Tuesday, 5 February 2019
Monday, 4 February 2019
Saturday, 2 February 2019
Friday, 1 February 2019
Wednesday, 23 January 2019
Monday, 21 January 2019
Saturday, 19 January 2019
صحیح بخاری ۔ جلد اول ۔ وحی کا بیان ۔ حدیث 3
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کس طرح شروع ہوئی، اور اللہ تعالیٰ
کا قول کہ ہم نے تم پر وحی بھیجی جس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے
بعد پیغمبروں پر وحی بھیجی ۔
راوی: یحیی بن بکیر , لیث , عقیل , ابن شہاب , عروہ بن زبیر, عائشہ
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ قَالَ أَخْبَرَ نَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ
اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا
الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ فَکَانَ لَا يَرَی رُؤْيَا إِلَّا جَائَتْ
مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَائُ وَکَانَ
يَخْلُو بِغَارِ حِرَائٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ
اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَی أَهْلِهِ
وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِکَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَی خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ
لِمِثْلِهَا حَتَّی جَائَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَائٍ فَجَائَهُ
الْمَلَکُ فَقَالَ اقْرَأْ فَقَالَ فَقُلْتُ مَا
أَنَا بِقَارِئٍ قَالَ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّی بَلَغَ مِنِّي
الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ قُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ
فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّی بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ
أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ قَالَ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي
الثَّالِثَةَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِي
خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ
فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
يَرْجُفُ فُؤَادُهُ فَدَخَلَ عَلَی خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رَضِيَ
اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزَمَّلُوهُ حَتَّی
ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ لِخَدِيجَةَ وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ
لَقَدْ خَشِيتُ عَلَی نَفْسِي فَقَالَتْ خَدِيجَةُ کَلَّا وَاللَّهِ مَا
يُخْزِيکَ اللَّهُ أَبَدًا إِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ
وَتَکْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَی نَوَائِبِ
الْحَقِّ فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّی أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ
نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی ابْنَ عَمِّ خَدِيجَةَ وَکَانَ
امْرَأً تَنَصَّرَ
فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَکَانَ يَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعِبْرَانِيَّ
فَيَکْتُبُ مِنْ الْإِنْجِيلِ بِالْعِبْرَانِيَّةِ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ
يَکْتُبَ وَکَانَ شَيْخًا کَبِيرًا قَدْ عَمِيَ فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ
يَا ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَخِيکَ فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ يَا
ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَی فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَأَی فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ هَذَا
النَّامُوسُ الَّذِي نَزَّلَ اللَّهُ عَلَی مُوسَی يَا لَيْتَنِي فِيهَا
جَذَعًا يَا لَيْتَنِي أَکُونُ حَيًّا إِذْ يُخْرِجُکَ قَوْمُکَ فَقَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ
قَالَ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا
عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِکْنِي يَوْمُکَ أَنْصُرْکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ثُمَّ
لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ وَفَتَرَ الْوَحْيُ قَالَ ابْنُ
شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ
جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ
فَتْرَةِ الْوَحْيِ فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ
سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَائِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي فَإِذَا الْمَلَکُ
الَّذِي جَائَنِي بِحِرَائٍ جَالِسٌ عَلَی کُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَائِ
وَالْأَرْضِ فَرُعِبْتُ مِنْهُ فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِي
زَمِّلُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ
فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّر وَثِيَا
بَکَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ فَحَمِيَ الْوَحْيُ وَتَتَابَعَ
تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ وَأَبُو صَالِحٍ وَتَابَعَهُ
هِلَالُ بْنُ رَدَّادٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَقَالَ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ
بَوَادِرُهُ
یحیی
بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، عروہ بن زبیر ام المومنین حضرت عائشہ رضی
اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلی وحی
جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اترنی شروع ہوئی وہ اچھے خواب
تھے، جو بحالت نیند آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھتے تھے، چنانچہ جب بھی
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر
ہوجاتا، پھر تنہائی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محبت ہونے لگی اور
غار حرا میں تنہا رہنے لگے اور قبل اس کے کہ گھر والوں کے پاس آنے کا شوق
ہو وہاں تحنث کیا کرتے، تحنث سے مراد کئی راتیں عبادت کرنا ہے اور اس کے
لئے توشہ ساتھ لے جاتے پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس واپس
آتے اور اسی طرح توشہ لے جاتے، یہاں تک کہ جب وہ غار حرا میں تھے، حق آیا،
چنانچہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور کہا پڑھ، آپ نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ
میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرتے ہیں کہ مجھے
فرشتے نے پکڑ کر زور سے دبایا، یہاں تک کہ مجھے تکلیف محسوس ہوئی، پھر مجھے
چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! میں
نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، پھر دوسری بار مجھے پکڑا اور زور سے دبایا،
یہاں تک کہ میری طاقت جواب دینے لگی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! میں
نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ
تیسری بار پکڑ کر مجھے زور سے دبایا پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! اپنے
رب کے نام سے جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، پڑھ اور تیرا رب
سب سے بزرگ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دہرایا اس حال
میں کہ آپ کا دل کانپ رہا تھا چنانچہ آپ حضرت خدیجہ بنت خویلد کے پاس آئے
اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو، تو لوگوں نے کمبل
اڑھا دیا، یہاں تک کہ آپ کا ڈر جاتا رہا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
سے سارا واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے، حضرت خدیجہ
رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ آپ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم تو صلہ رحمی کرتے ہیں، ناتوانوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں، محتاجوں
کے لئے کماتے ہیں، مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں
مصیبتیں اٹھاتے ہیں، پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسید بن عبدالعزی کے پاس گئیں جو حضرت
خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چچا زاد بھائی تھے، زمانہ جاہلیت میں
نصرانی ہوگئے تھے اور عبرانی کتاب لکھا کرتے تھے۔چنانچہ انجیل کو عبرانی
زبان میں لکھا کرتے تھے، جس قدر اللہ چاہتا، نابینا اور بوڑھے ہوگئے تھے،
ان سے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا اے میرے چچا زاد بھائی اپنے
بھتیجے کی بات سنو آپ سے ورقہ نے کہا اے میرے بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو؟ تو
جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا تھا، بیان کر دیا، ورقہ
نے آپ سے کہا کہ یہی وہ ناموس ہے، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ
السلام پر نازل فرمایا تھا، کاش میں نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت تک زندہ
رہتا، جب تمہاری قوم تمہیں نکال دے گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا! کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا، ہاں! جو
چیز تو لے کر آیا ہے اس طرح کی چیز جو بھی لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی،
اگر میں تیرا زمانہ پاؤں تو میں تیری پوری مدد کروں گا، پھر زیادہ زمانہ
نہیں گذرا کہ ورقہ کا انتقال ہوگیا، اور وحی کا آنا کچھ دنوں کے لئے بند
ہوگیا، ابن شہاب نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بیان کیا کہ
جابر بن عبداللہ انصاری وحی کے رکنے کی حدیث بیان کر رہے تھے، تو اس حدیث
میں بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان فرما رہے تھے کہ ایک
بار میں جا رہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنی، نظر اٹھا کر دیکھا تو وہی
فرشتہ تھا، جو میرے پاس حرا میں آیا تھا ، آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر
بیٹھا ہوا تھا، مجھ پر رعب طاری ہوگیا اور واپس لوٹ کر میں نے کہا مجھے
کمبل اڑھا دو مجھے کمبل اڑھا دو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، (يٰا اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ Ą وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ Ǽ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ Ć ) اے
کمبل اوڑھنے والے اٹھ اور لوگوں کو ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور
اپنے کپڑے کو پاک رکھ اور ناپاکی کو چھوڑ دے ، پھر وحی کا سلسلہ گرم ہوگیا
اور لگاتار آنے لگی۔ عبداللہ بن یوسف اور ابو صالح نے اس کے متابع حدیث
بیان کی ہے اور ہلال بن رواد نے زہری سے متابعت کی ہے، یونس اور معمر نے
فوادہ کی جگہ بوادرہ بیان کیا۔
Friday, 18 January 2019
Monday, 31 December 2018
2019
On this New Year, may you change your direction and not dates, change your commitments and not the Calendar, change your attitude and not the actions, and bring about a change in your faith, your force and your focus and not the fruit. May you live up to the promises you have made and may you create for you and your loved ones the most Happy New Year ever.
Sunday, 11 November 2018
ڈالر پر پہلی بڑی ضرب ۔۔۔۔۔ !
عمران خان نامی " یہودی ایجنٹ" نے چین کے ساتھ ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں میں لین دین کا معاہدہ کر لیا ہے۔
یہ ڈالر اور ڈالر پر انحصار
کرنے والے امریکہ اور اس کی پشت پناہ یہودی لابی کے لیے کتنا بڑا خطرہ
ثابت ہو سکتا ہے اس کا اندازہ اس سے کیجیے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے عرب
سربراہان سے مل کر ڈالر کے مقابلے میں اسلامی کرنسی بنانے کی کوشش شروع کی
تو اسے راستے سے ہٹا دیا گیا اور پھر عراق پر حملے کی ایک اہم ترین وجہ یہ
بھی تھی کہ صدام حسین نے ڈالر کے بجائے کسی اور کرنسی میں لین دین کرنے کا
فیصلہ کر لیا تھا۔
معمر
قضافی کو القاعدہ کی مدد سے شہید کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ وہ ڈالر کو
ترک کرنا چاہتا تھا گولڈ کی کرنسی ایجاد کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا ۔
پاکستان کے ساتھ کامیاب معاہدے کے بعد چین دنیا کے دوسرے کئی ممالک کے ساتھ یوآن میں لین دین کے معاہدے کر سکتا ہے۔ خیال رہے کہ چین اس وقت 2263 ارب ڈالر کی برآمدات کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا ایکسپوٹر ہے اور حال ہی میں امریکہ کو پیچھے چھوڑتا ہوا دنیا میں تیل کا سب سے بڑا خریدار بھی بن چکا ہے۔
وہ تیل بیچنے والے ممالک سے خاص طور پر سعودی عرب سے مقامی کرنسیوں میں لین دین کا معاہدہ سکتا ہے جس کے ساتھ امریکہ اس وقت بگاڑنے کے موڈ میں ہے۔ اگر چین اور سعودی عرب میں ایسا کوئی معاہدہ ہوا تو ڈالر کی قیمت ایسے گرے گی جیسے تاش کے پتوں کا محل۔
امریکہ نے یورپی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ لین دین کرنے پر پابندیوں کی دھمکی دی ہے جس کے جواب میں یورپی یونین نے ڈالر ترک کرنے کی دھمکی دی ہے۔
روس اس کے لیے پہلے ہی تیار بیٹھا ہے۔
امریکی معیشت کا حال یہ ہے کہ وہ دنیا بھر میں بکھرا ہوا پانچ فیصد ڈالر بھی واپس اپنی معیشت میں جذب نہیں کر سکتا۔
اگر یہ سلسلہ شروع ہوا تو امریکہ معشیت کو مکمل طور پر دیوالیہ ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی جو پہلے ہی قرضوں اور جنگوں کے سہارے چل رہی ہے۔
یا شائد کوئی نئی کرنسی لانچ کریں
:)
یہ ڈالر فراہم کرنے والے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کو بھی تباہ کردے گا۔
عمران خان نے یہ بہت بڑا اور جرات مندانہ معاہدہ کیا ہے جو حقیقی معنوں میں یہودی مفادات پر بہت بڑی ضرب ہے۔ البتہ اس کے اثرات کچھ عرصے بعد نظر آئنگے۔
اب ڈالر کا زوال شروع ہونے کو ہے۔
پاکستان کے ساتھ کامیاب معاہدے کے بعد چین دنیا کے دوسرے کئی ممالک کے ساتھ یوآن میں لین دین کے معاہدے کر سکتا ہے۔ خیال رہے کہ چین اس وقت 2263 ارب ڈالر کی برآمدات کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا ایکسپوٹر ہے اور حال ہی میں امریکہ کو پیچھے چھوڑتا ہوا دنیا میں تیل کا سب سے بڑا خریدار بھی بن چکا ہے۔
وہ تیل بیچنے والے ممالک سے خاص طور پر سعودی عرب سے مقامی کرنسیوں میں لین دین کا معاہدہ سکتا ہے جس کے ساتھ امریکہ اس وقت بگاڑنے کے موڈ میں ہے۔ اگر چین اور سعودی عرب میں ایسا کوئی معاہدہ ہوا تو ڈالر کی قیمت ایسے گرے گی جیسے تاش کے پتوں کا محل۔
امریکہ نے یورپی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ لین دین کرنے پر پابندیوں کی دھمکی دی ہے جس کے جواب میں یورپی یونین نے ڈالر ترک کرنے کی دھمکی دی ہے۔
روس اس کے لیے پہلے ہی تیار بیٹھا ہے۔
امریکی معیشت کا حال یہ ہے کہ وہ دنیا بھر میں بکھرا ہوا پانچ فیصد ڈالر بھی واپس اپنی معیشت میں جذب نہیں کر سکتا۔
اگر یہ سلسلہ شروع ہوا تو امریکہ معشیت کو مکمل طور پر دیوالیہ ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی جو پہلے ہی قرضوں اور جنگوں کے سہارے چل رہی ہے۔
یا شائد کوئی نئی کرنسی لانچ کریں
یہ ڈالر فراہم کرنے والے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کو بھی تباہ کردے گا۔
عمران خان نے یہ بہت بڑا اور جرات مندانہ معاہدہ کیا ہے جو حقیقی معنوں میں یہودی مفادات پر بہت بڑی ضرب ہے۔ البتہ اس کے اثرات کچھ عرصے بعد نظر آئنگے۔
اب ڈالر کا زوال شروع ہونے کو ہے۔
Sunday, 28 October 2018
ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺍﯾﺠﻨﮉ
ﻣﺮﯾﻢ ﻧﻮﺍﺯ ﮐﮯ ﻧﺌﮯ ﺳﻤﺪﮬﯽ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﮯ ﻧﻘﺎﺏ
ﺁﭖ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﭼﻨﺪ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﻏﺰﮦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺑﺪﻧﺎﻡ ﺻﺤﺎﻓﯽ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻧﮯ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺻﺤﺎﻓﯽ ﮨﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮨﻢ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ . ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯽ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺟﺎﺳﻮﺱ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﮯ ﺁﻝ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﺎ ﻟﮍ ﭘﮑﮍﺍ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﺍ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮩﯽ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﻥ ﻟﯿﮓ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻧﻘﺎﺩ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺲ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻗﺒﻠﮧ ﺑﺪﻻ ﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺎﻡ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯽ ﮨﮯ . ﺇﺳﺮﺍﺋﻴﻞ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﻣﯿﺎﮞ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﺳﻮﺳﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﭨﺎﺳﮏ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﮈﺍﻟﺮﺯ ﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﮨﺮ 6 ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺑﯿﻨﮑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﺎﮎ ﻓﻮﺝ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺯﮨﺮ ﻧﮩﯽ ﺍﮔﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﭘﺎﮎ ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﻼﻥ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺍﯾﺠﻨﮉﮮ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭼﯿﻨﻞ ﺟﯿﻮ ﻧﯿﻮﺯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺷﺮﯾﻒ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﻣﻨﮕﻨﯽ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﺳﮯ ﺟﻨﯿﺪ ﺻﻔﺪﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺮﺩﯼ ﯾﻮﮞ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﺷﺮﯾﻒ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﺎ ﺷﺮﯾﮏ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ . ﺷﺮﯾﻒ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﺎ ﺍﯾﺠﻨﭧ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﭘﺎﮎ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﺷﺮﯾﻒ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﻮ ﭨﺎﺳﮏ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﺮ ﭘﺎﮎ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮐﺮﺩﻭ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮﯾﮟ
ﺗﻮ ﭘﺎﮎ ﻓﻮﺝ ﻣﺰﺍﺣﻤﺖ ﻧﺎ ﮐﺮﺳﮑﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮐﮯ ﮐﺮﻡ ﺳﮯ ﻏﯿﺒﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﭘﺎﻧﺎﻣﮧ ﮐﯽ ﺩﻟﺪﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮎ ﻓﻮﺝ ﺷﺮﯾﻒ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﺳﺎﺯﺵ ﺳﮯ ﺑﭻ ﻧﮑﻠﯽ . ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﮐﮯ ﻣﺤﺎﺫ ﭘﺮ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺍﯾﺠﻨﭧ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﮨﮯ
ﺁﭖ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﭼﻨﺪ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﻏﺰﮦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺑﺪﻧﺎﻡ ﺻﺤﺎﻓﯽ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻧﮯ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺻﺤﺎﻓﯽ ﮨﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮨﻢ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ . ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯽ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺟﺎﺳﻮﺱ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﮯ ﺁﻝ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﺎ ﻟﮍ ﭘﮑﮍﺍ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﺍ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮩﯽ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﻥ ﻟﯿﮓ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻧﻘﺎﺩ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺲ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻗﺒﻠﮧ ﺑﺪﻻ ﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺎﻡ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯽ ﮨﮯ . ﺇﺳﺮﺍﺋﻴﻞ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﻣﯿﺎﮞ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﺳﻮﺳﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﭨﺎﺳﮏ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﮈﺍﻟﺮﺯ ﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﮨﺮ 6 ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺑﯿﻨﮑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﺎﮎ ﻓﻮﺝ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺯﮨﺮ ﻧﮩﯽ ﺍﮔﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﭘﺎﮎ ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﻼﻥ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺍﯾﺠﻨﮉﮮ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭼﯿﻨﻞ ﺟﯿﻮ ﻧﯿﻮﺯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺷﺮﯾﻒ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﻣﻨﮕﻨﯽ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﺳﮯ ﺟﻨﯿﺪ ﺻﻔﺪﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺮﺩﯼ ﯾﻮﮞ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﺷﺮﯾﻒ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﺎ ﺷﺮﯾﮏ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ . ﺷﺮﯾﻒ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﺎ ﺍﯾﺠﻨﭧ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﭘﺎﮎ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﺷﺮﯾﻒ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﻮ ﭨﺎﺳﮏ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﺮ ﭘﺎﮎ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮐﺮﺩﻭ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮﯾﮟ
ﺗﻮ ﭘﺎﮎ ﻓﻮﺝ ﻣﺰﺍﺣﻤﺖ ﻧﺎ ﮐﺮﺳﮑﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮐﮯ ﮐﺮﻡ ﺳﮯ ﻏﯿﺒﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﭘﺎﻧﺎﻣﮧ ﮐﯽ ﺩﻟﺪﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮎ ﻓﻮﺝ ﺷﺮﯾﻒ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯽ ﺳﺎﺯﺵ ﺳﮯ ﺑﭻ ﻧﮑﻠﯽ . ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﮐﮯ ﻣﺤﺎﺫ ﭘﺮ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺍﯾﺠﻨﭧ ﻃﻠﻌﺖ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﮨﮯ
Monday, 15 October 2018
ﻭَﻟَﺴَﻮْﻑَ ﻳُﻌْﻄِﻴﻚَ ﺭَﺑُّﻚَ ﻓَﺘَﺮْﺿَﻰ
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺟﺐ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮮ ﺗﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺒﺮﺍﯾﻞ ﮐﭽﮫ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﻮ ﻏﻤﺰﺩﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﮞ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﺍﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﻞ ﺟﮩﺎﮞ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﺭﮦ ﮐﺮﮐﮧ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺳﮑﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮫ ﭘﮧ ﻏﻢ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﮮ ﮨﯿﮟ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺘﺎﻭ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯ ﮐﻞ ﺳﺎﺕ ﺩﺭﺟﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻭﺍﻻ ﺩﺭﺟﮧ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺎﻓﻘﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﭼﮭﭩﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻣﺸﺮﮎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﯽ ﭘﺮﺳﺘﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﭼﻮﺗﮭﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺁﺗﺶ ﭘﺮﺳﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﯾﮩﻮﺩ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﺴﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﺊ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺁﭖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﻭ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺁﭘﮑﮯ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﮯ ﮔﮯ ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﻨﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻻ ﺟﺎﮮ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻏﻤﮕﯿﻦ ﮨﻮﮮ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺍﯾﺴﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺗﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺣﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﺮ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﭘﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﺣﺠﺮﮮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﯿﮑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺩﻥ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﮧ ﺁﮮ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ۔ ﺁﭖ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﮮ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮮ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﭘﺎﯾﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺁﭖ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻞ ﺟﺎﮮ ﺁﭖ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻧﮯ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻧﮯ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﺗﻨﮯ ﺍﻋﻈﯿﻢ ﺷﺤﺼﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﻣﻼ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﻧﮭﯽ ﺟﺎﻧﺎ ﻧﮭﯽ ﭼﺎﮬﯿﺌﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻧﻮﺭ ﻧﻈﺮ ﺑﯿﭩﯽ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯿﺠﻨﯽ ﭼﺎﮬﯿﺌﮯ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﻮ ﺳﺐ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺁﭖ ﺣﺠﺮﮮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﮧ ﺁﺋﯽ " ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﺍﺳﻼﻡ ﻭﻋﻠﯿﮑﻢ" ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﺎﺋﯿﻨﺎﺕ ﺍﭨﮭﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﺁﭖ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺁﭖ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎ ﮨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮮ ﮔﯽ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﯿﭩﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﻏﻢ ﮐﮭﺎﮮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻧﮑﻮ ﻣﻌﺎ ﻑ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﻨﻢ ﺳﮯ ﺑﺮﯼ ﮐﺮ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺁﭖ ﭘﮭﺮ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮨﮕﺎﺭﻭﮞ ﭘﮧ ﺭﺣﻢ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﻮ ﺟﮩﻨﻢ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮ ﮐﮧ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﻢ ﺁﮔﯿﺎ "
ﻭَﻟَﺴَﻮْﻑَ ﻳُﻌْﻄِﻴﻚَ ﺭَﺑُّﻚَ ﻓَﺘَﺮْﺿَﻰ
ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻏﻢ ﻧﮧ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺟﺎﻭ ﮔﮯ ﺁﭖ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮐﮭﻞ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭﺯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺏ ﺭﺍﺿﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺭﺍﺿﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﺎ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺧﺮﯼ ﺍﻣﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﭼﻼ ﺟﺎﮮ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﮮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺁﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﺒﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﺷﻔﯿﻖ ﺍﻭﺭ ﻏﻢ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﺎ ؟ ﺁﭘﮑﺎ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﺍﺱ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺯﺭﯾﻌﮧ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﭖ
ﺳﮯ ﻋﺎﺟﺰﺍﻧﮧ ﺍﭘﯿﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻻﺣﺎﺻﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻣﻘﺼﺪ ﭘﻮﺳﭩﺲ
ﮨﻢ ﺳﺐ ﺷﯿﺌﺮ
ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﺁﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﯽ
ﺭﺣﻤﺖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﭘﮩﻠﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺷﯿﺌﺮ
ﮐﺮﯾﮟ .
ﻭَﻟَﺴَﻮْﻑَ ﻳُﻌْﻄِﻴﻚَ ﺭَﺑُّﻚَ ﻓَﺘَﺮْﺿَﻰ
ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻏﻢ ﻧﮧ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺟﺎﻭ ﮔﮯ ﺁﭖ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮐﮭﻞ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭﺯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺏ ﺭﺍﺿﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺭﺍﺿﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﺎ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺧﺮﯼ ﺍﻣﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﭼﻼ ﺟﺎﮮ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﮮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺁﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﺒﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﺷﻔﯿﻖ ﺍﻭﺭ ﻏﻢ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﺎ ؟ ﺁﭘﮑﺎ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﺍﺱ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺯﺭﯾﻌﮧ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﭖ
ﺳﮯ ﻋﺎﺟﺰﺍﻧﮧ ﺍﭘﯿﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻻﺣﺎﺻﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻣﻘﺼﺪ ﭘﻮﺳﭩﺲ
ﮨﻢ ﺳﺐ ﺷﯿﺌﺮ
ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﺁﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﯽ
ﺭﺣﻤﺖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﭘﮩﻠﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺷﯿﺌﺮ
ﮐﺮﯾﮟ .
Friday, 12 October 2018
لارڈ میکالے سکول سسٹم
میں نے بہت پہلے لکھا تھا کہ میڈیا اور نظام تعلیم صیہونی ان دو چیزوں
سے ہمیں ہرا دیں گے،کیونکہ مجھ سے پہلے بہت پہلے لارڈ میکالے نے برطانوی پارلیمنٹ
سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا " میں نے پورے برصغیر کا سفر کیا ہے اور میں
اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہم تب تک برصغیر کو فتح نہیں کر پائیں گے جب تک
ہم وہاں کے لوگوں کو ان کے کلچر ان کے اجداد کے کارناموں اور ان کی تاریخ
سے دور نہ کر دیں،اور اس کے لیئے ہمیں ان کا نظام تعلیم بدلنا ہوگا انہیں
یہ باور کروانا ہوگا کہ وہ کمتر ہیں اور ہم برتر"
(Lord Macaulay's address to the British parliament on 2nd Feb 1835)
(Lord Macaulay's address to the British parliament on 2nd Feb 1835)
یہ بیکن ہاوس اور اس جیسے متعدد ادارے اس بات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہے
ہیں کہ صیہونی اپنے بڑوں کے بتائے گئے راستوں پر کتنی مستعدی سے عمل پیرا
ہیں۔۔یہ صرف بیکن ہاوس ہی نہیں پورے کا پورا نظام تعلیم ہی زائنیزم کے
شکنجے میں جھکڑا جا چکا ہے۔۔اور ان شاءاللہ میں ماسٹر محمد فہیم امتیاز اس
صیہونی اور شیطانی شکنجے کی گرفت سے وطن عزیز کو چھڑانے اور ہماری آئندہ
نسل کا مستقبل بچانے کے لیئے ہر ممکن حد تک جاوں گا۔۔!!
آپ میں سے جو جو میرا ساتھ دینا چاہے کمنٹ میں بتاتا جائے
آپ میں سے جو جو میرا ساتھ دینا چاہے کمنٹ میں بتاتا جائے
ہم آغاز بیکن ہاوس اور اس کے ذیلی ادارے ایجوکیٹر ہی سے کریں گے،اور ایک
بات یہ کام اتنا آسان نہ ہوگا آپ تمام احباب کا تعاون درکار ہوگا اس جہاد
میں کیونکہ بیکن ہاوس کی سرپرستی ہمارے ہی ملک کی اشرفیہ کا ایک بڑا طبقہ
کر رہا ہے،علاوہ ازیں بیکن ہاوس کو میڈیا کی سپورٹ بھی حاصل ہے،انڈیا،اور
اسرائیل کی فنڈنگ بھی حاصل ہے،سیاسی پناہ بھی حاصل اور بے پناہ وسائل کا
بھی مالک ہے۔۔ایک بات یاد رکھیئے یہ مقابلے کا دور ہے ہر طرف ریس لگی ہوئی
ہے اگر آج بیکن ہاوس کو نہ روکا گیا تو آپکا ہر سکول ہر کالج ہر یونیورسٹی
بیکن ہاوس بن جائے گی۔۔کیونکہ آج بیکن ہاوس اور ایجوکیٹرز جیسے اداروں سے
پڑھے ہوئے لوگ ہی اوپر جا رہے بااختیار صاحب اقتدار بن رہے۔۔میرے خیال میں
میں نے جو بات کی کہ نظام تعلیم کو بدلنے کی ضروت اس کی تہہ تک پہنچ گئے
ہوں گے۔۔یا یوں نہیں تو یہ کہہ لیں ہمیں اپنے معیار بدلنے ہوں گے۔۔اگر ہم
اس میں کامیاب ہو گئے تو سارے بیکن ہاوس اپنی موت آپ مر جائیں گے۔۔۔!!
ہمیں نصاب بدلنا ہوگا،،ہمیں زبان بدلنی ہوگی،،ہمیں سسٹم بدلنا ہوگا،،ہمیں
میرٹ بدلنا ہوگا۔۔یہ سب کیسے بدلنا اور کیوں بدلنا سب کچھ میں لائیو سیشن
یا الگ پوسٹ کی صورت میں بتاوں گا ابھی اس سب کو مختصر بتاوں تو یہ سن لیں
کہ جب گھوٹکی کے پسماندہ سکول اور اسلام آباد میں موجود الائڈ کو ایک جیسا
نصاب،ایک جیسا ماحول،ایک جیسا موقع اور ایک جیسی ذہن سازی میسر آئے گی تو
اصل میرٹ بنے گا،،جب 3 ایکڑ زمین ٹھیکے پر رکھنے والے مزارے کا بیٹا اور
300 ایکڑ کے مالک کا بیٹا ایک ساتھ دوڑیں گے ،ایک جیسے میدان میں،ایک جیسے
شروعاتی اور اختتامی نشان کے ساتھ پھر معلوم ہوگا کس کی ٹانگوں میں کتنا
جوس اور کس کی کھوپڑی میں کتنا دماغ ہے۔۔ورنہ جو ہیرے کیچڑ سے ہی نہ نکل
سکے ان کی قیمت کیا لگنی بس طوطے کی طرح رٹائے ہوئے انگریزی کو معیار
سمجھنے والے،نظریہ پاکستان کو دیوانگی اور وطن عزیز کی بنیاد کو مولویت کی
چھاپ سمجھنے والے ہی ہمارے سروں پر سوار ہوں گے۔۔۔۔!!
بیکن ہاوس پر
اسلام مخالف،پاکستان مخالف، کشمیر مخالف، بھارت نواز اور فوج مخالف
پروپیگنڈا کر کے ملکی دفاع کو کمزور کرنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلانا
آپکی اور ہماری نسلوں،پاکستان کے مستقبل،نظریہ پاکستان کے تحفظ اور مجھے
کہنے دیں کہ ہماری نسلوں کے ایمان تک کو بچانے کے لیئے نہایت ضروری
ہے۔۔ورنہ تو جو تبدیلیاں بتا رہا ہوں وہ واقع دیوانے کا خواب رہ جائیں گی
۔۔۔کیونکہ دریاوں کا رخ موڑنے کے لیئے پہلے بند باندھے جاتے ہیں۔لارڈ
میکالے کے ایک سکول کو مثال بنانے میں ہمارا ساتھ دیں ان شاءاللہ نیکسٹ
ورکنگ کی ڈائریکشن ہم دیں گے آپ کو اور تب تک جہاد کرتے رہیں گے جب تک لارڈ
میکالے سکول سسٹم کی جگہ غزوہ ہند کے مجاہدین کے تعلیمی ادارے اور تربیت
گاہیں نہ لے لیں۔۔جو واقعتاً ہماری نئی نسل سے صلاح الدین ایوبی،محمد بن
قاسم،اور سلطان محمد فاتح
تیار کر کے نکالیں۔۔۔!!
تیار کر کے نکالیں۔۔۔!!
Thursday, 4 October 2018
بیکن ہاؤس سکول اور ریاست کو شکست
بیکن ہاؤس سکول سسٹم میں جو گند نوجوان طلبہ کے ذہن میں پاکستان اور
ریاستی اداروں کے خلاف بھرا جا رہا ہے. اس کے خلاف سوشل میڈیا پر بھرپور
مہم چلائی جانی چاہیے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف ( بھلائی ) کا حکم
دو اور منکر ( برائی ) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا
عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے“۔
(جامع ترمذی، ۲۱۶۹)
حکومت کو چاہیے کہ پرائویٹ اداروں کہ لیے کچھ اصول و ضوابط مقرر کریں کہ وہ اپنی من مانی ترق کر دیں۔۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تعلیمی نظام کا اسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے مخلوط تعلیمی نظام میں آزادی کہ نام پہ یہ معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہو رہا ہے
ملک میں یکساں نظام تعلیم اور بچوں اور بچیوں کہ لیے الگ الگ ادارے بنائے جانے چاہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ پرائویٹ اداروں کہ لیے کچھ اصول و ضوابط مقرر کریں کہ وہ اپنی من مانی ترق کر دیں۔۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تعلیمی نظام کا اسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے مخلوط تعلیمی نظام میں آزادی کہ نام پہ یہ معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہو رہا ہے
ملک میں یکساں نظام تعلیم اور بچوں اور بچیوں کہ لیے الگ الگ ادارے بنائے جانے چاہیں۔
"
کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی "سکول" کسی ریاست کو شکست دے دے؟؟
کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی "سکول" کسی ریاست کو شکست دے دے؟؟
بیکن ھاؤس کا نام سب سے پہلے سوشل میڈیا پر تب گردش میں آیا جب وہاں موجود
طالبات نے اپنے خون آلود پیڈز اور زیر جامے دیواروں پر چسپاں کر کے اپنی "
آزادی " کا مظاہرہ کیا۔
پھر وہاں طلباء و طالبات کی مخلوط ڈانس محفلوں کی تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بنیں۔
پھر وہاں کے پڑھائے جانے والے نصابی کتب کے سکرین شاٹس شیر ہوئیں جن میں
پاکستان کے ایسے نقشے تھے جہاں مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے علاوہ گلگت
بلتستان کو بھی انڈیا کا حصہ دکھایا گیا تھا اور ان کتابوں میں ان کو "
انڈین سٹیٹس" لکھا گیا تھا۔
اور یہ معاملہ کسی ایک کتاب تک محدود نہیں تھا بلکہ تقریباً تمام کلاسسز کی تمام کتابوں میں تھے جن کے خلاف سوشل میڈیا، میڈیا حتی کہ سپریم کورٹ کے احکامات بھی بے اثر ثابت ہوئے۔
اور یہ معاملہ کسی ایک کتاب تک محدود نہیں تھا بلکہ تقریباً تمام کلاسسز کی تمام کتابوں میں تھے جن کے خلاف سوشل میڈیا، میڈیا حتی کہ سپریم کورٹ کے احکامات بھی بے اثر ثابت ہوئے۔
بیکن ھاؤس کے خلاف سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے والے بیکن ھاؤس کے سابق ملازم
ارمغان حلیم صاحب کو اس قسم کے مواد کے خلاف آواز اٹھانے زدوکوب کیا گیا
اور قتل تک کی دھمکیاں ملیں۔
بیکن ھاؤس اور اس کے ذیلی ادارے " دی
ایجوکیٹر " میں انڈین سرمایہ کاری کا انکشاف ہوا۔ 1996ء میں ان سکولوں میں
ورلڈ بینک کے ذیلی ادارے " انٹرنیشنل فائنیس گروپ " نے براہ راست کئی ملین
ڈالر کی سرمایہ کی۔
بیکن ھاؤس پاکستان کا سب سے مہنگا سکول ہے۔
ایک اندازے کے مطابق بیکن ھاؤس ماہانہ 5 تا 6 ارب اور سالانہ 60 تا 70 ارب روپیہ پاکستانیوں سے نچوڑتا ہے۔
یہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمد قصوری کی بیگم نسرین قصوری کی
ملکیت ہے جن کو ان کا بیٹا قاسم قصوری چلاتا ہے۔ یہ خاندان اس تعلیمی ادارے
کی بدولت کھرب پتی بن چکا ہے۔
خورشید محمد قصوری وہی صاحب ہیں جس
نے پندرویں آئینی ترمیم ( شریعہ بل ) کے خلاف احتجاج استعفی دیا تھا۔ (
شائد اسلام سے نفرت اس پورے خاندان کے خون میں شامل ہے )
لبرل ازم
کا علمبرادار " بیکن ھاؤس ہر سال پاکستانی سوسائیٹی میں اپنے تربیت یافتہ
کم از کم 4 لاکھ طلبہ گھسیڑ رہا ہے۔ یہ طلبہ پاکستان کے اعلی ترین طبقات سے
تعلق رکھتے ہیں جن میں سرکاری اداروں کے بڑے بڑے بیوروکریٹ، صحافی،
سیاستدان، بزنسمین اور وڈیرے شامل ہیں۔
پاکستانی معاشرے میں سرائیت
کرنے والے ان طلباء کی اکثریت تقریباً لادین ہے۔ وہ ان تمام نظریات اور
افکار کا تمسخر اڑاتے نظر آتے ہیں جن پر نہ صرف ہمارا معاشرہ کھڑا ہے بلکہ
جن کی بنیاد پر پاکستان بنایا گیا تھا۔ حد یہ ہے کہ ان طلباء کی اکثریت کو
اردو سے بھی تقریباً نابلد رکھا جاتا ہے۔ (جو اسلام کے بعد پاکستان کو جوڑے
رکھنے والا دوسرا اہم ترین جز ہے۔
:) )
پاکستان کے اعلی ترین طبقے سے تعلق رکھنے والے ان طلباء کی اکثریت بڑی
تیزی سے پاکستان میں اہم ترین پوزیشنیں سنبھال رہی ہے۔ اسی طبقے کا ایک بڑا
حصہ فوج میں بھی جارہا ہے جو ظاہر ہے وہاں سپاہی بھرتی ہونے کے لیے نہیں
جاتا۔
اگر بیکن ھاؤس اسی رفتار سے کام کرتا رہا تو آنے والے پانچ
سے دس سالوں میں پاکستان ایک لبرل ریاست بن چکا ہوگا جس کے بعد اس کے وجود
کو پارہ پارہ ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔
مشہور زمانہ گرفتار شدہ ملعون آیاز نظامی کے الفاظ شائد آپ کو یاد ہوں کہ ۔۔
۔۔ " ہم نے تمھارے کالجز اور یونیوسٹیز میں اپنے سلیپرز سیلز ( پروفیسرز
اور لیکچررز ) گھسا دئیے ہیں۔ جو تمھاری نئی نسل کے ان تمام نظریات کو
تباہ و برباد کر دینگے جن پر تم لوگوں کا وجود کھڑا ہے۔ انہیں پاکستان کی
نسبت پاکستان کے دشمن زیادہ سچے لگیں گے۔ وہ جرات اظہار اور روشن خیالی کے
زعم میں تمھاری پوری تاریخ رد کردینگے۔ انہیں انڈیا فاتح اور تم مفتوح لگو
گے۔ انہیں تمھارے دشمن ہیرو اور خود تم ولن نظر آؤگے۔ انہیں نظریہ پاکستان
خرافات لگے گا۔ اسلامی نظام ایک دقیانوی نعرہ لگے گا اور وہ تمھارے بزرگوں
کو احمق جانیں گے۔ وہ تمھارے رسول پر بھی بدگمان ہوجائینگے حتی کہ تمھارے
خدا پر بھی شک کرنے لگیں گے"
بیکن ھاؤس نے " تعلیم " کے عنوان سے
پاکستان کے خلاف جو جنگ چھیڑ رکھی ہے اس کو روکنے میں میڈیا اور سپریم کورٹ
دونوں ناکام نظر آرہے ہیں۔
اس " عفریت " کو اب عوام ہی زنجیر ڈال سکتے ہیں۔ یہ کام ہم سب نے ملکر کرنا ہے۔
بیکن ھاؤس کے حوالے سے جلد ہی دوبارہ نہ صرف سپریم کورٹ سے رجوع کیا
جائیگا بلکہ محب وطن میڈیا چینلز اور حکومت وقت سے بھی اس حوالے سے کاروائی
کا مطالبہ کیا جائیگا۔
اس جنگ میں ہمارا ساتھ دیں اور اس مضمون کو کاپی کر کے اپنے اپنے پیجز اور ٹائم لائنز پر شیر کریں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)



