گروپ نے ایک عارضی مندر کی تعمیر شروع کر دی اور وہاں مورتیاں رکھ دی گئیں۔
سات دسمبر کی رات تک یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ انتظامیہ کب وہاں اپنا کٹرول قائم کرتی ہے۔ اچانک صبح چار بجے کچھ ہلچل سی نظر آئي۔ جب ایودھ پہنچے تو دیکھا کہ انتظامیہ نے باقی ماندہ چند کارسیوکوں کو بھگا کر عارضی مندر کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
اور نیم فوجی دستے کے سپاہی عقیدت اور احترام میں رام (کے بچپن کی مورتی) کی زیارت کر رہے ہیں اور آشیرواد لے رہے ہیں۔
ہم نے بھی کچھ تصاویر لیں اور افسروں سے بات کی۔
بی بی سی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مسجد کے منہدم ہونے اور متنازع مقام پر انتظامیہ کے کنٹرول کی خبر سب سے پہلے اسی نے دی۔
اب اگر آپ چھ دسمبر کے پورے واقعے پر نظر ڈالیں تو آپ پائیں گے کہ اس دن صرف بابری مسجد نہیں توٹی بلکہ اس دن ہندوستان کے آئین کی تینوں شاخ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کی ساکھ بھی ٹوٹ گئی۔
طاقت کو تقسیم کرنے کی وفاق کا مفروضہ ٹوٹا، قانون کی حکمرانی کی بنیاد ٹوٹی، جمہوریت کا چوتھا ستون یعنی میڈیا بھی کارسیوکوں کے حملے کا شکار ہوا اور اس کے ساتھ ہی سنگھ پریوار کا ڈسپلین کا دعوی بھی ٹوٹا۔
ہر چیز کے ٹوٹنے کے باوجود گذشتہ 25 سالوں میں تنازع جوں کا توں ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی ایودھیا کا سرا نظر نہیں آر رہا ہے۔